18/11/2025
مدینہ منورہ کا دردناک سانحہ — امتِ مسلمہ کا دل زخمی
مدینہ منورہ میں پیش آنے والے المناک بس حادثے کی خبر دل کو چیر دینے والی ہے، جس میں ہندوستان سے تعلق رکھنے والے 43 عمرہ زائرین جل کر شہید ہو گئے۔ حرمین کی راہوں کے یہ مسافر جس محبت اور شوقِ عبادت کے ساتھ سفر پر نکلے تھے، وہ اس دنیا میں اپنے سفرِ آخرت کو پہنچ گئے۔
ان کا اس حال میں دنیا سے رخصت ہونا کہ وہ عمرہ کے سفر پر تھے—یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ روایات میں آیا ہے کہ جو شخص حالتِ احرام میں یا حرمین کی حاضری کے سفر میں وفات پاتا ہے، اس کے لیے خصوصی رحمتیں اور بخشش کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حالتِ احرام میں وفات پانے والا قیامت کے دن تلبیہ پڑھتا ہوا اٹھے گا—یہ اس کی قبولیت اور عزت کی نشانی ہے۔
ان مبارک سرزمینوں کا سفر خود اللہ تعالیٰ کی توفیق ہوتا ہے، اور وہاں موت پانا اللہ کے خاص بندوں کی سعادت سمجھا جاتا ہے۔ یہ سانحہ اپنی جگہ بہت بڑا غم ہے، مگر ان شہداء کے لیے امید و رحمت کے دروازے بہت وسیع ہیں۔
اللہ تعالیٰ ان تمام شہداء کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، ان کے اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے، اور زخمی دلوں کو اپنے فضل سے تسکین دے۔
اِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُونَ۔
Photo Credit: Gulf News
゚viral