11/03/2025
یہ ڈیبیٹ تو قبل از وقت ہے۔
لیکن البتہ یہ چیز سب نے محسوس کی ہوگی کہ مشتاق صاحب پر بھائی کے وفات کا مشکل وقت جب آن پڑا،
تو اس کے ارد گرد نہ ایمل ولی دکھائے دئے، نہ منظور پشتین، نہ دوسرے قام پرست، نہ قائد ملت اسلامیہ۔
جو اس وقت وہاں قریب اکوڑہ خٹک میں ہی موجود تھے،
وہ بھی جنازے میں تشریف نہ لاسکے۔
جنازے میں مشتاق صاحب کے پیچھے اور ارد گرد اگر کوئی موجود تھے اور ان کے غم کو بانٹ رہے تھے،
تو ان کے اپنے حافظ نعیم الرحمن، سراج الحق، میاں اسلم، مولانا اسمعیل، عنایت اللہ، محمد حلیم باچہ، بختیار معانی، عبد الواسع اور جماعت اسلامی کے ہر سطح کے لیڈر شپ ہی ان کے پاس موجود تھی۔
الحمدللہ مشتاق صاحب ہمارے اپنے ہی ہیں اور مشکل وقت میں جماعت اسلامی ہی اس کے پیچھے کھڑی ہوگی۔
مشتاق صاحب جماعت اسلامی کا اثاثہ تھے، ہیں اور رہیں گے انشاءاللہ۔
اللّہ تعالیٰ مشتاق صاحب اور ان کی فیملی کو ہر قسم مشکلات اور آفات سے محفوظ رکھے۔