10/10/2026
طلب یار
تانیہ طاہر
قسط 3۱
بارہ بجنے والے تھے جس وقت نشوہ نے منہا کے کمرے کا دروازہ ناک کیا جہانگیر ابھی تک واپس نہیں آیا تھا اور منہا سونے کی تیاری کر رہی تھی جب دروازہ ناک ہوا۔۔
کون" وہ پوچھتی دروازہ وا کر گئی۔
چلو میرے ساتھ" نشوہ نے جلدی سے کہا
کہاں؟" منہا نے روکتے سوال کیا
عون کا برتھ ڈے ہے بارے بجے ہمیں وش کرنا ہے" نشوہ کی بات پر منہا نے قدم روکے۔
مجھے نہیں جانا" منہا نے اسسے اپنا ہاتھ چھڑاتے ہوئے کہا
کیوں؟" نشوہ نے آنکھیں گھمائیں
یہ سب ٹھیک نہیں ہے نشوء۔۔۔ اس طرح کر کے فائدہ کیا ہو رہا ہے ۔۔ کچھ بھی نہیں۔۔۔ عون اپنی زندگی میں خوش ہیں میں کیوں اہنی زندگی تباہ کر رہی ہو۔۔۔ یہ میری غلطی تھی جو مجھے انسے محبت ہوئی ۔۔اور میں اپنی غلطی سدھارنا چاہتی ہوں" منہا نے سکون سے کہا وہ پہلی بار اہنے فیصلے پر جم کر کھڑی ہوئی تھی۔
کیا بولے جا رہی ہو؟ اتنی محنت جو کی تھی وہ پیچھے ہٹنے کے کیے کی تھی؟" نشوہ نے غصے سے کہا
آج تک ہر ایفرٹ کا رزلٹ زیرو ہے نشوہ۔۔۔ پھر کیوں میں اپنی اینرجی ایک ایسی چیز پر خرچ کروں جو میری ہے ہی نہیں" منہا نے بے بسی سے کہا
کیا تم نے کبھی اظہار کیا ؟ نہیں ناں پھر کیوں ہمت ہار رہی ہو" نشوہ غرائی
جہانگیر کا ان سب میں کیا قصور ہے وہ کیوں میری وجہ سے ہرٹ ہوں" منہا نم لہجے میں کہا
اور پھر ۔۔۔ سب کتنا غلط سمجھنے لگے ہیں مجھے۔۔۔ ابرش وہ آج کس طرح بی ہیو کر رہی تھی" منہا نے کہا
ایک منٹ۔۔۔ اندر چلو" نشوہ اسے لیے اسکے کمرے میں آئی ۔۔۔
دیکھو۔۔۔ میں بھی یہی بات کرنا چاہ رہی تھی۔۔۔ سب سے پہلے ابرش کو سائیڈ میں کرو۔۔۔ سب سے زیادہ کام وہی خراب کر رہی ہے۔۔۔ وہ ماہیر کی ایک سٹرونگ بیک ہے۔۔۔اور اسکی موجودگی میں وہ عون عباس کی ساری توجہ ماہیر کی طرف رکھنے کی کوشش میں رہے گی۔۔۔ اسے بیچ سے ہٹاو۔۔ ماہیر خود ہی بے وقت ہو جائے گی سارا کانفیڈینس زیرو۔۔۔ پھر عون عباس کو اپنی طرف مائل کرنا اور پھر اظہار محبت" نشوہ نے اسے سمجھایا۔
ماہیر کی جب کوئی ویلیو ہی نہیں رہے گی تو عون بھی تمہاری محبت کو ایکسیپٹ کر کے گا" نشوہ نے سمجھایا۔
مجھے آج ابرش کی بات بہت بری لگی" منہا نے خفگی سے کہا
ہاں تو لگنی بھی چاہیے۔۔۔ اسکی جرت کیسے ہوئی تمہیں ایسے کہنے کی۔۔۔ اپنے بھائی سے بات کرو۔۔۔وہ شادی کی بات کرے۔۔ جب تک یہ یہاں رہے گی۔۔ ہر معاملے نیں ٹانگ اڑائے گی۔۔۔ قور ماہیر کو سپورٹ کرے گی۔۔۔ اسکی سپورٹ نے ہی تو ماہیر کو کانفیڈینس دیا یے اور عون کو ماہیر کی طرف متوجہ کیا ہے" نشوہ نے اسکا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔
بھیا سے کیا بات کرو میں" منہا نے حیرت ذدہ ہو کر پاچھا۔۔
انہیں بتاو ۔۔ یہ تمہارے ساتھ بد تمیزی کرتی ہے، لڑکوں کے ساتھ پھرتی ہے۔۔ اور یہ سچ بھی یے۔۔۔ آئے روز یونی کا کوئی لڑکا اسے ڈراپ کر رہا ہوتا ہے" نشوہ نے آنکھیں گھما کر کہا منہا نے حیرت سے اسے دیکھا
کیا یہ سچ ہے؟" منہا کے سوال پر نشوہ کو اپنا پلین کامیاب ہوتے نظر آیا
ہاں ناں۔۔۔ تم تو کمرے سے نکلتی نہیں ہو۔۔۔ لان میں جاو تو پتا چلے۔۔۔ میں تو اکثر ٹیرس پر ہوتی ہوں تو مجھے پتا ہے۔۔۔ کل بھی کسی لڑکے نے ڈراپ کیا ہے " نشوہ نے جلدی سے کہا منہا آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہی تھی
ہاشم بھیا کو یہ سب نہیں پسند۔۔۔ وہ تو بہت ناراض ہوں گے اس بات پر " منہا نے پریشانی سے کہا
اچھا ہے اپنی ذمہ داری خود اٹھائیں۔۔ ابرش کو بھی لگامیں ڈلیں تو تمہارے معاملات درست ہوں" نشوہ کہتی زبرستی رات کے اس پہر ہاشم رضا کو کال ملا گئی تھی۔۔ منہا کو سوچنے کا موقع دیے بغیر نشوہ نے ایسی ہڑبونگ مچائی اور پھر خود ہی اسکے موبائل سے کال ملا گئی۔۔
ہیلو۔۔۔ منہا خیریت اس ٹائم کال کی" ہاشم کی گھمبیر آواز گونجی
جی ۔۔۔ بھیا کیسے ہیں؟" منہا گڑبڑاتی بولی
میں ٹھیک ہوں۔۔تم کیسی ہو کیا ہوا ہے تم ٹھیک ہو؟" ہاشم کے لہجے میں ہریشانی تھی نشوہ نے اسے ٹھونگا مارا تو منہا سٹپٹاتی اسے دیکھنے لگی پھر بولی۔۔
بھیا۔۔۔ آپ ۔۔۔ آپ ابرش کی رخصتی کرا لیں" منہا نے ہچکچاتے ہوئے کہا
خیریت۔۔ کیا ہوا ہے؟" ہاشم کا لہجہ سرد ہوا تھا۔
بھیا وہ۔۔۔ وہ ۔۔۔ مجھے تنگ کرتی ہے۔۔۔ باتیں سناتی ہے۔۔ ہر چیز پر اعتراض۔۔۔ اعتراض ہے اسے۔۔۔ اور ۔۔۔اب تو یونی جانتی ہے تو ہر روز کسی نئے لڑکے کے ساتھ۔۔۔۔ ساتھ واپس آرہی ہے۔۔۔" منہا نے وہی بولا جو اپنے موبائل پر نشوہ نے اسے لکھ کر دیا۔۔اور یہ بولتے منہا کے پسینے چھٹ گئے تھے۔ دوسری طرف گھمبیر خاموشی چھا گئی ہاشم رضا نے مٹھیاں بھینچں تھیں۔
آج دوپہر میں بھی مجھ سے لڑی ہے۔۔۔ اسکی موجودگی یہاں میری زندگی مشکل کر رہی ہے" منہا کی بات پر ہاشم رضا کی سرد و سپاٹ آواز گونجی
تم فکر نہ کرو۔۔۔ اب وہ تمہاری زندگی میں مسائل پیدا کرنے کے قابل نہیں رہے گی اس ویک اینڈ پر میں اور اماں جی ا کر رخصتی کی بات کر لیں گے" ہاشم کہتا اسے تسلیاں دینے لگا۔۔۔ بہن کی محبت اس وقت سر چڑھ کر بول رہی تھی اور بارہ بجتے دیکھ نشوہ نے اسے ٹھونگا مارا وہ کال بند کرتی اسکی طرف دیکھنے لگی۔
یہ غلط ہو گیا ہے نشوہ۔۔۔ ہاشم بھیا بہت سخت مزاج ہیں ابرش کی بعد کی زندگی میں کوئی مسئلہ نہ ہو جائے" منہا نے گھبرا کر کہا
پہلے اٹھو۔۔۔ ہم عون کو وش کرتے ہیں پھر سوچیں گے کہ کیا کرنا ہے" نشوہ ہاتھ چھاڑتی اٹھی۔۔۔ منہا جبکے بیٹھی رہی۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔ کچھ غلط ہو گیا ہے۔۔۔ تم جاو۔۔ مجھے نہیں جانا " منہا نے لب کچلتے ہوئے کہا
اٹھو بھی۔۔۔اتنی بھولی نہیں ہو جتنی بن رہی ہو۔۔۔ چلو میرے ساتھ" نشوہ غصے سے کہتی اسکا ہاتھ تھام کر باہر نکلی اور اسکے لفظوں کی کاٹ پر منہا بس اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عون عباس بستر پر نیم دراز موبائل یوز کر رہا تھا ۔۔ جبکے ماہیر آج دیر سے نماز پڑھ رہی تھی۔
اس محترمہ کو تو میری برتھ ڈے بھی نہیں پتا۔۔۔ وش کیا خاک کرے گی" عون نے غصے سے سوچا
ویسے ہر وقت ابرش کے ساتھ چپکی رہتی ہے۔۔۔اور ابرش نے بھی نہیں بتایا ، حیرت ہے" عون نے غصے سے ماہیر پر نظر ڈالی۔۔۔
اجثسے پہلے اسکے کزنز اور خاص کر جہانگیر رات بارہ بجے اسے وش کرنے کمرے میں پہنچ جاتا تھا۔۔۔ اب تو دور دور تک ایسے آثار نظر نہیں آرہے تھے۔۔۔
عون نے موبائل کی طرف دیکھا جہاں بارہ بجنے میں تین منٹ تھے اور اسی لمحے ماہیر جائے نماز سے اٹھی ۔۔ جائے نماز تہہ کرتے وہ ٹیبل کے ڈرا میں رکھتی خالی پانی کا جگ اٹھا گئی۔۔۔ اور کمرے سے نکل گئی۔
ایسی بیوی بھی اللہ کسی کو نہ دے۔۔۔ " عون نے تلخی سے سوچا اور منہ بناتا تکیہ باہنوں میں بھرتا لیٹ گیا۔۔۔ اسے ہمشیہ سپیشل فیل کرایا گیا تھا۔۔۔ برتھ ڈے کا دن پورے ہنگاموں سے شروع ہوتا تھا یہ کسی برتھ ڈے تھی جو اس قدر اداس سی تھی۔۔۔ جبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔
اسنے حیرت سے سر اٹھایا۔۔
یس" مدھم لہجے میں کہتے ہی نشوہ اور منہا کیک، بے لون، اور پھول لیے اندر آئیں ۔۔۔ جاسم جسکو نشوہ زبردستی لائی تھی وہ کچن کی لائیٹ آن دیکھ کر اس طرف بڑھ گیا۔
ہیپی برتھ ڈے ڈئیر فرینڈ" نشوہ مسکراکر کہتی آگے بڑھی عون عباس کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔۔۔
تمہیں یاد تھا؟" عون نے بستر سے نکلتے ہوئے پوچھا۔
ہاں جی۔۔۔ میں کوئی تمہاری بیوی جیسی تو ہوں نہیں جسے اتنا خاص دن یاد نہ ہو" نشوہ کہتی ٹیبل پر کیک رکھتی اسے پھول اور بالونز دے گئی۔۔۔
ہیپی برتھ ڈے عون" منہا نے مدھم لہجے میں کہا تو پہلی بار مروت میں عون تھینک یو کہہ گیا۔۔۔ جبھی اسکی نظر جاسم کے ساتھ دروازے پر کھڑی ماہیر پر پڑی۔۔۔ جسکے ہاتھ میں کیک اور پھول تھے۔۔۔ لیکن چہرہ انکی موجودگی پر مرجھایا ہوا تھا وہ تو ابھی نہیں رہی تھی لیکن جاسم اسے زبردستی لایا تھا جب وہ کچن میں پہنچا تو ماہیر ٹرے تھامے کنفیوز سی کھڑی تھی۔
سوری بھابھی ۔۔۔ آپکا مومنٹ خراب کر دیا۔۔۔ میں تو آنا ہی نہیں چاہتا تھا اس ٹائم بس وہ نشوہ آپی " جاسم نے سر کھجاتے شرمندگی سے کہا
چلیں۔۔ آپ ٹرے رکھ کیوں رہیں ہیں اٹھائیں آپکا پہلا حق ہے" جاسم اسے زبردستی ٹرے تھماتا ساتھ لایا۔۔۔ لیکن نشوہ اور منہا پہلے ہی ٹیبل سیٹ کیے بیٹھیں تھیں۔۔۔عون نے ایک نظر ماہیر کے ہاتھ میں موجود ٹرے دیکھی جو وہ شرمندہ سی ہوتی لیے واپس مڑ گئی۔۔
نشوہ آپی ۔۔ بری بات ہے یہ ہمیں اس ٹائم نہیں آنا چاہیے تھا" جاسم نے شرمندگی سے کہا
چلیں اٹھیں۔۔ بھیا بھابھی ک مومنٹ خراب مت کریں" جاسم نے کہا تو نشوہ نے اسے گھورا۔۔۔ منہا جلدی سے اٹھی اسے تو پہلے ہی گھبراہٹ ہو رہی تھی۔۔۔ اسسے پہلے منہا نکلتی کہ جہانگیر وہاں چلا آیا اور جن نظروں سے اسنے منہا کو دیکھا تھا منہا کا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اسمیں سما جائے۔۔
نشوہ۔۔۔ ساتھ لائیں تھیں" منہا منمنائی جہانگیر ایک نظر غصے سے اسے دیکھتا عون کی طرف بڑھا۔
سوری یار ہماری وجہ سے تمہارا سپیشل مومنٹ خراب ہوا۔۔۔ تم انجوائے کرو۔۔۔ اور ہیپی برتھ ڈے" جہانگیر نے عون کے گلے لگتے ہوئے کہا اور اسے وش کرتا سختی سے منہا کا ہاتھ تھامے پلٹ گیا۔ جاسم بھی وش کرتا واپس نکل گیا عون بغیر کچھ بولے بس مسکرا رہا تھا نشوہ ڈھیٹ بنی بیٹھی تھی۔
تم نہیں جا رہی؟" عون نے مسکراتے پوچھا
مجھے نہیں پتا تھا تم اسطرح انسلٹ کرو گے" نشوہ نے اٹھتے غصے سے کہا
انسلٹ کہاں کر رہا ہوں۔۔۔ بس جیسے سب کو احساس ہوا مجھے لگا تم بھی چلی جاؤ گی" عون نے مسکرا کر کہا
بہت عزیز ہو گئی ہے وہ؟" نشوہ نے عجیب سے لہجے میں سوال کیا
کہہ سکتے ہیں" عون نے مسکراتے اسے سلگایا
بڑے تھرڈ کلاس کر لیا اپنا سٹینڈر" نشوہ نے طنز کیا اور اسکا طنز وہاں آتی ماہیر حیدر نے بھی سنا تھا اسکے چہرے کے پھیکے رنگ عون عباس کو برے لگے تھے اسنے خفگی سے نشوہ کو دیکھا۔
اب تم جاو بھی۔۔۔ اس وقت کوئی فضول سٹیٹمنٹ سننے کے موڈ میں نہیں ہوں میں" عون نے سنجیدگی سے کہا نشوہ ایک زہر آلود نگاہ ماہیر پر ڈالتی پلٹی۔۔۔ اسکا سجایا سارا سامان ایسے ہی پڑا رہ گیا تھا۔۔۔ ماہیر جھجھکتی اندر آئی ۔۔۔
یہ سامان اٹھا دو" عون نے ماہیر کو کہا اور اسنے حیرت بھری نگاہ اسپر ڈالتے سامان سمیٹا اور کچن میں رکھ کر واپس آئی ۔۔۔ عون اسے خالی ہاتھ دیکھ کر چونکا۔۔۔ تو کیا مطلب تھا اب وہ اسکی سالگرہ نہیں منائے گی؟
ماہیر کمرہ نیٹ کرتی ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ عون کی انا گوارہ نہیں کر رہی تھی کہ وہ ماہیر سے پوچھتا کہ کیک کہاں ہے۔۔۔ اور پھر ماہیر لائیٹس ہلکی کرتی بستر پر آئی عون پہلے ہی بستر میں تھا۔۔۔ عون نے ایک شاکڈ نظر اس بے حس لڑکی پر ڈالی جو بلکل ایسے ہو گئی تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ تھا۔۔۔ وش تک کرنا مناسب نہیں سمجھا تھا اسنے۔۔۔۔ماہیر اسکی طرف سے کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی اور عون نیم دراز کینہ توڑ نگاہوں سے اسے دیکھ رہا تھا اور پھر عون عباس کا غصہ جیت گیا تھا انا کو یک طرف رکھے وہ اس بے حس پر سے بلینکٹ اتار گیا تھا۔
ماہیر ہڑبڑاتی اٹھی۔۔
کیا ہوا؟" بڑی بڑی آنکھوں میں حیرت لیے وہ سوال کر رہی تھی۔
اتنی تم معصوم ہو نہیں جتنی تم بن رہی ہو" عون نے غصے سے کہا
میں نے کیا کیا ہے؟" ماہیر نے الجھ کر پوچھا۔
کیا کیا ہے۔۔۔؟ تم نہیں جانتی تم نے کیا کیا ہے؟" عون نے غصے سے پوچھا ماہیر تو اسکے غصے سے سہم گئی تھی۔
ہوا کیا ہے ؟ ماہیر نے بے بسی سے کہا
ایک گھنٹے پہلے کیا ہو رہا تھا ہمارے کمرے میں؟" عون نے خفگی سے پوچھا وہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔ عون کا بس نہیں چل رہا تھا اسکا حشر بگاڑ دے اور وہ بلکل بے وقوف بنی بیٹھی تھی۔
سب آپکو وش کرنے آئے تھے" ماہیر نے جلدی سے کہا
شکر ہے یاداشت واپس آگئی " عون نے طنز کیا ماہیر نے لب کچلے۔۔۔
یہ میں بھی کر سکتا ہوں۔۔۔تم بات ڈائیورٹ مت کرو" عون نے خفگی سے اسکا ہونٹ چٹکی میں بھرتے کہا تو درد کے مارے ماہیر کے آنسو آگئے ۔۔۔
یاد کر لو ماہیر عون کہ تم کیا بھول رہی ہو۔۔۔ورنہ آج رات میں بلکل سونے نہیں دوں گا تمہیں۔۔۔ جان ہلکان کر دو گا وعدہ رہا" عون کی وارنگ پر ماہیر نے بے بسی سے اسے دیکھا۔۔
آپکی برتھ ڈے تھی" ماہیر منمنائی
تھی نہیں ہے۔۔۔ اور کیا کیا تم نے۔۔۔ ادھر دیکھو ۔۔ سر جھکانے کی ضرورت نہیں ہے" عون نے اسکا چہرہ ٹھوڑی سے پکڑ کر اوپر کیا۔
میں۔۔۔ کیک لائی تھی" ماہیر نے جلدی سے کہا
اترو میرے بستر سے۔۔۔ جلدی ہری آپ ۔۔۔ سرپرائز دو مجھے۔۔۔ جلدی ۔۔۔ بلکل ویسے ہی جیسے دینا چاہ رہی تھی" عون عباس نے غصے سے کہا اور ماہیر اسے دیکھ کر رہ گئی یہ شخص ہر بات صرف غصے سے منواتا تھا۔۔۔۔ نرمی، محبت، ہر جذبہ صرف غصے سے شروع ہو کر غصے پر ختم ہوتا تھا۔۔۔
ماہیر ہڑبڑاتی اٹھی اور ڈوپٹہ لیتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔ عون نے لائٹس آن کیں۔۔۔اب دل کو کچھ ڈھارس ہوئی تھی ایسے کیسے وہ اپنی برتھ ڈے ضائع ہونے دے دیتا۔۔۔ اور تجسس الگ تھا کہ ماہیر اسے کیا گفٹ دے گی۔۔۔ اور پھر پانچ منٹ بعد رات کے ڈیڑھ بجے ماہیر ٹرے تھامے کمرے میں آئی ۔۔۔ اسکے ہاتھ میں کچھ گفٹس کے بیگ تھے اور ٹرے میں پھول اور کیک لیے وہ سرخ چہرے کے ساتھ کمرے میں آئی ۔۔۔عون عباس صوفے پر سکون سے بیٹھا تھا۔۔۔ اسکی ارینجمنٹس آئی برو اچکا کر دیکھی۔۔۔
ہیپی۔۔۔ برتھ ڈے" ماہیر نے مدھم لہجے میں کہا اسکے چہرے پر جلتی موم بتی کی روشنی کا عکس بڑا دلکش لگ رہا تھا۔۔۔
تھینک یو" عون نے اکڑ کر کہا
لیکن ایسے نہیں جاؤ جلدی سے تیار ہو کر آؤ ۔۔۔ ہری آپ" ماہیر نے آنکھیں پھیلا کر اسے دیکھا۔۔۔
جلدی کرو" عون نے کہا تو ماہیر مرے مرے قدموں سے ڈریسنگ کی طرف بڑھ گئی۔۔ عون عباس نے اٹھ کر شیشے میں خود کو دیکھا وائیٹ ٹراوز شرٹ میں وہ ہمیشہ کی طرح ہینڈسم لگ رہا تھا بالوں کو یک بار پھر سے بناتے پرفیوم کی بارش خود پر کرتے عون صوفے پر بیٹھا انتظار کر رہا تھا۔۔۔ ماہیر بلیک شارٹ شرٹ اور کھلے پائنچوں کے ٹراوز میں بالوں میں ہالف کلپ لگائے اسکے سامنے تھی۔۔۔
میک آپ کرو یار۔۔ کیوں ٹائم ویسٹ کررہی ہو" عون نے خفگی سے کہا
ماہیر پہلی بار جھنجھلائی تھی۔۔
ایسے ہی ٹھیک۔۔۔اہ" ماہیر کی چینخ نکلی کیونکہ وہ اسکی کلائی موڑ چکا تھا ۔
تیار ہو" معنی خیزی سے کہتا وہ اسے وارن کر گیا تھا۔۔۔
ماہیر ڈریسنگ ٹیبل کی طرف بڑھی۔۔۔ نم نگاہوں سے وہ کپکپاتے ہونٹوں پر لپ سٹک لگا رہی تھی۔۔۔ پھر ہلکا سا بلش لگایا اور مسکارہ لگاتی وہ مڑی۔۔۔
جیولری کہاں ہے؟" عون تو فل پروٹوکول کے ساتھ برتھ ڈے منانا چاہتا تھا۔۔
ماہیر پوری طرح تیار ہوتی اسکے سامنے تھی وہ اتنی حسین لگ رہی تھی کہ عون عباس کے دل دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی تھی ۔۔اسنے اٹھتے مدھم آواز میں گانا چلایا۔ آگے بڑھتے وہ ماہیر کے بالوں سے کلپ نکال گیا تھا ماہیر سرخ پڑتی چہرہ جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔
چلو۔۔۔ گفٹس دو" عون نے سرگوشی کی تو ماہیر ایک کے بعد ایک کیری اسکی طرف بڑھا گئی۔۔۔ عون عباس نے ایک ایک کر کے سارے گفٹس کھولے۔۔۔
نائس،گڈ، ویل ڈن، اوکے" ایسے کمنٹس تھے جو وہ ہر گفٹ کھولتا بول رہا تھا فارٹی رولز آف لو کو دیکھ کر وہ مدھم سا مسکرایا۔۔۔ ماہیر تو چور نظروں سے اس حسن کے دیوتا کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
نائس چوائس" کتاب ہلکی سی اسکے سر پر مارتے عون نے مسکراتے ہوئے کہا
پھول کون دے گا" عون کی بات پر ماہیر نے پھول اسکی طرف بڑھائے۔۔
یونیک چوائس۔۔۔ محبت سے پہلے وفاداری ہونا ضروری ہے آئی اگری" عون عباس خوش ہوتا بولا۔۔۔ اج وہ ماہیر کو بلکل الگ ہی لگا تھا۔۔۔ یا شاید وہ اپنی برتھ ڈے کو لے کر بہت ایکسائیٹیڈ تھا۔۔۔ کیا اپنی پزیرائی اسکو بہت پسند تھی۔۔۔
کینڈل دوبارہ جلاو" عون نے مدھم لہجے میں کہا تو ماہیر کینڈل جلا گئی۔۔۔ عون نے ہلکے میوزک کے سحر میں کیک کاٹا۔۔۔ یہ زندگی کی پہلی سالگرہ تھی جو بلکل مختلف لیکن سب سے شاندار تھی۔۔۔ کیک کٹ کرتا وہ۔۔ ماہیر کی طرف بے ساختہ بڑھا گیا۔۔۔ جو اسکا بڑھا ہاتھ دیکھتی ہلکا سا کیک چکھ گئی۔۔۔
میرا نہیں کراو گی؟" عون نے سرگوشی کی ماہیر اسسے پہلے کیک اسکی طرف بڑھاتی عون نے اسکی انگلی سے کیک اٹھایا اور وہ انگلی اسکے گال پر مس کی۔۔۔۔ اور جھکتا محبت بھرے بوسے کے ساتھ کیک ٹیسٹ کیا ماہیر سرخ پڑتی۔۔۔ سر جھکا گئی۔۔۔
مجھے نہیں پتا تھا چاکلیٹ کیک اس قدر مزے دار ہو گیا ہے" عون کی گھمبیر سرگوشی پر ماہیر دوبارہ پلکیں نہیں اٹھا سکی تھی۔۔۔
چلو ۔۔۔ اب شرمانے والی کوئی بات ہمارے بیچ نہیں رہی جلدی سے کیک سرو کرو" عون اگر اسے نہ آڈر کرتا تو وہ جانتا تھا دوبارہ یہ لڑکی سر نہیں اٹھا پائے گی
تو اس سب کے لیے شام میں تم مفرور ہوئیں تھیں" عون نے اسے چھیڑا جو کیک پلیٹ میں رکھے اسکی طرف بڑھا گئی۔۔۔
جی وہ ابرش۔۔۔۔" عون نے اسے ٹوکا۔۔
اونہہ۔۔۔ خبردار جو سارے انتظام کا کریڈٹ کسی اور کو دیا۔۔۔۔ کہو یہ سب تم نے میرے لیے کیا تھا" عون نے خفگی سے کہتے ضد کی اور ایک جھٹکے سے سے اپنی جانب کھینچا ۔۔
جی۔۔۔۔ جی ایسا ہی ہے" ماہیر نے ڈرتے جلدی سے کہا کیونکہ لمحوں میں وہ آپے سے باہر ہوتا تھا۔۔۔
محبت کرو گی مجھ سے؟" اسکے چہرے پر اپنا لمس بکھیرتا عون عباس ایک بار پھر اسے مشکل میں ڈال گیا تھا۔۔۔اور ماہیر کیا ہی جواب دیتی۔۔۔۔ بلکل چپ رہی۔۔۔
سوچ لو۔۔۔ آج نہیں تو کل۔۔۔اس بات کا جواب دینا ہو گا مجھے" عون کہتا اسپر چھا گیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہانگیر نے اسے کمرے میں لا کر پھینکا۔
تم۔۔۔ تم کبھی نہیں سدھر سکتی" جہانگیر نے غصے سے کہا
ایسا نہیں۔۔ ہے میں نہیں جانا چاہتی تھی" منہا نے سسک کر کہا کہونکہ گرنے سے گھٹنوں میں چوٹ لگی تھی۔
میں نے تمہیں گندگی سے کھینچ کر نکالنا چاہا تھا مگر وہ کہتے ہیں ناں جہاں کی اینٹ ہو وہیں سجتی ہے" جہانگیر کی بات پر منہا نے نم نگاہوں سے اسے دیکھا
میں آپکی عزت ہوں جہانگیر ۔۔۔ آپ ایسا نہیں کہہ سکتے" منہا نے روندھے ہوئے لہجے میں کہا
تم نے مجھے پاگل کر دیا ہے۔۔۔ مجھے ۔۔ مجھے اذیت ہوتی ہے تمہاری حرکتوں سے" جہانگیر کی آواز بھرائی
میں۔۔۔ میں ایسی نہیں تھی ۔۔ نہ ایسی ہوں۔۔۔ وہ بس۔۔۔ نشوہ نے۔۔٫ " منہا نے کہنا چاہا جب جہانگیر نے اسے ایک طرف جھٹکا وہ جو اسکا ہاتھ تھام کر کھڑی ہو رہی تھی بری طرح گری۔۔۔
میں کچھ نہیں سننا چاہتا۔۔ بہتر ہے کل تم آنٹی کی طرف چلی جاو پلیز۔۔۔ میں ذہنی سکون چاہتا ہوں" جہانگیر نے کہا اور ڈریسنگ کی طرف بڑھ گیا پیچھے منہا بہت دیر تک روتی رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی اپنے معمول پر ویسی ہی گزر رہی تھی۔۔۔ منہا اگلے دن ہی ہاشم کو بلا کر اپنے گھر چلی گئی تھی۔۔۔
جہانگیر بھی کسی بزنس میٹنگ کے لیے کراچی چلا گیا تھا۔۔۔ جاسم نے احمد صاحب کو ماہا کی رخصتی کا کہا اور جب یہ بات گھر میں پھیلی تو حیدر صاحب کو ماہا نے خود انکار کیا تھا کہ وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتی
سب ہی اسکی بات پر چونکے تھے۔۔۔ لیکن خاموش ہو گئے تھے۔۔۔ حیدر صاحب نے سلمہ بیگم کے تھرو ماہا پر زور ڈلوایا ہوا تھا۔۔۔اور آج ماہا وہی حساب کرنے جاسم کے کمرے میں کھڑی تھی۔
مجھے ابھی شادی نہیں کرنی" ماہا نے سرد لہجے میں کہا
مجھ سے نہیں کرنی یا ابھی نہیں کرنی؟" جاسم کے طنز پر وہ بلبلائی تھی۔۔
مجھ فلحال تم سے کسی فضول ٹاپک پر بات نہیں کرنا چاہتی" ماہا نے خفگی سے کہا
جسکے پیچھے مر رہی ہو ناں۔۔۔اسے کہو رشتہ بھیجے تمہارا۔۔۔ قسم سے جس دن تمہارا رشتہ آیا ناں خود گھر والوں کو مناوں گا تمہارے لیے" جاسم نے سرد لہجے میں کہا
یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہے " ماہا نے چڑ کر کہا
پھر کس کا مسئلہ ہے یہ۔۔۔تم جانتی بھی ہو وہ کس قدر خبیث شخص ہے۔۔۔ فزیکل ریلشن بناتا ہے وہ ہر دوسری لڑکی کے ساتھ" جاسم نے غصے سے کہا
میں پاگل نہیں ہوں۔۔۔سنا تم نے" ماہا نے چڑ کر کہا
لگ تو ایسا ہی رہا ہے کہ تم پاگل ہو۔۔ جو ہارون بیگ سے دلگی کر رہی ہو" جاسم کے طنز پر ماہا نے اسے گھورا۔۔۔
اسنےمجھے میرے اہم ہونے کا حساس دلوایا ہے جو تم نے کبھی نہیں دلوایا" ماہا نے روندھے ہوئے لہجے میں کہا
اب میں تمہیں کہہ رہا ہوں ماہا حیدر۔۔۔ میں تم سے ہرگز شادی نہیں کروں گا دفع کو جاو یہاں سے" جاسم نے غصے سے کہا اور ماہا اسکے تیور دیکھتی روتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔۔۔
جاری ہے