14/05/2018
M ë R Ï G h Ä z å L
وقت اپنی روانی میں ڈھلتا رہا ،
میں تنہا تھا تنہا ہی چلتا رہا۔
۔
کبھی ہنستا تھا اپنے نصیبوں پےمیں ،
کبھی اندر ہی اندر جلتا رہا۔
۔
کہیں شکوے ملے اور کہیں ٹھوکریں،
چوٹیں ایسی لگیں کہ سنبھلتا رہا۔
۔
اس کو پانے کی خاطر تو سب کچھ کیا،
وہی سنگ دل تھا راستے بدلتا رہا۔۔۔۔