Tania Tahir . Novels

Directions Website

Tania Tahir . Novels بس ویسے ہی لکھ لیتی ہوں 🤭🤭🤭

طلب یار تانیہ طاہر قسط 3۱بارہ بجنے والے تھے جس وقت نشوہ نے منہا کے کمرے کا دروازہ ناک کیا جہانگیر ابھی تک واپس نہیں آیا ...
10/10/2026

طلب یار
تانیہ طاہر
قسط 3۱
بارہ بجنے والے تھے جس وقت نشوہ نے منہا کے کمرے کا دروازہ ناک کیا جہانگیر ابھی تک واپس نہیں آیا تھا اور منہا سونے کی تیاری کر رہی تھی جب دروازہ ناک ہوا۔۔
کون" وہ پوچھتی دروازہ وا کر گئی۔
چلو میرے ساتھ" نشوہ نے جلدی سے کہا
کہاں؟" منہا نے روکتے سوال کیا
عون کا برتھ ڈے ہے بارے بجے ہمیں وش کرنا ہے" نشوہ کی بات پر منہا نے قدم روکے۔
مجھے نہیں جانا" منہا نے اسسے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
کیوں؟" نشوہ نے آنکھیں گھمائیں
یہ سب ٹھیک نہیں ہے نشوء۔۔۔ اس طرح کر کے فائدہ کیا ہو رہا ہے ۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ عون اپنی زندگی میں خوش ہیں میں کیوں اہنی زندگی تباہ کر رہی ہو۔۔۔ یہ میری غلطی تھی جو مجھے انسے محبت ہوئی ۔۔اور میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتی ہوں" منہا نے سکون سے کہا وہ پہلی بار اہنے فیصلے پر جم کر کھڑی ہوئی تھی۔
کیا بولے جا رہی ہو؟ اتنی محنت جو کی تھی وہ پیچھے ہٹنے کے کیے کی تھی؟" نشوہ نے غصے سے کہا
آج تک ہر ایفرٹ کا رزلٹ زیرو ہے نشوہ۔۔۔ پھر کیوں میں اپنی اینرجی ایک ایسی چیز پر خرچ کروں جو میری ہے ہی نہیں" منہا نے بے بسی سے کہا
کیا تم نے کبھی اظہار کیا ؟ نہیں ناں پھر کیوں ہمت ہار رہی ہو" نشوہ غرائی
جہانگیر کا ان سب میں کیا قصور ہے وہ کیوں میری وجہ سے ہرٹ ہوں" منہا نم لہجے میں کہا
اور پھر ۔۔۔ سب کتنا غلط سمجھنے لگے ہیں مجھے۔۔۔ ابرش وہ آج کس طرح بی ہیو کر رہی تھی" منہا نے کہا
ایک منٹ۔۔۔ اندر چلو" نشوہ اسے لیے اسکے کمرے میں آئی ۔۔۔
دیکھو۔۔۔ میں بھی یہی بات کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔ سب سے پہلے ابرش کو سائیڈ میں کرو۔۔۔ سب سے زیادہ کام وہی خراب کر رہی ہے۔۔۔ وہ ماہیر کی ایک سٹرونگ بیک ہے۔۔۔اور اسکی موجودگی میں وہ عون عباس کی ساری توجہ ماہیر کی طرف رکھنے کی کوشش میں رہے گی۔۔۔ اسے بیچ سے ہٹاو۔۔ ماہیر خود ہی بے وقت ہو جائے گی سارا کانفیڈینس زیرو۔۔۔ پھر عون عباس کو اپنی طرف مائل کرنا اور پھر اظہار محبت" نشوہ نے اسے سمجھایا۔
ماہیر کی جب کوئی ویلیو ہی نہیں رہے گی تو عون بھی تمہاری محبت کو ایکسیپٹ کر کے گا" نشوہ نے سمجھایا۔
مجھے آج ابرش کی بات بہت بری لگی" منہا نے خفگی سے کہا
ہاں تو لگنی بھی چاہیے۔۔۔ اسکی جرت کیسے ہوئی تمہیں ایسے کہنے کی۔۔۔ اپنے بھائی سے بات کرو۔۔۔وہ شادی کی بات کرے۔۔ جب تک یہ یہاں رہے گی۔۔ ہر معاملے نیں ٹانگ اڑائے گی۔۔۔ قور ماہیر کو سپورٹ کرے گی۔۔۔ اسکی سپورٹ نے ہی تو ماہیر کو کانفیڈینس دیا یے اور عون کو ماہیر کی طرف متوجہ کیا ہے" نشوہ نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
بھیا سے کیا بات کرو میں" منہا نے حیرت ذدہ ہو کر پاچھا۔۔
انہیں بتاو ۔۔ یہ تمہارے ساتھ بد تمیزی کرتی ہے، لڑکوں کے ساتھ پھرتی ہے۔۔ اور یہ سچ بھی یے۔۔۔ آئے روز یونی کا کوئی لڑکا اسے ڈراپ کر رہا ہوتا ہے" نشوہ نے آنکھیں گھما کر کہا منہا نے حیرت سے اسے دیکھا
کیا یہ سچ ہے؟" منہا کے سوال پر نشوہ کو اپنا پلین کامیاب ہوتے نظر آیا
ہاں ناں۔۔۔ تم تو کمرے سے نکلتی نہیں ہو۔۔۔ لان میں جاو تو پتا چلے۔۔۔ میں تو اکثر ٹیرس پر ہوتی ہوں تو مجھے پتا ہے۔۔۔ کل بھی کسی لڑکے نے ڈراپ کیا ہے " نشوہ نے جلدی سے کہا منہا آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی
ہاشم بھیا کو یہ سب نہیں پسند۔۔۔ وہ تو بہت ناراض ہوں گے اس بات پر " منہا نے پریشانی سے کہا
اچھا ہے اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں۔۔ ابرش کو بھی لگامیں ڈلیں تو تمہارے معاملات درست ہوں" نشوہ کہتی زبرستی رات کے اس پہر ہاشم رضا کو کال ملا گئی تھی۔۔ منہا کو سوچنے کا موقع دیے بغیر نشوہ نے ایسی ہڑبونگ مچائی اور پھر خود ہی اسکے موبائل سے کال ملا گئی۔۔
ہیلو۔۔۔ منہا خیریت اس ٹائم کال کی" ہاشم کی گھمبیر آواز گونجی
جی ۔۔۔ بھیا کیسے ہیں؟" منہا گڑبڑاتی بولی
میں ٹھیک ہوں۔۔تم کیسی ہو کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو؟" ہاشم کے لہجے میں ہریشانی تھی نشوہ نے اسے ٹھونگا مارا تو منہا سٹپٹاتی اسے دیکھنے لگی پھر بولی۔۔
بھیا۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ ابرش کی رخصتی کرا لیں" منہا نے ہچکچاتے ہوئے کہا
خیریت۔۔ کیا ہوا ہے؟" ہاشم کا لہجہ سرد ہوا تھا۔
بھیا وہ۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے تنگ کرتی ہے۔۔۔ باتیں سناتی ہے۔۔ ہر چیز پر اعتراض۔۔۔ اعتراض ہے اسے۔۔۔ اور ۔۔۔اب تو یونی جانتی ہے تو ہر روز کسی نئے لڑکے کے ساتھ۔۔۔۔ ساتھ واپس آرہی ہے۔۔۔" منہا نے وہی بولا جو اپنے موبائل پر نشوہ نے اسے لکھ کر دیا۔۔اور یہ بولتے منہا کے پسینے چھٹ گئے تھے۔ دوسری طرف گھمبیر خاموشی چھا گئی ہاشم رضا نے مٹھیاں بھینچں تھیں۔
آج دوپہر میں بھی مجھ سے لڑی ہے۔۔۔ اسکی موجودگی یہاں میری زندگی مشکل کر رہی ہے" منہا کی بات پر ہاشم رضا کی سرد و سپاٹ آواز گونجی
تم فکر نہ کرو۔۔۔ اب وہ تمہاری زندگی میں مسائل پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے گی اس ویک اینڈ پر میں اور اماں جی ا کر رخصتی کی بات کر لیں گے" ہاشم کہتا اسے تسلیاں دینے لگا۔۔۔ بہن کی محبت اس وقت سر چڑھ کر بول رہی تھی اور بارہ بجتے دیکھ نشوہ نے اسے ٹھونگا مارا وہ کال بند کرتی اسکی طرف دیکھنے لگی۔
یہ غلط ہو گیا ہے نشوہ۔۔۔ ہاشم بھیا بہت سخت مزاج ہیں ابرش کی بعد کی زندگی میں کوئی مسئلہ نہ ہو جائے" منہا نے گھبرا کر کہا
پہلے اٹھو۔۔۔ ہم عون کو وش کرتے ہیں پھر سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے" نشوہ ہاتھ چھاڑتی اٹھی۔۔۔ منہا جبکے بیٹھی رہی۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ کچھ غلط ہو گیا ہے۔۔۔ تم جاو۔۔ مجھے نہیں جانا " منہا نے لب کچلتے ہوئے کہا
اٹھو بھی۔۔۔اتنی بھولی نہیں ہو جتنی بن رہی ہو۔۔۔ چلو میرے ساتھ" نشوہ غصے سے کہتی اسکا ہاتھ تھام کر باہر نکلی اور اسکے لفظوں کی کاٹ پر منہا بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عون عباس بستر پر نیم دراز موبائل یوز کر رہا تھا ۔۔ جبکے ماہیر آج دیر سے نماز پڑھ رہی تھی۔
اس محترمہ کو تو میری برتھ ڈے بھی نہیں پتا۔۔۔ وش کیا خاک کرے گی" عون نے غصے سے سوچا
ویسے ہر وقت ابرش کے ساتھ چپکی رہتی ہے۔۔۔اور ابرش نے بھی نہیں بتایا ، حیرت ہے" عون نے غصے سے ماہیر پر نظر ڈالی۔۔۔
اجثسے پہلے اسکے کزنز اور خاص کر جہانگیر رات بارہ بجے اسے وش کرنے کمرے میں پہنچ جاتا تھا۔۔۔ اب تو دور دور تک ایسے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔
عون نے موبائل کی طرف دیکھا جہاں بارہ بجنے میں تین منٹ تھے اور اسی لمحے ماہیر جائے نماز سے اٹھی ۔۔ جائے نماز تہہ کرتے وہ ٹیبل کے ڈرا میں رکھتی خالی پانی کا جگ اٹھا گئی۔۔۔ اور کمرے سے نکل گئی۔
ایسی بیوی بھی اللہ کسی کو نہ دے۔۔۔ " عون نے تلخی سے سوچا اور منہ بناتا تکیہ باہنوں میں بھرتا لیٹ گیا۔۔۔ اسے ہمشیہ سپیشل فیل کرایا گیا تھا۔۔۔ برتھ ڈے کا دن پورے ہنگاموں سے شروع ہوتا تھا یہ کسی برتھ ڈے تھی جو اس قدر اداس سی تھی۔۔۔ جبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
اسنے حیرت سے سر اٹھایا۔۔
یس" مدھم لہجے میں کہتے ہی نشوہ اور منہا کیک، بے لون، اور پھول لیے اندر آئیں ۔۔۔ جاسم جسکو نشوہ زبردستی لائی تھی وہ کچن کی لائیٹ آن دیکھ کر اس طرف بڑھ گیا۔
ہیپی برتھ ڈے ڈئیر فرینڈ" نشوہ مسکراکر کہتی آگے بڑھی عون عباس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔
تمہیں یاد تھا؟" عون نے بستر سے نکلتے ہوئے پوچھا۔
ہاں جی۔۔۔ میں کوئی تمہاری بیوی جیسی تو ہوں نہیں جسے اتنا خاص دن یاد نہ ہو" نشوہ کہتی ٹیبل پر کیک رکھتی اسے پھول اور بالونز دے گئی۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے عون" منہا نے مدھم لہجے میں کہا تو پہلی بار مروت میں عون تھینک یو کہہ گیا۔۔۔ جبھی اسکی نظر جاسم کے ساتھ دروازے پر کھڑی ماہیر پر پڑی۔۔۔ جسکے ہاتھ میں کیک اور پھول تھے۔۔۔ لیکن چہرہ انکی موجودگی پر مرجھایا ہوا تھا وہ تو ابھی نہیں رہی تھی لیکن جاسم اسے زبردستی لایا تھا جب وہ کچن میں پہنچا تو ماہیر ٹرے تھامے کنفیوز سی کھڑی تھی۔
سوری بھابھی ۔۔۔ آپکا مومنٹ خراب کر دیا۔۔۔ میں تو آنا ہی نہیں چاہتا تھا اس ٹائم بس وہ نشوہ آپی " جاسم نے سر کھجاتے شرمندگی سے کہا
چلیں۔۔ آپ ٹرے رکھ کیوں رہیں ہیں اٹھائیں آپکا پہلا حق ہے" جاسم اسے زبردستی ٹرے تھماتا ساتھ لایا۔۔۔ لیکن نشوہ اور منہا پہلے ہی ٹیبل سیٹ کیے بیٹھیں تھیں۔۔۔عون نے ایک نظر ماہیر کے ہاتھ میں موجود ٹرے دیکھی جو وہ شرمندہ سی ہوتی لیے واپس مڑ گئی۔۔
نشوہ آپی ۔۔ بری بات ہے یہ ہمیں اس ٹائم نہیں آنا چاہیے تھا" جاسم نے شرمندگی سے کہا
چلیں اٹھیں۔۔ بھیا بھابھی ک مومنٹ خراب مت کریں" جاسم نے کہا تو نشوہ نے اسے گھورا۔۔۔ منہا جلدی سے اٹھی اسے تو پہلے ہی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔ اسسے پہلے منہا نکلتی کہ جہانگیر وہاں چلا آیا اور جن نظروں سے اسنے منہا کو دیکھا تھا منہا کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اسمیں سما جائے۔۔
نشوہ۔۔۔ ساتھ لائیں تھیں" منہا منمنائی جہانگیر ایک نظر غصے سے اسے دیکھتا عون کی طرف بڑھا۔
سوری یار ہماری وجہ سے تمہارا سپیشل مومنٹ خراب ہوا۔۔۔ تم انجوائے کرو۔۔۔ اور ہیپی برتھ ڈے" جہانگیر نے عون کے گلے لگتے ہوئے کہا اور اسے وش کرتا سختی سے منہا کا ہاتھ تھامے پلٹ گیا۔ جاسم بھی وش کرتا واپس نکل گیا عون بغیر کچھ بولے بس مسکرا رہا تھا نشوہ ڈھیٹ بنی بیٹھی تھی۔
تم نہیں جا رہی؟" عون نے مسکراتے پوچھا
مجھے نہیں پتا تھا تم اسطرح انسلٹ کرو گے" نشوہ نے اٹھتے غصے سے کہا
انسلٹ کہاں کر رہا ہوں۔۔۔ بس جیسے سب کو احساس ہوا مجھے لگا تم بھی چلی جاؤ گی" عون نے مسکرا کر کہا
بہت عزیز ہو گئی ہے وہ؟" نشوہ نے عجیب سے لہجے میں سوال کیا
کہہ سکتے ہیں" عون نے مسکراتے اسے سلگایا
بڑے تھرڈ کلاس کر لیا اپنا سٹینڈر" نشوہ نے طنز کیا اور اسکا طنز وہاں آتی ماہیر حیدر نے بھی سنا تھا اسکے چہرے کے پھیکے رنگ عون عباس کو برے لگے تھے اسنے خفگی سے نشوہ کو دیکھا۔
اب تم جاو بھی۔۔۔ اس وقت کوئی فضول سٹیٹمنٹ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں میں" عون نے سنجیدگی سے کہا نشوہ ایک زہر آلود نگاہ ماہیر پر ڈالتی پلٹی۔۔۔ اسکا سجایا سارا سامان ایسے ہی پڑا رہ گیا تھا۔۔۔ ماہیر جھجھکتی اندر آئی ۔۔۔
یہ سامان اٹھا دو" عون نے ماہیر کو کہا اور اسنے حیرت بھری نگاہ اسپر ڈالتے سامان سمیٹا اور کچن میں رکھ کر واپس آئی ۔۔۔ عون اسے خالی ہاتھ دیکھ کر چونکا۔۔۔ تو کیا مطلب تھا اب وہ اسکی سالگرہ نہیں منائے گی؟
ماہیر کمرہ نیٹ کرتی ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ عون کی انا گوارہ نہیں کر رہی تھی کہ وہ ماہیر سے پوچھتا کہ کیک کہاں ہے۔۔۔ اور پھر ماہیر لائیٹس ہلکی کرتی بستر پر آئی عون پہلے ہی بستر میں تھا۔۔۔ عون نے ایک شاکڈ نظر اس بے حس لڑکی پر ڈالی جو بلکل ایسے ہو گئی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔۔۔ وش تک کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا اسنے۔۔۔۔ماہیر اسکی طرف سے کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی اور عون نیم دراز کینہ توڑ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر عون عباس کا غصہ جیت گیا تھا انا کو یک طرف رکھے وہ اس بے حس پر سے بلینکٹ اتار گیا تھا۔
ماہیر ہڑبڑاتی اٹھی۔۔
کیا ہوا؟" بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت لیے وہ سوال کر رہی تھی۔
اتنی تم معصوم ہو نہیں جتنی تم بن رہی ہو" عون نے غصے سے کہا
میں نے کیا کیا ہے؟" ماہیر نے الجھ کر پوچھا۔
کیا کیا ہے۔۔۔؟ تم نہیں جانتی تم نے کیا کیا ہے؟" عون نے غصے سے پوچھا ماہیر تو اسکے غصے سے سہم گئی تھی۔
ہوا کیا ہے ؟ ماہیر نے بے بسی سے کہا
ایک گھنٹے پہلے کیا ہو رہا تھا ہمارے کمرے میں؟" عون نے خفگی سے پوچھا وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ عون کا بس نہیں چل رہا تھا اسکا حشر بگاڑ دے اور وہ بلکل بے وقوف بنی بیٹھی تھی۔
سب آپکو وش کرنے آئے تھے" ماہیر نے جلدی سے کہا
شکر ہے یاداشت واپس آگئی " عون نے طنز کیا ماہیر نے لب کچلے۔۔۔
یہ میں بھی کر سکتا ہوں۔۔۔تم بات ڈائیورٹ مت کرو" عون نے خفگی سے اسکا ہونٹ چٹکی میں بھرتے کہا تو درد کے مارے ماہیر کے آنسو آگئے ۔۔۔
یاد کر لو ماہیر عون کہ تم کیا بھول رہی ہو۔۔۔ورنہ آج رات میں بلکل سونے نہیں دوں گا تمہیں۔۔۔ جان ہلکان کر دو گا وعدہ رہا" عون کی وارنگ پر ماہیر نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔
آپکی برتھ ڈے تھی" ماہیر منمنائی
تھی نہیں ہے۔۔۔ اور کیا کیا تم نے۔۔۔ ادھر دیکھو ۔۔ سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہے" عون نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا۔
میں۔۔۔ کیک لائی تھی" ماہیر نے جلدی سے کہا
اترو میرے بستر سے۔۔۔ جلدی ہری آپ ۔۔۔ سرپرائز دو مجھے۔۔۔ جلدی ۔۔۔ بلکل ویسے ہی جیسے دینا چاہ رہی تھی" عون عباس نے غصے سے کہا اور ماہیر اسے دیکھ کر رہ گئی یہ شخص ہر بات صرف غصے سے منواتا تھا۔۔۔۔ نرمی، محبت، ہر جذبہ صرف غصے سے شروع ہو کر غصے پر ختم ہوتا تھا۔۔۔
ماہیر ہڑبڑاتی اٹھی اور ڈوپٹہ لیتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ عون نے لائٹس آن کیں۔۔۔اب دل کو کچھ ڈھارس ہوئی تھی ایسے کیسے وہ اپنی برتھ ڈے ضائع ہونے دے دیتا۔۔۔ اور تجسس الگ تھا کہ ماہیر اسے کیا گفٹ دے گی۔۔۔ اور پھر پانچ منٹ بعد رات کے ڈیڑھ بجے ماہیر ٹرے تھامے کمرے میں آئی ۔۔۔ اسکے ہاتھ میں کچھ گفٹس کے بیگ تھے اور ٹرے میں پھول اور کیک لیے وہ سرخ چہرے کے ساتھ کمرے میں آئی ۔۔۔عون عباس صوفے پر سکون سے بیٹھا تھا۔۔۔ اسکی ارینجمنٹس آئی برو اچکا کر دیکھی۔۔۔
ہیپی۔۔۔ برتھ ڈے" ماہیر نے مدھم لہجے میں کہا اسکے چہرے پر جلتی موم بتی کی روشنی کا عکس بڑا دلکش لگ رہا تھا۔۔۔
تھینک یو" عون نے اکڑ کر کہا
لیکن ایسے نہیں جاؤ جلدی سے تیار ہو کر آؤ ۔۔۔ ہری آپ" ماہیر نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔۔۔
جلدی کرو" عون نے کہا تو ماہیر مرے مرے قدموں سے ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی۔۔ عون عباس نے اٹھ کر شیشے میں خود کو دیکھا وائیٹ ٹراوز شرٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا بالوں کو یک بار پھر سے بناتے پرفیوم کی بارش خود پر کرتے عون صوفے پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ ماہیر بلیک شارٹ شرٹ اور کھلے پائنچوں کے ٹراوز میں بالوں میں ہالف کلپ لگائے اسکے سامنے تھی۔۔۔
میک آپ کرو یار۔۔ کیوں ٹائم ویسٹ کررہی ہو" عون نے خفگی سے کہا
ماہیر پہلی بار جھنجھلائی تھی۔۔
ایسے ہی ٹھیک۔۔۔اہ" ماہیر کی چینخ نکلی کیونکہ وہ اسکی کلائی موڑ چکا تھا ۔
تیار ہو" معنی خیزی سے کہتا وہ اسے وارن کر گیا تھا۔۔۔
ماہیر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی۔۔۔ نم نگاہوں سے وہ کپکپاتے ہونٹوں پر لپ سٹک لگا رہی تھی۔۔۔ پھر ہلکا سا بلش لگایا اور مسکارہ لگاتی وہ مڑی۔۔۔
جیولری کہاں ہے؟" عون تو فل پروٹوکول کے ساتھ برتھ ڈے منانا چاہتا تھا۔۔
ماہیر پوری طرح تیار ہوتی اسکے سامنے تھی وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ عون عباس کے دل دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھی ۔۔اسنے اٹھتے مدھم آواز میں گانا چلایا۔ آگے بڑھتے وہ ماہیر کے بالوں سے کلپ نکال گیا تھا ماہیر سرخ پڑتی چہرہ جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔
چلو۔۔۔ گفٹس دو" عون نے سرگوشی کی تو ماہیر ایک کے بعد ایک کیری اسکی طرف بڑھا گئی۔۔۔ عون عباس نے ایک ایک کر کے سارے گفٹس کھولے۔۔۔
نائس،گڈ، ویل ڈن، اوکے" ایسے کمنٹس تھے جو وہ ہر گفٹ کھولتا بول رہا تھا فارٹی رولز آف لو کو دیکھ کر وہ مدھم سا مسکرایا۔۔۔ ماہیر تو چور نظروں سے اس حسن کے دیوتا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
نائس چوائس" کتاب ہلکی سی اسکے سر پر مارتے عون نے مسکراتے ہوئے کہا
پھول کون دے گا" عون کی بات پر ماہیر نے پھول اسکی طرف بڑھائے۔۔
یونیک چوائس۔۔۔ محبت سے پہلے وفاداری ہونا ضروری ہے آئی اگری" عون عباس خوش ہوتا بولا۔۔۔ اج وہ ماہیر کو بلکل الگ ہی لگا تھا۔۔۔ یا شاید وہ اپنی برتھ ڈے کو لے کر بہت ایکسائیٹیڈ تھا۔۔۔ کیا اپنی پزیرائی اسکو بہت پسند تھی۔۔۔
کینڈل دوبارہ جلاو" عون نے مدھم لہجے میں کہا تو ماہیر کینڈل جلا گئی۔۔۔ عون نے ہلکے میوزک کے سحر میں کیک کاٹا۔۔۔ یہ زندگی کی پہلی سالگرہ تھی جو بلکل مختلف لیکن سب سے شاندار تھی۔۔۔ کیک کٹ کرتا وہ۔۔ ماہیر کی طرف بے ساختہ بڑھا گیا۔۔۔ جو اسکا بڑھا ہاتھ دیکھتی ہلکا سا کیک چکھ گئی۔۔۔
میرا نہیں کراو گی؟" عون نے سرگوشی کی ماہیر اسسے پہلے کیک اسکی طرف بڑھاتی عون نے اسکی انگلی سے کیک اٹھایا اور وہ انگلی اسکے گال پر مس کی۔۔۔۔ اور جھکتا محبت بھرے بوسے کے ساتھ کیک ٹیسٹ کیا ماہیر سرخ پڑتی۔۔۔ سر جھکا گئی۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا چاکلیٹ کیک اس قدر مزے دار ہو گیا ہے" عون کی گھمبیر سرگوشی پر ماہیر دوبارہ پلکیں نہیں اٹھا سکی تھی۔۔۔
چلو ۔۔۔ اب شرمانے والی کوئی بات ہمارے بیچ نہیں رہی جلدی سے کیک سرو کرو" عون اگر اسے نہ آڈر کرتا تو وہ جانتا تھا دوبارہ یہ لڑکی سر نہیں اٹھا پائے گی
تو اس سب کے لیے شام میں تم مفرور ہوئیں تھیں" عون نے اسے چھیڑا جو کیک پلیٹ میں رکھے اسکی طرف بڑھا گئی۔۔۔
جی وہ ابرش۔۔۔۔" عون نے اسے ٹوکا۔۔
اونہہ۔۔۔ خبردار جو سارے انتظام کا کریڈٹ کسی اور کو دیا۔۔۔۔ کہو یہ سب تم نے میرے لیے کیا تھا" عون نے خفگی سے کہتے ضد کی اور ایک جھٹکے سے سے اپنی جانب کھینچا ۔۔
جی۔۔۔۔ جی ایسا ہی ہے" ماہیر نے ڈرتے جلدی سے کہا کیونکہ لمحوں میں وہ آپے سے باہر ہوتا تھا۔۔۔
محبت کرو گی مجھ سے؟" اسکے چہرے پر اپنا لمس بکھیرتا عون عباس ایک بار پھر اسے مشکل میں ڈال گیا تھا۔۔۔اور ماہیر کیا ہی جواب دیتی۔۔۔۔ بلکل چپ رہی۔۔۔
سوچ لو۔۔۔ آج نہیں تو کل۔۔۔اس بات کا جواب دینا ہو گا مجھے" عون کہتا اسپر چھا گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانگیر نے اسے کمرے میں لا کر پھینکا۔
تم۔۔۔ تم کبھی نہیں سدھر سکتی" جہانگیر نے غصے سے کہا
ایسا نہیں۔۔ ہے میں نہیں جانا چاہتی تھی" منہا نے سسک کر کہا کہونکہ گرنے سے گھٹنوں میں چوٹ لگی تھی۔
میں نے تمہیں گندگی سے کھینچ کر نکالنا چاہا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناں جہاں کی اینٹ ہو وہیں سجتی ہے" جہانگیر کی بات پر منہا نے نم نگاہوں سے اسے دیکھا
میں آپکی عزت ہوں جہانگیر ۔۔۔ آپ ایسا نہیں کہہ سکتے" منہا نے روندھے ہوئے لہجے میں کہا
تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔۔۔ مجھے ۔۔ مجھے اذیت ہوتی ہے تمہاری حرکتوں سے" جہانگیر کی آواز بھرائی
میں۔۔۔ میں ایسی نہیں تھی ۔۔ نہ ایسی ہوں۔۔۔ وہ بس۔۔۔ نشوہ نے۔۔٫ " منہا نے کہنا چاہا جب جہانگیر نے اسے ایک طرف جھٹکا وہ جو اسکا ہاتھ تھام کر کھڑی ہو رہی تھی بری طرح گری۔۔۔
میں کچھ نہیں سننا چاہتا۔۔ بہتر ہے کل تم آنٹی کی طرف چلی جاو پلیز۔۔۔ میں ذہنی سکون چاہتا ہوں" جہانگیر نے کہا اور ڈریسنگ کی طرف بڑھ گیا پیچھے منہا بہت دیر تک روتی رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی اپنے معمول پر ویسی ہی گزر رہی تھی۔۔۔ منہا اگلے دن ہی ہاشم کو بلا کر اپنے گھر چلی گئی تھی۔۔۔
جہانگیر بھی کسی بزنس میٹنگ کے لیے کراچی چلا گیا تھا۔۔۔ جاسم نے احمد صاحب کو ماہا کی رخصتی کا کہا اور جب یہ بات گھر میں پھیلی تو حیدر صاحب کو ماہا نے خود انکار کیا تھا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی
سب ہی اسکی بات پر چونکے تھے۔۔۔ لیکن خاموش ہو گئے تھے۔۔۔ حیدر صاحب نے سلمہ بیگم کے تھرو ماہا پر زور ڈلوایا ہوا تھا۔۔۔اور آج ماہا وہی حساب کرنے جاسم کے کمرے میں کھڑی تھی۔
مجھے ابھی شادی نہیں کرنی" ماہا نے سرد لہجے میں کہا
مجھ سے نہیں کرنی یا ابھی نہیں کرنی؟" جاسم کے طنز پر وہ بلبلائی تھی۔۔
مجھ فلحال تم سے کسی فضول ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتی" ماہا نے خفگی سے کہا
جسکے پیچھے مر رہی ہو ناں۔۔۔اسے کہو رشتہ بھیجے تمہارا۔۔۔ قسم سے جس دن تمہارا رشتہ آیا ناں خود گھر والوں کو مناوں گا تمہارے لیے" جاسم نے سرد لہجے میں کہا
یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے " ماہا نے چڑ کر کہا
پھر کس کا مسئلہ ہے یہ۔۔۔تم جانتی بھی ہو وہ کس قدر خبیث شخص ہے۔۔۔ فزیکل ریلشن بناتا ہے وہ ہر دوسری لڑکی کے ساتھ" جاسم نے غصے سے کہا
میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔سنا تم نے" ماہا نے چڑ کر کہا
لگ تو ایسا ہی رہا ہے کہ تم پاگل ہو۔۔ جو ہارون بیگ سے دلگی کر رہی ہو" جاسم کے طنز پر ماہا نے اسے گھورا۔۔۔
اسنےمجھے میرے اہم ہونے کا حساس دلوایا ہے جو تم نے کبھی نہیں دلوایا" ماہا نے روندھے ہوئے لہجے میں کہا
اب میں تمہیں کہہ رہا ہوں ماہا حیدر۔۔۔ میں تم سے ہرگز شادی نہیں کروں گا دفع کو جاو یہاں سے" جاسم نے غصے سے کہا اور ماہا اسکے تیور دیکھتی روتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔۔۔
جاری ہے

طلب یار تانیہ طاہر قسط 30کیا کہا ہے تم نے کس سے مانگو گی؟" عون نے سرد لہجے میں پوچھا تو اسکے غصیلے تاثرات نے ماہیر کا سا...
09/10/2026

طلب یار
تانیہ طاہر
قسط 30

کیا کہا ہے تم نے کس سے مانگو گی؟" عون نے سرد لہجے میں پوچھا تو اسکے غصیلے تاثرات نے ماہیر کا سارہ کانفیڈینس ہوا کیا
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ابرش کو گفٹ۔۔ دینا چاہتی ہوں ۔۔ میں" ماہیر منمنائی اسکے سینے سے لگی وہ کچھ ڈری سہمی سی نظریں جھکائے بیٹھی تھی۔
شوہر کے ہوتے ہوئے تم دنیا کے سامنے ہاتھ پھیلانا چاہتی ہو؟" عون نے گھمبیر لہجے میں پوچھا۔۔
آپ نہیں دے رہے پیسے" ماہیر ںے بے بسی سے کہا
تو تم مناو۔۔۔ کنوینس کرو۔۔۔ منہ اٹھا کر کسی سے بھی مانگنے نہیں پہنچ جاتے" عون نے اپنے دل کی بھڑاس اسکے ہونٹوں کے مندروں پر اتاری تو ماہیر سٹپٹاتی اپنا آپ چھڑانے لگی ۔۔
مجھے پر لگی چونٹی نہیں پسند" عون نے ایک جھکٹے سے اسے چھوڑتے غصے سے کہا اسکی مزاحمت پسند نہیں آئی تھی عون کو۔۔۔
وہ۔۔۔ابرش انتظار کر رہی۔۔ ہے" ماہیر نے سرخ چہرے کے ساتھ ہھولتی سانسوں سے کہا
کرنے دو۔۔۔ پہلے مجھے کنوینس کرو۔۔۔اور یاد آیا پچھلے پیسے بھی نہیں دیے تم نے۔۔۔ وہ جو اس بچی کو دینے کو ادھار لیا تھا" عون نے اب اسکی گردن پر حملہ کیا ماہیر بے بسی سے لب کچل گئی۔۔۔ کیونکہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ عون عباس مزید حد تجاوز کر رہا تھا ۔۔۔اور پھر تھک کر ماہیر نے جلدی سے اسکے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔۔
پلیز پیسے دے دیں" اب وہ اس لمحے میں جب عون عباس اس پر مکمل چھایا من مانی کر رہا تھا کیسے ہی اسے کنوینس کرتی۔۔۔
وہ تمہیں لوٹ رہی ہے" عون نے مصنوعی خفگی سے کہا اپنے کام میں مداخلت اسے پسند نہیں آرہی تھی۔۔۔
لوٹنے دیں۔۔۔ مجھے برا نہیں لگ رہا۔۔۔ اسنے میرے لیے بہت کچھ کیا۔۔ہے " ماہیر نے جلدی سے کہا اٹھتی گرتی پلکیں عجب ہی رقس پیش کر رہیں تھیں۔
چارجز لگیں گے" عون نے ایک بھرپور شرارت کرتے اسے دور ہوتے ہوئے کہا اور ماہیر کو اپنا آپ سنبھالنے میں ہی کئی لمحے گزر گئے۔۔۔
کیا؟" خود کو سنبھالتے ماہیر جلدی سے بولی۔۔
میری پسند کے کپڑے پہننے ہوں گے رات میں" عون کی انکھیں اگر ماہیر کو پڑھنی آتیں تو وہ اس لمحے عون عباس کی آنکھوں میں موجود شرارت کے ساتھ اپنے لیے کچھ الگ رنگ دیکھ سکتی لیکن ۔۔۔ وہ لڑکی محبت کی پرکھ میں کچی تھی۔
میں تو آپکی ہی پسند کے کپڑے پہن رہی ہوں" ماہیر نے الجھ کر کہا
ایڈیٹ۔۔۔ " عون بڑبڑایا۔۔
میں نائیٹ ویئرز کی بات کر رہا ہوں" عون نے غصے سے کہا اور ماہیر مزید سرخ پڑی۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کچھ پیسے لینا کس قدر بھاری پڑے گا اسپر۔۔۔
نہیں۔۔۔ نہیں۔۔۔ میں نہیں پہن سکتی" ماہیر نے خوف سے آنکھیں پھیلا کر کہا
یہ چلتی زبان۔۔۔ مجھے کیوں تنگ کر رہی ہے ماہیر۔۔۔ تمہیں تو جی اچھا کہنے کی عادت تھی" عون نے مصنوعی ڈانٹا اور ماہیر اس ڈانٹ میں ابھی گئی۔۔۔
وہ شرمندہ سی سر جھکا گئی۔۔۔
جاؤ ۔۔والٹ لاو ۔۔ میرا" عون نے نرمی سے کہا
ماہیر جلدی سے والٹ اٹھاتی اسکے پاس آئی ۔۔
یہ سب میں سود سمیت کوں گا یاد۔ رکھنا۔۔۔اور اگر تمہاری زبان چلی ۔۔۔ تو پھر اچھا نہیں ہو گا" عون نے اکڑ کر کہا ماہیر کا پل پل سرخ پڑتا چہرہ اسکی معنی خیز باتوں کے اثرات ظاہر کر رہا تھا۔۔۔
بلکے روکو۔۔ میں ساتھ چلتا ہو زرہ اس ابرش کی کلاس لوں کیسے اتنا مہنگا گفٹ لے رہی ہے تم سے" عون خفگی سے کہتا اٹھا لیکن ماہیر نے جلدی سے بے ساختہ اسکے سینے پر ہاتھ رکھ کر روکا ۔
پلیز۔۔۔ شرمندہ کر کے تحفہ دینے کا کیا فائدہ۔۔۔ میں کوئی احسان تو نہیں کر رہی جو اسطرح آپ جا کر اسے ڈانٹیں گے" معون نے ایک نظر ماہیر کو پھر اپنے سینے پر اسکے ہاتھ کو دیکھا ماہیر نے جھجھکتے اپنا ہاتھ ہٹایا۔۔۔پتہ نہیں کس لمحے کیا برا لگ جائے۔۔۔ ویسے بھی وہ شخص اپنی مرضی سے اسے قریب کرتا تھا ۔۔۔ ماہیر کو کہاں اختیار تھا کسی بھی بات کا۔۔۔ کوئی حق جتانے کا۔۔۔
اسکے گفٹ کے پیسے دو۔۔۔اور جلدی کمرے میں آؤ ۔۔۔ بہت حساب نکل رہے ہیں تمہاری طرف" عون نے معنی خیزی سے کہا تو ماہیر کادڈ پکڑتی جلدی سے اسے دور ہوئی اور دروازے پر پہنچتی ایک لمحے کو روکی پھر پلٹی تو وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں ۔۔۔ میں کھانا بنا رہی ہوں۔۔۔" جلدی سے کہتی وہ کمرے سے نکل گئی تھی اور عون بس اسے دیکھ کر رہ گیا تھا ۔۔ کیا لڑکی تھی ۔۔۔ بہت مختلف۔۔۔ لیکن اسکی۔۔۔اور شاید مختلف چیزیں صرف عون عباس کے پاس ہی اچھی لگتیں ہیں۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانگیر نے بلکل منہا سے بات چیت بند ہی ہوئی تھی وہ دو اجنبیوں کی طرح ایک ساتھ وقت گزار رہے تھے۔ ۔۔ منہا میں واپسی کے بعد یہ تبدیلی ضرور آئی تھی کہ وہ جہانگیر کے سارے کام خود کرنے لگ گئی تھی۔ جہانگیر نے شروع میں اسے سختی سے منع بھی کیا لیکن وہ بلکل خاموشی سے اسکے کام کر دیتی۔۔ زبردستی ہی سہی دونوں ساتھ وقت گزار رہے تھے۔۔۔ جس دن جہانگیر نے منہا کو عون کو پانی دیتے دیکھا اور عون نے اسسے بات کی جہانگیر کا غصہ مزید بڑھ گیا تھا۔۔۔ وہ گھر پر بہت کم وقت دے رہا تھا۔۔۔ اسکا بس نہیں چل رہا تھا منہا کو اپنی زندگی سے ریمو کر دے ۔۔۔ دل اور ابرش کا معاملہ نہ ہوتا تو وہ شخص یہ بھی کر گزرتا ۔۔ لیکن دل اب ہر گزرتے دن کے ساتھ خاموش ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
رات کا ایک بج رہا تھا جس لمحے وہ کمرے میں آیا ۔۔۔ منہا ایک طرف کمبل میں دبکی سوئی ہوئی تھی۔۔۔ جس منہا سے محبت کی تھی وہ تو یہ تھی ہی نہیں۔۔۔ اسکے چہرے پر اب ہر وقت اداسی ہوتی تھی لب خاموش ۔۔۔ اور بے حس وجود۔۔۔جہانگیر چینج کر کے اسکے پہلو میں لیٹا تو دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر کروٹ اسکی جانب کی۔۔۔
کس قدر ظالم ہو تم" جہانگیر نے سرگشی کی مدھم روشنی میں منہا اسکے بلکل سامنے تھی۔۔ کتنی چاہت سے اسنے منہا کا ساتھ دیا تھا اسے عون سے دور رکھنے کی پوری کوشش کی تھی وہ ایک ہفتہ کس قدر پرسکون گزرا تھا۔۔۔ منہا میں بھی بدلاؤ آیا تھا پھر یہ اچانک اس لڑکی کو ہو کیا جاتا تھا جہانگیر کی سمجھ سے باہر تھا۔۔۔
منہا کی بھاری سانسیں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ گہری نیند میں ہے ۔۔ مچلتے جزبات میں جہانگیر منہا کے ہونٹوں پر جھکا خود کو سیراب کر رہا تھا۔۔۔ وہ کئی کئی دن اس سے بات بھی مہیں کرتا تھا لیکن اس لڑکی کو پرواہ کہاں تھی۔۔۔ جہانگیر کے جنون بھرے لمس پر منہا گھٹن کے احساس سے اٹھی تھی ۔۔۔ اور اسکو خود پر شدت لوٹاتا دیکھ منہا نے اسے دور کرنا چاہا جب جہانگیر کی سرد آواز گونجی۔۔
اس وقت ۔۔ میں تمہاری کوئی بکواس سننا نہیں چاہتا ۔۔بہتر ہے اپنا منہ بند رکھو" جہانگیر نے سپاٹ لہجے میں کہا تو منہا کی آنکھیں نم ہوئیں۔۔۔
مجھے ۔۔اس سب سے نکال لیں جہانگیر۔۔۔ میں خود اس سب کو چھوڑنا چاہتی ہوں" بڑی بے بسی سے منہا نے جہانگیر کو کہا وہ ساکت رہ گیا۔۔
اور کتنے دن بعد اپنے وعدے سے مکرو گی؟" جہانگیر کی گھمبیر آواز پر کئی آنسو اسکی آنکھوں سے بہہ نکلے۔۔۔
ہم کہیں اور شفٹ نہیں ہو سکتے؟" منہا نے لب کچلتے جہانگیر سے سوال کیا۔
اب مجھے میرے گھر والوں سے بھی الگ کرو گی" اسکی گردن پر ظلم ڈھاتے جہانگیر نے غصے سے کہا اسے یہ بات ہی اچھی نہ لگی تھی۔۔
ایسا ۔۔ ایسا نہیں ہے" منہا منمنائی
تنہا کر کے مارنا چاہتی ہو تم مجھے" جہانگیر نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے غصے سے کہا
اب تمہاری آواز نہ آئے" اسسے پہلے وہ کچھ کہتی کہ جہانگیر کنے سپاٹ انداز میں کہتے وہ مدھم روشنی بھی بند کر دی۔۔۔ وہ پوری طرح اسپر چھایا اپنے رنگ میں اسے رنگ رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم یہاں بیٹھی ہو؟" ماہیر نے ابرش کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے کہا اور ابرش نے سٹپٹاتے فون سائیڈ میں رکھا۔۔۔ پچھلے ایک ہفتے سے وہ ہاشم رضا کی طرف سے آئی ہر کال اور میسج کو بری طرح اگنور کر رہی تھی۔۔۔ اسنے دبئی جا کر بھی اسسے رابطہ کیا لیکن ابرش تو ایسی ہو گئی جیسے اسے جانتی تک نہ ہو۔۔۔ اور دو دن پہلے غصے میں وہ ہاشم کو بلاک بھی کر چکی تھی وجہ اسکی دھمکیاں تھیں جو وہ ابرش کو دے رہا تھا۔۔
اگر اب تم نے میری کال ریسیو نہ کی تو ابرش بیگم۔۔۔ تمہارے گھر پہنچ کر تمہارا دماغ درست کر دوں گا" ہاشم کے ایسے کئی میسج تھے اور ابرش نے تنگ آکر اسے بلاک کر دیا تھا۔۔ دو دن پہلے اجنبی نمبر سے پھر کال آئی تو ابرش پھر سے اسکا نمبر بلاک کر گئی ابھی بے دھیانی میں وہ کال ریسو کر گئی۔۔۔
تم ایک نمبر کی جاہل عورت ہو۔۔۔ شرم نہیں آتی ۔۔ شوہر کو بلاک کیا ہوا ہے" ہاشم نے غصے سے کہا
اسلام میں کہا لکھا ہوا ہے کہ شوہر کو بلاک کرنا جائز نہیں" ابرش نے سکون سے کہا
تمیز سے بات کرو " ہاشم غرایا۔
پہلے آپ تمیز سے بات کریں۔۔۔ پتا نہیں کس قسم کے انسان ہیں آپ، بیوی سے بات کرنے کی تمیز تک نہیں ہے۔۔ " ابرش نے غصے سے کہا
بہت اچھل رہی ہو۔۔۔ ایک۔۔ ایک منٹ میں تمہاری اکڑ نکال دوں گا میں" ہاشم نے سرد لہجے میں کہا
میں اپنے باپ کے گھر بیٹھی ہوں۔۔۔اور چاہوں تو ایک منٹ میں یہ رشتہ توڑ کر آپکی اکڑ نکال سکتی ہوں۔۔۔ تو مجھے دھمکیاں مت دیا کریں۔۔اور جو بے ہیو اپنے لاسٹ ٹائم کیا تھا شرم آنی چاہیے آپکو" ابرش نے غصے سے کہا بس بہت ہو گئی تھی وہ کیوں برداشت کرتی اس شخص کے ٹینرامینٹس۔۔۔
دوسری طرف مکمل خاموشی چھا گئی۔۔
امید ہے آپ اگلی دفع ۔۔۔ اپنی بیوی ہی سمجھ کر ڈیل کریں گے" ابرش کہتی کال کاٹ گئی تھی۔۔۔ جبھی ماہیر وہاں آئی ۔۔
کیا ہوا سب ٹھیک ہے؟" ماہیر نے اسکے اڑے ہوئے رنگ دیکھ کر کہا بہادری تو وہ دیکھا گئی تھی لیکن اب ڈر لگ رہا تھا۔۔۔
دماغ ٹھیکانے لگایا ہے ہاشم رضا کا" ابرش نے چہرے ہر ہاتھ پھیرتے جیسے اپنے آپکو سنبھالا تھا۔
ابرش۔۔۔ پھر لڑی ہوتم۔۔؟" ماہیر نے گھبراتے ہوئے کہا
اب تم مجھے ڈرانے مت بیٹھ جانا۔۔۔ خود تو عون بھیا سے ڈرتی ہو اور مجھے بھی ہر وقت یہی درس دیتی ہو" ابرش جھنجھلائی۔۔
میں نہیں چاہتی ابرش۔۔۔ تمہاری زبان سے نکلے لفظ بعد کی زندگی میں تمہارے لیے مسائل پیدا کریں" ماہیر نے اسکے ساتھ بیٹھتے نرمی سے کہا
جو ہو گا دیکھی جائے گی لیکن میں اس شخص کی فضول باتیں بلکل برداشت نہیں کروں گی" ابرش نے کلس کر کہا
اچھا ۔۔۔ چلو غصہ چھوڑو۔۔۔تم اپنا موڈ درست کرو" ماہیر نے اسکا گال تھپکا۔۔
بات سنو ۔۔۔اوٹنگ پر چلتے ہیں" ابرش نے موڈ بحال کرتے ہوئے کہا وہ زیادہ دیر اداس اور پریشان رہ ہی نہیں سکتی تھی۔۔
اس ٹائم۔۔ کس کے ساتھ؟" ماہیر نے گھڑی کی طرف اشارہ کیا جو شام کے چار بجا رہی تھی۔۔۔
تم اور میں ۔۔۔ اور کس کاںساتھ چاہیے" ابرش نے چڑ کر کہا
اور جائیں گے کیسے" ماہیر نے الجھ کر کہا
عون بھیا کی او ڈی کھڑی ہے وہ تو آج دوسری گاڑی میں گئے ہیں" ابرش نے آنکھیں گھمائیں۔۔۔
تو؟" ماہیر نے الجھ کر پوچھا
جاو شاباش ۔۔۔ اپنے کمرے سے چابی لے کر آؤ " ابرش نے اسے کھڑا کیا
نہیں ابرش۔۔۔ میں کیسے۔۔۔ وہ غصہ کریں گے۔۔۔ میں نے جاسم بھیا کو بھی ڈانٹتے دیکھا ہے انہیں گاڑی کے پیچھے" ماہیر نے گھبرا کر کہا
تم بیوی ہو۔۔۔ انکی ہر چیز پر تمہارا پورا پورا حق ہے" ابرش اسے زبردستی گھسیٹ کر باہر لائی۔
مجھے ڈانٹ پڑے گی ۔۔۔ اف روکو تو" ابرش ماہیر کی سنے بغیر اسے گھسیٹتے کمرے میں لائی۔
کہاں رکھی ہیں بتاو جلدی؟" ابرش نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا۔
پلیز۔۔ ناں ۔۔ ایسے نہیں ہم کیپ سے۔۔" ماہیر نے کچھ کہنا چاہا لیکن ابرش کے گھورنے پر مرے مرے قدموں سے سائیڈ ٹیبل کی ڈرا سے چابی نکالی۔
یس۔۔۔ آف آج میں اوڈی چلاو گی واہ" ابرش خوشی سے چابی نگلی میں گھماتی باہر نکلی۔۔
آؤ بھی" ماہیر کو وہی کھڑے دیکھ ابرش نے غصے سے کہا
تائی امی سے تو پوچھ لوں" ماہیر نے خفگی سے کہا اسے ابھی سے ڈر لگ رہا تھا۔۔
میں پوچھتی ہوں " ابرش مریم بیگم کے کمرے میں آئی ۔۔ماہیر اسکے پیچھے ہی تھی۔
تائی امی۔۔۔ کل عون بھیا کا برتھ ڈے ہے تو ماہیر انکے لیے گفٹ لینا چاہ رہی ہے۔۔ ہم مال چلے جائیں" آنکھیں پٹپتاتی ابرش نے معصومیت سے سارا بلیم ماہیر پر ڈالا جسکو یادتک نہ تھا عون کی برتھ ڈے کا۔۔۔ وہ بے بسی کے مارے ابرش کو گھور بھی نہ سکی بس آنکھیں پھیلائے حیرت سے اسے دیکھے گئی۔۔
اور مریم بیگم تو بہو کے گفٹ لینے کی بات پر خوشی سے اٹھیں۔۔
ہاں ہاں کیوں نہیں۔۔۔ یہ لو یہ پیسے رکھو ۔۔ اچھا سا تحفہ لانا" مریم بیگم نے اسکے ہاتھ میں پیسے دیے۔۔
پیسے ہیں امی" ماہیر منمنائی۔۔
تو یہ بھی رکھ لو ضرورت پڑ سکتی یے" ابرش تو خوشی سے اچھل رہی تھی۔۔اور پھر وہ دونوں مریم بیگم کو بتا کر عون کی اوڈی میں گھر سے نکلیں ارادہ یہی تھا چھ بجے تک اجائیں گی۔۔۔اور مریم بیگم بھی گاڑی والج بات گول کر دیں گی یہ پلیںگ ان تینوں کی تھی کیونکہ وہ بیٹے کے مزاج سے واقف تھیں کہ عون اوڈی کو لے کر کتنا حساس ہے۔۔۔ خیر حساس تو وہ ہر معاملے میں تھا۔۔۔اور جیسے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ کر گھر سے نکلیں نشوہ نے انہیں دیکھا وہ ابھی باہر سے ائی تھی اور ماہیر کو استحاق سے عون کی گاڑی میں بیٹھتا دیکھ اسکا غصے سے برا حال ہو گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب بس کرو ابرش" ابرش کا تو من ہی نہیں بھر رہا تھا۔۔۔ ہر برینڈ سے پہلے اپنے لیے کچھ لیتی پھر عون کے لیے ۔۔۔ عون کی چیز وہ ماہیر سے پسند کراتی اپنے خود ہی پسند کر رہی تھی۔۔ ماہیر کو لگ رہا تھا وہ تو صرف بل پے کرنے آئی ہے۔۔۔ بڑی سی چادر میں وہ شاپنگ بیگ تھامے ابرش کے ساتھ جھنجھلائی جھنجھلائی پھر رہی تھی۔
کیا مسئلہ ہے تمہارے ساتھ۔۔۔ اپنے لیے بھی لے لو کچھ۔۔ منہ تو نہ بناو" ابرش نے چڑ کر کہا
تم پچاس ہزار کی شاپنگ کر چکی ہو" ماہیر نے اسے گھورا
تو کیا ہوا۔۔۔سو دو سو کی تم بھی کوئی چیز لے لو اپنے لیے" ابرش نے ہنستے ہوئے اسے چھیڑا۔۔
بہت بدتمیز ہو تم" ماہیر نے اسے گھورا اور بک ریک دیکھنے لگی۔۔۔
فاٹی رولز آف لو" کتاب پر اسکی نظر ٹکی۔۔۔ اسنے ویسے ہی کتاب اٹھا لی۔۔۔
نام تو رومانٹک ہے۔۔۔ اندر کیا ہے کس کو پتا" ابرش نے اسے ٹھونگا مارا تو ماہیر سٹپٹاتی بک واپس رکھنے لگی۔
لے لیتے ہیں عون بھیا کو گفٹ کر دینا" ابرش نے ہنستے ہوئے کہا
میں تو ویسے ہی دیکھ رہی تھی" ماہیر نے سٹپٹا کر کہا
لے لیتے ہیں ۔۔۔ عون بھیا پڑھ کر بتا دیں گے اندر کیا لکھا ہے" ابرش نے پے منٹ کی اور کتاب خرید لی۔۔۔
پرفیوم سڈڈز، ٹائی اور ایک وائٹ کلر کی گھڑی اور کتاب لینے کے بعد ابرش کو چین آگیا تھا۔
پھول بھی لیتے ہیں" ابرش فلاور شاپ کی طرف بڑھی ماہیر اسکے پیچھے ہی تھی۔
کون سے لو گی" ابرش نے سرسری سا پوچھا
سن فلاو" ماہیر بے ساختہ کہہ گئی
واہ بھئی۔۔۔ سن فلاو۔۔۔ یعنی سورج مکھی یہ پھول تو صبح سے شام تک سورج کا پیچھا کرتا ہے اسی لیے اسے سچی محبت اور وفاداری کی علات سمجھا جاتا ہے تم عون بھیا کو اپنی محبت اور وفا کا یقین دلوانا چاہتی ہو" ابرش کے چھیڑنے پر ماہیر سرچ پڑی۔۔
تم بہت فضول بولتی ہو" ماہیر نے خفگی سے کہا اور پھر ایک خوبصورت سا بکے اور کیک لیے وہ دونوں اچھا سا کھانا کھا کر واپسی کے لیے نکلیں انہیں اندازہ نہیں ہوا تھا اور شام کے سارھے سات ہو گئے تھے گاڑی میں بیٹھتے ہی ماہیر کے ہاتھ پاوں پھول گئے تھے عون عباس کا ڈر اس وقت سر چڑھ کر بول رہا تھا ۔۔ کیونکہ ابرش نے آج اسکی ایک بات نہیں سنی تھی لاکھ واپسی چلنے کی منتیں وہ چٹکیوں میں اڑاتی ماہیر کے لیے مشلل کھڑی کر گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عون عباس شام ساڑھے چار ہی گھر واپس آگیا تھا خالی کمرہ منہ چڑاتا دیکھ وہ ماں کے کمرے میں گیا جو نیچے ڈرائنگ روم میں تھیں کوئی ملنے والی آئی ہوئی تھی اسکا رخ اب ابرش کے کمرے کی طرف تھا اس وقت ماہیر کو ڈھونڈتے وہ اچھا خاصا جھنجھلایا ہوا لگ رہا تھا۔۔۔ ابرش کا خالی کمرہ دیکھ وہ پلٹا ہی تھا جب نشوہ وہاں چلی آئی ۔
ماہیر کو ڈھونڈ رہے یو؟" نشوہ نےمسکرا کر پوچھا۔
ہاں۔۔ پتا نہیں کہاں ہے" عون نے سر سری سا کہا لیکن اسکے لہجے میں ماہیر کے لیے تڑپ نشوہ کو تڑپا گئی تھی۔
وہ تو گھر پر نہیں ہے" نشوہ نے خود کو سنبھالتے جلدی سے کہا
کیا مطلب؟" عون نے الجھ کر پوچھا۔
کیا وہ تمہیں بغیر بتائے چلی گئی؟" نشوہ نے مصنوعی حیرت سے پوچھا۔
کہاں چلی گئی؟ یہی کہی ہو گی" عون نے آگے بڑھتے ہوئے کہا
وہ گھر پر نہیں ہے تمہاری اوڈی لے کر گئی ہے ابرش کے ساتھ" نشوہ آگ لگاتی اب اثر دیکھنا چاہ رہی تھی۔
کیا بول رہی ہو۔۔۔ میری اوڈی لے کر۔۔۔گئی ہے؟" عون نے حیرت سے پوچھا
ہاں ناں۔۔۔ دونوں تین بجے کی گئیں ہوئیں ہیں۔۔۔ حیرت ہے تمہاری بیوی تمہیں بغیر بتائے تمہاری گاڑی لے کر فرار ہے" نشوہ نے بظاہر فکر مندانہ لہجے میں کہا۔۔ اور بس عون عباس تن فن کرتا نیچے ماں کے پاس گیا۔۔۔
ماں۔۔۔ ماہیر کہاں ہے؟" ضبط سے ماں سے پوچھا جو مہمان کے جانے کے بعد اوپر ہی آرہیں تھیں۔
وہ۔۔۔ ابرش کے ساتھ بازار گئی ہے" مریم بیگم نے نرمی سے کہا
تائی جان آپکو پتا ہے۔۔۔ وہ دونوں عون کی اوڈی لے کر گئیں ہیں" نشوہ نے پریشانی سے کہا
ارے نہیں۔۔۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہو گی۔۔۔ " مریم بیگم نے بات سنبھالی سب خواتین کے بیچ اس طرح بات ہونا انہیں اچھا نہیں لگ رہا تھا۔۔۔
نہیں تائی جان۔۔ میں نے خود دیکھا تھا۔۔۔ اتنی مہنگی گاڑی۔۔ عون کو بتائے بغیر لے کر چلی گئ۔۔۔ اب وہ ایسے کرے گی۔۔۔ کمرے میں رکھی چیزیں چرائے گی۔۔۔ تو شوہر کیسے اعتبار کرے گا" نشوہ نے جلتی پر تیل ڈالا۔
ایسا کچھ نہیں ہے نشوہ۔۔ وہ میری اجازت سے گئی ہے" نریم بیگم نے سنجیدگی سے کہا
گاڑی کا تو آپکو بھی نہیں پتا تھا دیکھیں ابھی میں نے بتایا ہے۔۔۔اعر آپ کو تو محبت ہی بہت ہے اسسے اسی لیے پردے ڈھک رہیں ہیں آپ بہو کی غلطیوں پر" نشوہ نے چڑ کر کہا عون بلکل خاموشی سے وہاں سے نکل کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔۔۔اور اب شام کے ساڑھے سات بج رہے تھے۔۔وہ کمرے میں ادھر سے ادھر مراچ کرتا پھر رہ تھا ۔۔۔زیادہ برا اسے کس بات کا لگ رہا تھا۔۔وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔ ماہیر کے بغیر بتائے گھر سے نکلنا یا گاڑی لے کر جانا۔۔۔ پہلی بات اسے زیادہ صیحح لگ رہی تھی لیکن ماہیر کا اسطرح جانا اسے برا کیوں لگ رہا تھا۔۔۔ یہ بات زیادہ غصہ دلوا رہی تھی ۔۔ پہلی بار اسکی گاڑی کا کسی اور کا استعمال کرنا برا نہیں لگا تھا وہ اسکی بیوی تھی اور شاید اپنی چیزوں پر لاشعوری طور پر وہ اسکا حق تسلیم کر گیا تھا۔۔۔
ابرش نے گاڑی پارک کی تو ماہیر نے لب کچلتے اسے دیکھا۔۔۔
وہ آگئے ہیں۔اب ۔۔اب کیا ہو گا؟" ماہیر نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔
اب تو مجھے بھی ڈر لگ رہا ہے۔۔ ماہیر میری جان۔۔۔ تم بیوی ہو۔۔۔ کوئی بیویوں ولی ادائیں دیکھا کر غصہ ٹھنڈا کر دینا پلیز" ابرش نے ایک بار پھر سارا بوجھ اسکے گلے میں ڈالا۔۔۔ماہیر آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اور یہ سامان؟" ماہیر کو بہت سی فکریں تھیں۔۔
یہی پڑا رہنے دو۔۔۔ بعد میں اٹھا لیں گے" وہ دونوں گھر میں داخل ہوئیں تو رات کے کھانے کی تیاری ہو رہی تھی نشوہ لاونج میں بیٹھی انہی کا ویٹ کر رہی تھی۔۔۔
آگئیں تم دونوں؟" نشوہ نے طنز کیا
جی آپی" ابرش سرسری سا کہتی آگے بڑھی۔۔
انہیں بتاو تو منہا۔۔ کیا ہونے والا ہے انکے ساتھ۔۔۔عون عباس ساڑھے چار بجے سے بھوکا بھڑیا بنا ماہیر حیدر کا انتظار کر رہا ہے" نشوہ نے وہاں بیٹھی منہا کو شامل کیا۔ جو جتنا بچنا چاہ رہی تھی نشوہ اتنا ہی اسے گھسیٹ رہی تھی۔
کمرے سے گاڑی کی چابیاں چوری کی ہیں محترمہ نے" نشوہ نے طنز کیا
تم نے انہیں بتائے بغیر گاڑی کی چابیاں لیں تھیں ماہیر؟" منہا نے سرسری سی بات کی لیکن ابرش تو انکی پرانی حرکتوں سے بھی پھکی بیٹھی تھی۔
یہ آپکا مسئلہ نہیں ہے بھابھی۔۔۔اپ دونوں اپنے کام سے کام رکھیں۔۔ یہ عون بھیا کی بیوی ہے جو مرضی چیز چاہے استعمال کر سکتی ہے آپ کون ہوتیں ہیں پوچھنے والی؟" ابرش نے تڑخ کر کہا تو منہا اور نشوہ غصے سے سرخ ہوئیں۔۔
چلو تم۔۔ کن کی سن رہی ہو" اسکا ہاتھ تھامتی وہ آگے بڑھی۔
مریم بیگم لاونج میں پریشانی سے سر تھامیں بیٹھیں تھیں۔
اسلام وعلیکم!" ماہیر نے مدھم لہجے میں کہا خوف سے اسکا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا۔
مریم بیگم جواب دیتیں اسکے پاس آئیں ۔۔۔
بہت دیر کر دی بیٹا" انھوں نے دونوں سے کہا بس وہ تائی جان ٹریفک بہت تھی" ابرش نے جلدی سے کہا
عون بہت غصے میں ہے نشوہ نے سب بتا دیا انہیں۔۔۔ جب سے کمرہ بند کیے بیٹھے ہیں " مریم بیگم نے پریشانی سے کہا۔
اب کیا ہو گا تائی جان " ماہیر نے خوفزدہ ہو ہر کہا وہ بس رو دینے کو تھی
اچھا تم پریشان مت ہو۔۔۔ میں بات کرتی ہوں بس تم لوگوں کا ہی ویٹ کر رہی تھی کب سے" مریم بیگم نے کہا تو ابرش سر ہلاتی واپس مڑ گئی جبکے ماہیر انکے ساتھ کمرے کی طرف بڑھی انکا ہاتھ مضبوطی سے تھامے وہ ڈری سہمی سی کھڑی تھی۔۔
مریم بیگم نے دروازے پر دستک دی۔۔۔
عون بیٹا۔۔۔ دروازہ کھولو " مریم بیگم نے نرمی سے کہا اور پھر دو منٹ کی محنت کے بعد عون عباس دروازہ کھولے خونخوار نگاہوں سے ماہیر کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ جو سر جھکائے بری طرح لب کچل رہی تھی۔
تو آپکی بہو ۔۔۔ گھر واپس آ گئیں ہیں" عون نے طنز کیا۔
کیا ہو گیا ہے عون۔۔۔ مجھ سے پوچھ کر گئیں تھیں اب بتاو کوئی اعتراض ہے تمہیں" مریم بیگم نے خفگی سے کہا شام سے ایک ہی رٹ سن کر انہیں غصہ آگیا تھا۔
اور گاڑی کی کیا بات ہے اسمیں۔۔ کیا آپکی چیزوں پر ماہیر کا کوئی حق نہیں ہے ؟" مریم بیگم نے خفگی سے کہا۔
عون سپاٹ سے تاثرات کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔
مجھے شکایت نہ ملے عون ۔۔۔ بس ختم کرو اس بات کو۔۔۔ دوبارہ ذکر نہ ہو اور نہ ہی تم ماہیر کو کچھ کہو گے" مریم بیگم نے ماہیر کو دیکھتے ہوئے کہا جو بس رونے والی تھی۔۔۔اسکا کندھا تھپکتیں عون کو وارن کرتیں وہ پکٹ گئیں عون بھی غصے سے دروازہ کھلا چھوڑ کر پلٹ گیا شیر کی کچھاڑ میں ماہیر عون کو اکیلے ہی جانا تھا مرے مرے قدموں سے وہ کمرے میں ائی
دروازہ بند ہوتے ہی عون عباس نے ایک جھٹکے سے ماہیر کو اہنے سامنے کیا جو خوفزدہ نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔
اتنی جرت کر لی تم نے؟" عون کی سرد پھنکار پر ماہیر کی آنکھ سے آنسو گرا۔۔ایسا لگ رہا تھا عون ابھی کھینچ کر تھپڑ مار دے گا۔۔۔ ماہیر کے ہاتھ سے چابی چھٹ کر نیچے گری۔۔۔
سوری۔۔" ماہیر نے روندھے ہوئے لہجے میں کہا
کس بات کے لیے؟" عون نے سپاٹ لہجے میں کہتے ہاتھ اٹھایا ارادہ اسکی چادر اتارنے کا تھا خوامخواہ عون عباس کے نظارے کے بیچ میں اڑ بنی ہوئی تھی اور ماہیر نے تھپڑ کے خوف سے سختی سے آنکھیں میچ لیں۔۔۔
آئندہ ۔۔۔ آئندہ نہیں لوں گی۔۔۔ کبھی نہیں ہاتھ لگاوں گی آپکی گاڑی کی چابی کو۔۔۔ پلیز معاف کر دیں۔۔۔ " ماہیر نے سسک کر کہا اور عون عباس نے سکڈ ہو کر اسے دیکھا۔۔۔
بن مارے توبہ کرانے کا ہنر رکھتی تھی کہ لڑکی عون نے اسکی چادر اتاری۔۔۔
میں نے گاڑی کی بات کی تم سے؟" عون کی بات پر ماہیر نے اپنی حیرت سے بھرپور نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔ نم نم سی نگاہیں عون عباس کے دل کی دھڑکن بڑھا گئیں۔۔۔
تو آپ غصے میں کیوں ہیں؟" ماہیر نے روندھے ہوئے لہجے میں ہوچھا۔۔۔ اب وہ کیا ہی بتاتا کہ دل اسکو نا پا کر کیسے تڑپا تھا ۔۔۔ کتنا ڈر لگ رہا تھا کہ ابرش ان ایکسپرٹ ڈرائیور ہے۔۔۔ ایکسیڈینٹ ہو گیا تو کیا ہو گا۔۔۔ گزرے ہر لمحے میں ماہیر کی فکر نے اسے باولا کر دیا تھا وہ خود ابھی اپنی فیلنگز سے چڑ رہا تھا اسے کیا ہی بتاتا ۔۔۔ایک جھٹکے سے وہ اسے سینے سے لگ گیا تھا بغیر کچھ کہے۔۔۔۔ بغیر کوئی جواب دیے ماہیر شاکڈ ہی تو رہ گئی تھی۔۔۔ چند لمحے بعد اسسے خود سے دور کرتا وہ تیور بگاڑ گیا تھا۔
نمبر بتاو اپنا؟" عون نے غصے سے کہا
کس چیز کا نمبر؟" ماہیر کو شاک پر شاک مل رہے تھے
فون نمبر" عون نے غصے سے کہا
وہ تو نہیں۔۔۔۔" عون نے اسکی بات بیچ میں ہی کاٹ دی ۔۔
شیٹ آپ ۔۔۔ مزید کوئی بات نہیں سنو گا۔۔۔ اگر کچھ کہہ نہیں رہا تو زیادہ بہادر بننے کی ضرورت نہیں ہے بہت غصہ آرہا ہے مجھے تم پر" عون نے اکڑ کر کہا
میرے پاس موبائل نہیں ہے " ماہیر منمنائی
واٹ۔۔۔ جھوٹ بول رہی ہو ناں؟" عون نے آنکھیں سکیڑیں۔
میں جھوٹ نہیں بولتی" ماہیر نے جلدی سے کہا
تمہارے پاس موبائل نہیں ہے۔۔۔ تم نے پہلے کیوں نہیں بتایا مجھے؟" عون کو نئے سرے سے غصہ چڑھا۔۔
کیا سمجھتی ہو تم خود کو۔۔۔ بڑی مہان ہو؟" عون جھنجھلاتا بولا۔۔
اور ماہیر تو سمجھنے سے قاصر تھی اسے ہو کیا گیا ہے۔۔۔
کل ہی موبائل آئے گا تمہارا کل ہی " غصے سے کہتا وہ ڈریسنگ سےکی طرف بڑھ گیا زور سے دروازہ بند کرتا وہ درو دیوار ہلا گیا تھا۔ پیچھے ماہیر اسکی حرکتوں پر پریشان ہو گئی تھی ڈر کے ساتھ اب پریشانی لگ گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے

Address

Multan
60000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tania Tahir . Novels posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category