Islamic book , aqwal e zareen, & story books

Islamic book , aqwal e zareen, & story books Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Islamic book , aqwal e zareen, & story books, Book shop, Peshwer, Peshawar.

17/05/2024
01/01/2024

"اووو. تو دوہلا بھائی آپ ہیں ویس اتنی آسانی تو ہم آپ کو اندر نہیں جانے دیں گے " صبا نے راستہ روکا
"تو کیسے جانے دیں گی" سمنے کھر شخص نے آبرو اچکا کر کھا
" ہماری اتنی حسین دوست ایسے آسانی سے جانے دیں " صبا نے اترا کر کھا
"کم تو آپ بھی نہیں " عمیر نے نہایت قریب آ کر سرگوشی کی
"صبا کون ہے اتنی دیر لگا دی "آندر سے سیرش کی آواز آئی
"ہم ہیں آپ کے مزاجی خدا"عمیر آندر چلا گیا
صبا کر ہلک سے آواز تک نہ نکلی اس کا اپر کا سانس اوپر نیچے کا نیچے رہ گیا وہ بت بنی دروازے می ہی کھڑی رہ گئی (عمیر کی نظریں پہلے سے ہی اسے عجیب لگتی تھی)
چوکیدار کی آواز پر وہ چونکی

"جی "وہ چوکیدار کی طرف متوجہ ہوئی
"بی بی جی آپ کے گھر سے ابھی تک کوئی نہیں آیا "

چوکیدار کے پوچھنے پر اسے خیال آیا
واقعی بہت دیر ہوچکی تھی

"اچھا میں کال کرتی ہو" چوکیدار واپس مڑ گیا
اسنے اپنے بیگ سے ابھی موبائل نکالا ہی تھا کے سامنے آتے شخص پر اس کی نظر پڑی

"نومی بھائی..... آپ (صبا کا چاچا زاد بھائی ) " حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئی

" صبا چلو میں تمہیں لیے آیا ہو" اس نے نہایت سنجیدگی سے کہا وہ تیز رفتاری سے گاڑی کی طرف بڑھا
صبا اس کے پیچھے لپکی

"آپ کب آے کراچی سے اور ابو کیوں نہیں آئے " آتے ساتھ اس نے سوالوں کی بھرمار کر دی "اور کون کون "

" صبا کیا تم تھوڑی دیر چوپ نہیں کر سکتی ہو "اس نے سختی سے کہا صبا کی بات ادھوری رہ گئی اور وہ حیرت سے نومی کو دیکھتی رہ گئی

اس نے کبھی پہلے اس سے اس طرح بات نہیں کی تھی
وہ کب آیا تھا؟

اتنے غصے میں کیوں تھا؟ اس کے دل میں سوالات کا ریلا امڈ آیا تھا

نومی اپنے جذبات کو ضبط کرتا گاڑی چلاتا رہا...........
🖤🖤🖤🖤🖤
جاری ہے.............

❤️💚❤️💚❤️💚❤️💚

01/01/2024

چند ماہ پہلے

وہ شخص دور کھڑا اسے دیکھ رہا تھا اس کے نظروں کے تعقب ایک لڑکی پچے کو چوپ کرانے کی نا کام کوشش میں مصروف تھی
اتنی دور سے آواز نہیں آ رہی تھی مگر اس کی نظر اسی پر رکی تھی
وہ اس بچے کو چوپ کرانے کے لیے آئسکریم لے آئی بچہ آئسکریم دیکھ کر چپ ہو گیا اور اسے کھانے میں مصروف ہو گیا وہ ابھی ادھر ادھر دیکھ رہی تھی کے ایک خاتون آئیں
اس نے بچے کو اٹھا کر گلے سے لگایا اور اسے چومنے لگیں اس خاتون اس لڑکی کا شکریہ ادا کیا اور واپس چلی گئیں
لڑکی اپنے کولج کے گیٹ کی طرف موڑی دو قدم آگے بڑھائے مگر لمحہ بھر کو رکی
اسنے واپس پیچھے موڑ کر دیکھا چاروں اور نظر دوڑائی اس لگا جیسے کوئی اسے دیکھ رہا ہے
مگر دیکھنے والا پہلے ہی محتات ہو چکا تھا
*******************
"یار صبا کہاں تھی تو اتنی دیر لگا دی میں کب سے تیرا ویٹ کر رہی ہوں " وہ ابھی راہ داری میں تھی کے جب اس کی دوست اس کی طرف لپکی
" بس سیرش وہ ہمارے کولج کے باہر ایک بچہ اپنی ماں سے دور ہو گیا تھا بہت رو رہا تھا "
" اور آپ محترمہ اسے اس کی ماں سے ملانے کی جدوجہد میں لگ گئی ہوں گی" سریش نے اپنے لب بھنچے" اچھا اس کی ماں ملی کے نہیں "
"ہاں الله کا شکر ہے کے مل گئیں "اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ ابھری
" اچھا اب جلتی چل کلاس کا ٹائم ہو گیا ہے"

کلاس ختم ہونے کے بعد وہ دونوں اپنی اپنی گاڑیوں کا انتظار کر رہے تھے
"صبا تجھے پتہ ہے عمیر نے مجھے نکاح پر کون سا گفٹ دیا ہے"سیرش کا کچھ دن پہلے اس کی پھپو کے بیٹے سے نکاح ہوا تھا
"نہیں "صبا جو پچھلے کچھ دنوں سے عمیر نامہ سن سن کر تھک چکی تھی اس نے بیزاری سے کھا
سیرش مسلسل اپنے اور عمر کے بارے میں بتائے جا رہی تھی وہ اس کہ رہی تھی کے وی اس کی شادی پر اس کے گھر ٹھہرے
صبا بس" ہو ، ہاں " میں جواب دے رہی تھی
" تم میرے نکاح والے دن اتنی جادی کیوں چلی گئی تھی "سیرش نے بے دہانی میں پوچہا
صبا کی گردن پر ایک گیلٹی اوبھری اور غائب ہو گئی
"لو میری کار آ گئی "سیرش اسے الوداعی کلمات کہ کر چلی گئی مگر صبا کی آنکھوں میں اس دن کا منظر گردش کر رہا تھا

نکاح کے بعد بہت ساری لڑکیاں سیرش کے کمرے میں بیٹھی تھیں ہسی مزاق قہقہوں کا شور ہر طرف گونج رہا تھا کے کمرے کا دروازہ بجا

"میں دیکھتی ہوں " صبا یہ کہتے ہوئے دروازے کی طرف بڑھی دروازہ کھولا.......

30/12/2023

بسم الله الرحمن الرحيم
#الهدىٰ
از
فرقان
قسط نمبر 1

صبح کی نماز کا وقت تھا پرسکون فضا میں
*الله أكبر *
( الله سب سے بڑا ہے )
کی سدا گونج رہی تھی وہ اپنے بستر پر سکون سے سو رہی تھی ہر چیز سے بےخبر
*الصَّلٰوة خَيْرٌ مِّنَ النَّوْم*
(نماز نیند سے بہتر ہے )
اس بات سے بھی کے کتنا انمول وقت اس کے ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے

اس کی امی دروازہ کھول کر کمر میں داخل ہوئیں
"صباااااااااا............صبا بیٹا اٹھو نماز پڑھ لو"

اس کی امی نے اس کے قریب آ کر اسے جگایا
"بیٹا اوٹھ بھی جاؤ "
"اچھا امی اُٹھتی ہو" یہ کہتے ہوئے اس نے کروٹ بدلی اور دوبارہ سونے میں مصروف ہو گئی

"اچھا اٹھتی ہوں نہیں ابھی اٹھو اور نماز پڑھو" یہ کہتے ہوئے وہ کمرے سے باہر چلی گئیں

" رات کو اتنی دیر سے سوئی تھی کل پڑھ لو گی"وہ خود سے بڑ بڑاتے ہوئے نیند وادی میں کھو گئی

وہ جیسے وحشت زدہ رات کا منظر تھا
ہر طرف اندھیرا تھادور دور تک کچھ نظر نہیں آ رہا تھا
وہ اِدھر اُدھر دیکھ رہی تھی جیسے راستہ بھول گئی ہوں
"صبا اااااا... " خاموشی ٹوٹی تھی ایک روشن چہرہ نمودار ہوا تھا
"ابوووووو آپ "اس وحشت کے عالم میں اس نے سکون کا سانس لیا
"آپ کہاں چلے گئے تھے ابو مجھے بہت ڈر لگ رہا تھا شکر ہے آپ آ گئے " اس نے گہرا سانس لیا "اب چلیں یہاں سے " وہ جیسے جانے کو موڑی
"صبا یہاں سے آگے کا سفر تمہیں اکیلے ہی تے کرنا ہے "
"لیکن بابا یہاں بہت اندھیرا ہے " اس نے اپنی مجبوری بتائی
" صبا نماز نور ہے جو ہمیں اندھیروں میں راستہ دیکھتی ہے"
"میرا دل گھبرا رہا ہے ابو "

" نماز دل کا سکون ہے بیٹا"
" مجھے کچھ نہیں پتہ آپ چلیں یہاں سے"اس نے اپنا آخری فیصلہ سنایا
" االله تمہاری حفاظت کرے"

" ابو......

ابووووووو.......

ابووووووووووووووو....... "

وہ نیند کی وادی سے باہر آئی سانسیں زور زور سے چل رہیں تھیں اس نے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھا دل زور سے دھڑک رہا تھا وہ شرابوں میں ڈوبی ہوئی تھی وہ
اٹھ کر باتھ روم کی طرف چلی گئی
ٹاول سے منہ خشک کرتے ہوئے اس نے آئینے میں دیکھا
گوری رنگت ، سیاح لمبے بال جو بار بار اس کے چہرے پر آ رہے تھے اس نے بالوں کو کلیپ کیا
ایک نظر اپنی آنکھوں
میں دیکھا پرکشش آنکھیں جو ایک بار دیکھے تو لمحہ بھر نظر نہ ہٹا سکے وہ خود بھی اس وقت اپنی آنکھوں میں گم تھی جیسے کچھ تلاش کر رہی ہو
***********

30/12/2023

Address

Peshwer
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Islamic book , aqwal e zareen, & story books posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category