19/04/2026
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں، جب دنیا جدید ٹیکنالوجی کی طرف بڑھ رہی تھی، تب سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم فرمانروا سلطان عبد الحمید ثانی نے ایک تاریخی قدم اٹھایا۔
25 شعبان 1326 ہجری (1908ء) کو، جس دن حجاز ریلوے کا باقاعدہ افتتاح ہوا، اسی دن پہلی مرتبہ مسجد نبوی کو بجلی کی روشنی سے منور کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے سلطان نے خصوصی طور پر دو برقی جنریٹر اور روشنی کے نظام مدینہ منورہ بھجوائے۔
یہ اقدام صرف روشنی فراہم کرنے کا نہیں تھا، بلکہ یہ ایک پیغام تھا کہ:
ریاستِ عثمانیہ اپنی تمام تر ترقی اور وسائل کو حرمین شریفین کی خدمت کے لیے وقف رکھتی ہے۔
حجاز ریلوے خود بھی ایک عظیم منصوبہ تھا، جس کا مقصد زائرین کو آسانی سے مدینہ منورہ تک پہنچانا اور اسلامی دنیا کو آپس میں جوڑنا تھا۔ سب سے قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ سلطان عبد الحمید ثانی نے ایک غیر معمولی فیصلہ کیا:
انہوں نے حکم دیا کہ ان کے اپنے محل میں اس وقت تک بجلی نہ جلائی جائے جب تک مسجدِ نبوی روشن نہ ہو جائے۔
یہ عمل محض حکومتی پالیسی نہیں بلکہ محبتِ رسول ﷺ، ادب اور روحانی ترجیح کا واضح اظہار تھا۔
ویسے اس ٹاپک پر میں پہلے بھی پوسٹ کر چکا ہوں، لیکن آج جب میں نے یہ واقعہ پڑھا تو رہا نہ گیا۔ اللہ تعالیٰ سلطان عبد الحمید کو جنت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور انہیں حضورﷺ کا پڑوسی بنائے، آمین