07/09/2026
🔶 کشمیر کی تاریخ: مغل سلطنت کا دور، فتوحات، انتظامی ڈھانچہ اور ثقافتی عروج (چھٹی قسط)
🟠 مقدمہ اور مغل تسلط کا پس منظر (1586 عیسوی)
کشمیر کی تاریخ میں 1586 عیسوی کا سال ایک بہت بڑا سیاسی اور عسکری موڑ لے کر آیا۔ چک خاندان کے دور کے آخری ایام میں دربار کے اندرونی انتشار، قبائلی رسہ کشی اور شیعہ سنی کشیدگی نے اس خطے کو اندر سے کھوکھلا کر دیا تھا۔ اس کمزوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے برصغیر کی سب سے طاقتور عسکری طاقت، مغل سلطنت کے شہنشاہ جلال الدین اکبر نے وادی کو اپنے قلمرو میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ دور کشمیر کے لیے جہاں ایک طرف سیاسی آزادی کے خاتمے کا ضامن تھا، وہیں دوسری طرف یہ ایک طویل سیاسی استحکام، جدید انتظامی نظام اور بے مثال مغل آرٹ و ثقافت کے آغاز کا بھی پتا دیتا ہے۔
🔶 کشمیر پر مغل تسلط کی داستان: حملہ کیسے ہوا؟
مغل شہنشاہ اکبر نے کشمیر کو فتح کرنے کے لیے منظم فوجی حکمتِ عملی تیار کی:
پہلی مہم اور ناکامی (1585ء): اکبر نے سب سے پہلے راجہ بھگوان داس اور قاسم خان کی قیادت میں ایک لشکرِ جرار کشمیر روانہ کیا۔ کشمیری حکمرانوں (خصوصاً یوسف شاہ چک اور ان کے بیٹوں) نے پیر پنجال کے پہاڑی دروں اور تنگ گھاٹیوں میں گوریلا جنگی حربے استعمال کرتے ہوئے مغل فوج کو شدید نقصان پہنچایا، یہاں تک کہ مغلوں کو صلح پر مجبور ہونا پڑا۔
صلح کا دھوکہ اور اندرونی غداری: اس معاہدے کے بعد یوسف شاہ چک دہلی گئے جہاں اکبر نے انہیں گرفتار کر کے بہار کی طرف نظر بند کر دیا۔ ادھر کشمیر میں یوسف شاہ کے بیٹے یعقوب شاہ چک نے مزاحمت جاری رکھی۔
فیصلہ کن یلغار (1586ء): سن 1586 عیسوی میں قاسم خان میر بحر نے ایک بار پھر بڑی مغل فوج کے ساتھ کشمیر پر حملہ کیا۔ کشمیری فوج کے پاس تربیت یافتہ ہتھیاروں اور مغلوں کی وسیع توپ خانے کی قوت کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تھی۔ اندرونی درباریوں کی غداری اور غفلت کی وجہ سے مغل فوج نے سرینگر میں داخل ہو کر دارالحکومت پر قبضہ کر لیا۔ اس طرح 1586ء کے اواخر میں کشمیر باقاعدہ طور پر مغل سلطنت کا ایک صوبہ بن گیا۔
🔶 مغل دور کی جغرافیائی وسعت اور توسیع
مغلوں کے دورِ حکومت میں کشمیر کی جغرافیائی حدود صرف وادی تک محدود نہیں رہیں، بلکہ مغل صوبہ داروں اور جرنیلوں نے اردگرد کے مشکل ترین پہاڑی علاقوں کو بھی اپنی سلطنت میں جکڑ لیا:
شامل اور فتح کردہ علاقے: مغل صوبہ "کشمیر" کے دائرہ اختیار میں موجودہ وادیِ کشمیر، جموں کے الحاقی پہاڑی علاقے، پونچھ، راجوری، اور ستی سر و گرد و نواح کے تمام خطات شامل تھے۔
لداخ اور بلتستان پر مغل اثرات: مغل صوبہ داروں (خصوصاً شہنشاہ جہانگیر اور شاہجہاں کے دور میں) نے لداخ کی ریاست کو بھی بالواسطہ طور پر اپنی مہر کے نیچے لایا۔ لداخ کے حکمرانوں نے مغل دربار کو خراج تحسین پیش کرنا قبول کیا، اور وہاں اسلامی تاجروں اور سفارت کاروں کی رسائی ممکن ہوئی۔
گلگت اور داردستان کی سرحدی مہمات: مغل فوج نے شمال مغربی ہمالیہ کے ان دشوار گزار علاقوں تک اپنی چوکیاں قائم کیں تاکہ وسطی ایشیا اور کابل کے تجارتی راستے محفوظ رہیں۔
🔶 آبادی کا حجم اور سماجی و معاشی استحکام
چک خاندان کے آخری دور کی خونریز کشمکش کے بعد مغلوں کی آمد نے وادی میں امن کا ایک طویل سانس مہیا کیا۔
آبادی کا تخمینہ: جنگوں کے خاتمے، تجارت کے احیاء اور قحط پر قابو پانے کے نتیجے میں مغل دور (سترہویں صدی کے وسط تک) میں کشمیر کی کل آبادی بڑھ کر تقریباً 25 سے 30 لاکھ کے درمیان پہنچ چکی تھی۔ سری نگر مغل سلطنت کے بڑے اور شاندار شہروں میں شمار ہونے لگا۔
معیشت اور تجارت کی بحالی: مغلوں نے شاہراہِ ریشم اور لاہور دہلی روٹس کو کشمیر سے بہتر انداز میں منسلک کیا۔ تجارت عروج پر پہنچی، اور کشمیری شال، دستکاری، اور میوہ جات (سیب، اخروٹ، اور زعفران) کی برآمدات ہندوستان کے شاہی محلات تک پہنچنے لگیں۔
🔶 مغل شہنشاہوں کی کشمیر دوستی اور تعمیرات
مغل بادشاہوں (اکبر، جہانگیر، شاہجہاں، اور اورنگزیب) کا کشمیر سے جو والہانہ عشق تھا، اس نے اس خطے کو دنیا بھر میں "مغل جنت" کے طور پر مشہور کر دیا۔
شالیمار اور نشاط باغ: شہنشاہ جہانگیر اور اس کے نورتن وزیروں نے جھیل ڈل کے کناروں پر دنیا کے خوبصورت ترین شاہی باغات تعمیر کروائے۔ شالیمار باغ (جہانگیر نے ملکہ نور جہاں کے لیے بنوایا) اور نشاط باغ کشمیری ہنر اور مغل لینڈ سکیپ آرکیٹیکچر کا شاہکار ہیں۔
چشمہ شاہی اور پری محل: شاہجہاں کے دور میں تعمیر ہونے والے چشمہ شاہی اور کوہِ ماران کے دامن میں واقع پری محل نے فلکیاتی اور تفریحی لحاظ سے کشمیر کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیے۔
شہرِ سری نگر کی توسیع: مغلوں نے سری نگر میں پکے راستے، پل، اور جامع مساجد (جیسے سری نگر کی تاریخی جامع مسجد کی بار دیگر تزئین و آرائش اور ترقی) کے کام کیے۔
🟧 اگلی قسط کا پیش منظر
مغل سلطنت کے زوال اور اورنگزیب کے بعد دہلی کے تخت کے کمزور ہونے کے ساتھ ہی مغل صوبہ داروں کا اثر و رسوخ کمزور پڑ گیا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط (1752ء) میں احمد شاہ ابدالی کی قیادت میں افغان درانی فوجوں نے کشمیر کا رخ کیا اور ایک انتہائی ظالمانہ دور کا آغاز ہوا۔ اگلی قسط میں ہم افغان (درانی) دورِ حکومت (1752ء تا 1819ء) کی پوری تفصیل، ظلم و ستم، اور اس کے جغرافیائی و سماجی اثرات کو بیان کریں گے۔