Sasty Bakry Bakria

Sasty Bakry Bakria گھر کے پلے ہوۓ ہر قسم کے بکرے آسانی سے آن لائن خریدیی۔ ڈ? ڈائریکٹ رابطہ کرکے بھی بکرے بکریاں خریدی جا سکتی ہیی۔ کارگو کی سہولت بھی موجود ہے آل پاکستان۔
(1)

06/07/2025

For sail

https://yt.openinapp.co/qj0wtسونا مل گیا
01/08/2024

https://yt.openinapp.co/qj0wt
سونا مل گیا

Gold Detecting || Burried Gold Detetor ||خزانہ کی تلاش Questions Solved Gold Detecting Burried Gold detecting Gold and minerals Gold mines Mineral detectors How Detector found gold خڑانہ کی تلاش ڑمین میں چھپا خزانہ سونے چاندی کا کھوج گولڈ rate...

26/12/2023

*گڑ کے فوائد*
دمہ، کھانسی، پیٹ کے کیڑے سے نجات اور ماوں کے دودھ میں اضافہ
جب تک چینی کا نام کسی نے نہیں سنا تھا اور بڑے پیمانے پر اس کی تیاری نہیں ہوتی تھی اس سے پہلے لوگ خالص گڑ کا استعمال کرتے تھے ۔ جس کا زائقہ منفرد ہوتا تھا اور لوگوں میں بیماریاں بھی کم ہوتی تھیں۔۔
ڈاکٹروں کے مطابق نیا گُڑ
▪دمہ،
▪کھانسی،
▪پیٹ کے کیڑے وغیرہ
جیسے مختلف امراض کے لیے مفید ترین قرار دیا گیا ہے ۔ جب کہ گُڑ کا مزاج گرم اور دوسرے درجے میں ہیں جب کے پرانا گُڑ خشک مزاج کا ہوتا ہے ہے گڑ
▪معدہ کو ٹھیک کرتا ہے۔
▪قبض دور کرتا اور
▪گیس کی تکلیف ختم کرتا ہے ۔
گُڑ میں کیروٹین ، نکوٹین ، تیزاب، وٹامن اے، وٹامن بی ون، وٹامن بی ٹو ، وٹامن سی کے ساتھ ساتھ آئرن اور فاسفورس بھی پایا جاتا ہے۔ شیرخواربچوں کی مائیں جن کا دودھ بچوں کے لیے کافی نہ ہوتا ہووہ صرف اتنا کریں کہ دودھ کے ساتھ سفید زیرے کا سفوف اور گُڑ صبح و شام استعمال کریں۔ اس سے دودھ کی مقدار بڑھ جائے گی۔ ▪حافظہ تیز کرنے اور
▪یادداشت بڑھانے میں
گُڑ کے حلوہ کا استعمال بہترین ثابت ہوا ہے۔
جن طلباء کو اسباق کے یاد رکھنے اور پڑھائی میں سبق یاد نہ رہنے کی شکایت ہو وہ طلبا جنھیں سبق یاد نہ ہوتا ہو انھیں صبح و شام گُڑکا حلوہ استعمال کرنا چاہیےگڑ میں موجود فولاد، انیمیا کو بھی ٹھیک کرتا ہے اور خون میں ہیموگلوبن کی مقدار بڑھاتا ہے۔ جسم کی ▪قوت مدافعت مضبوط کرتا ہے۔
▪آرتھرائٹس یا گھٹنے کے درد اور
▪سوزش میں مبتلا افراد
5گرام گڑ اور 5گرام ادرک کا پاؤڈر استعمال کریں۔ اس سے نہ صرف گھٹنے کے درد سے نجات ملے گی بلکہ
▪سوجن بھی کم ہو گی۔ وقت گرم پانی کے ساتھ کھانے سے
▪بواسیر سے تو چھٹکارہ ملتا ہی ہے، اس کے ساتھ ساتھ انسانی بدن کو بے شمار دوسری بیماریوں جن میں
▪پیٹ کی گیس ،
▪پیٹ کی گڑگڑاہٹ ،
▪سنگرہنی اور
▪ہاتھ پاؤں کی سوجن اور
▪کھانسی سے بھی نجات مل جاتی ھے۔۔

23/11/2023

#بکریوں کی #جان لیوا #بیماریوں سے بچاؤ کے #حفاظتی ٹیکے Vaccination کیا ہے کیوں ضروری ہے اور اسے لگانے کا سہی طریقہ کیا ہے:
اسّلام و علیکم پیارے فارمر بھائیوں کہتے ہیں کہ جانور کو بیمار ہونے سے بچانا اس کے بیمار ہونے کے بعد علاج کرنے سے زیادہ آسان کام ہے اسی لئے آج ہم جانوروں کی تین مہلک بیماریوں سے بچاؤ کے ٹیکوں یعنی Vaccination کے متعلق بات کریں گے اور دیکھیں گے کہ ویکسینیشن کیا ہے اور کیوں ضروری ہے اور کا بہتر طریقہ کار کیا ہے۔

حفاظتی ٹیکہ Vaccination کیا ہے ؟
انسانوں کی طرح جانوروں میں بھی بہت سی جان لیوا وائرل Viral بیماریاں پائی جاتی ہیں جو اگر ایک جانور کو ہو جائے تو باقی جانوروں میں بھی پھیل جاتی ہیں جن کا علاج ناممکن تو نہیں مگر مشکل ہے اور ان میں جانور کی شرح اموات تباہ کن حد تک زیادہ ہے اور اس وجہ سے فارمر کو بہت زیادہ مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے لیکن ان سے بچاؤ ممکن ہے اگر اس بیماری کے خلاف حفاظتی ٹیکہ جانور کو لگا دیا جائے تو جانور محفوظ رہتا ہے اور اگر خدا نہ خواستہ بیماری کا حملہ ہو بھی جائے تو جانلیوا نہیں ہوتا ۔

حفاظتی ٹیکوں Vaccination کی دو اقسام:
حفاظتی ٹیکے دو طرح کے ہوتے ہیں:
1- زندہ جراثیم والی Live Vaccine
یہ Vaccine بیماری کے زندہ جرثوموں کو اک خاص طریقہ پر کمزور کر کے بنائی جاتی ہے اور بیماری کے خلاف زیادہ اور جلد مدافعت پیدہ کرتی ہے اور عام طور پر اس کی ایک خوراک لمبے عرصے کےلئے کافی ہوتی ہے لیکن بعض حالتوں میں اس کا reaction بھی دیکھا گیا ہے جو علاج کے بعد ٹھیک ہو جاتا ہے۔
2- مردہ جراثیم والی Killed Vaccine
یہ Vaccine بیماری کے مردہ جرثوموں کے ساتھ بنائی جاتی ہے اور یہ بیماری کے خلاف مدافعت تو پیدہ کرتی ہے لیکن اس مقصد کبلئے اس کی دو خوراکیں درکار ہوتی ہیں جو ایک ماہ کے وقفے سے لگانا ضروری ہوتا ہے عام طور پر اس vaccine کا کوئی reaction دیکھنے میں نہیں آتا۔

بکریوں کی 3 بیماریاں جن کی Vaccine کرنا انتہائی ضروری ہے :
یوں تو دنیا میں بکریوں کی کافی بیماریوں کی Vaccine کی جاتی ہے لیکن ہمارے ملک میں تمام vaccine دستیاب نہیں اس لئے کم از کم 3 خطرناک بیماریوں سے بچاؤ کے لئے حفاظتی ٹیکے لازمی لگانا چاہئے۔
1- انتڑیوں کا زہر Enterotoxemia (ET)
یہ بکریوں اور بچوں کی ایک عام بیماری ہے اس بیماری میں جانور اچانک موت کے مو میں چلا جاتا ہے اور علاج کا وقت بھی نہیں ملتا اس لئے اس کی vaccine کرانا بہت ضروری ہے۔
اس کی vaccine تقریبن ہر جگہKilled vaccine کی شکل میں بنی بنائی دستیاب ہوتی ہے۔ یہ ویکسین 1 ml زیر جلد لگتی ہے اور ایک ماہ بعد اس کی ایک اور خوراک Booster dose لگانا ضروری ہے۔ اس کے بعد ہر 6 مہینے بعد لگانی ضروری ہے۔
اگر گبن بکری کو آخری مہینے میں یہ ویکسین لگا دی جائے تو اس کے پیدہ ہونے والے بچے بھی محفوظ ہو جاتے ہیں اور انکو پیدائش کے فورن بعد اس بیماری سے مرنے کا خدشہ نہیں رہتا پھر ان کو تقریبن 2 مہینےکی عمر میں یہ vaccine لگائی جاتی ہے۔

2- کاٹا یا PPR
یہ بکریوں کی ایک انتہائی خطرناک بیماری ہے اور اس میں شرح اموات تقریبن 90% تک ہوتی ہے یہ بیماری بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے پورے فارم کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے اسی لئے اس کو بکریوں کا طاعون Goat plague بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے بچاؤ کا واحد طریقہ Vaccine ہے۔ خوش قسمتی سے اس کی vaacine آسانی کے ساتھ Live vaccine کی شکل میں ہر جگہ دستیاب ہے جس کو استعمال سے پہلے تیار کرنا ضروری ہے یہ powder کی شکل میں ہوتی ہے اور اس کے ساتھ فراہم کے گئے پانی میں ملا کر تیار کی جاتی ہے یہ 1 ml زیر جلد لگتی ہے اور بچوں کو 3 ماہ کی عمر میں لگائی جاتی ہے اور گبن جانور کو بھی لگتی ہے۔ اس vaacine کی ایک خوراکایک سال سے تین سال کبلئے کافی ہوتی ہے۔

3- پلورو نمونیا یا CCPP
یہ بھی بکریوں کی ایک خطرناک بیماری ہے جس میں جانور کے پھیپڑے متاثر ہوتے ہیں اور اسمیں شرح اموات 80% تک دیکھی گی ہے یہ بیماری بھی تیزی سے پھیلتی ہے اور پورے فارم پر پھیل سکتی ہے اس لئے اس کی ویکسین کرانا بہت ضروری ہے۔ اس کی vaccine بھی آسانی سے killed vaccine کی شکل میں بنی بنائی دستیاب ہے۔ یہ بھی 1 ml زیر جلد لگتی ہے بچوں کو 3 مہینے کی عمر میں لگتی ہے اور گبن جانور کو بھی لگائی جاتی ہے اس vaccine کو ہر 6 مہینے بعد لگانا ضروری ہے۔

ضروری ہدایات براۓ حفاظتی ٹیکہ Vaccination

- حفاظتی ٹیکہ vaccine ہمیشہ صحت مند جانور کو لگایا جاتا ہے اگر جانور بیمار ہو تو اس کا علاج دوا سے کیا جاتا ہے بیمار جانور کی vaccine کرنے سے بیماری کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے اور جانور کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ لگانے کے 15 سے 20 دن کے اندر جانور کے جسم میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدہ ہو جاتی ہے اس لئے وبائی امراض کے زمانے میں خیال رکھیں vaccine ہمیشہ بیماری اپنے علاقے تک پہنچنے سے پہلے مکمل کر لیں۔
- حفاظتی ٹیکے کو ہمیشہ 2 سے 8 ڈگری درجہ حرارت میں سٹور کیا جاتا ہے جس کے لئے فریج کی ضرورت ہوتی ہے اگر کوئی vaccine اس سے زیادہ یا کم درجہ حرارت پر رکھی جائے تو وہ خراب ہو جاتی ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ vaccine کو فارم یا گھر تک لے جانے کے لئے برف میں رکھنا ضروری ہے۔
- اگر ویکسین پاؤڈر ملا کر اسی وقت تیار کی گئی ہے یعنی Live vaccine ہے تو تیار کرنے کے بعد 3 گھنٹے کے اندر سب جانوروں کو لگا دینی ضروری ہے۔
- ایک ویکسین vaccine کرنے کے بعد 15 دن کے وقفے سے دوسری ویکسین لگائی جا سکتی ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ گبن جانور کو لگایا جا سکتا ہے۔
- حفاظتی ٹیکا ہمیشہ جانور کی کھال میں لگایا جاتا ہے۔
- حفاظتی ٹیکہ vaccine ہمیشہ نئی سرینج سے لگائیں اور ٹیکہ لگانے کے بعد سرینج کو دوبارہ استعمال نہ کریں ۔
یاد رکھیں احتیاط علاج سے بہتر ہے اس لئے اپنے تمام جانوروں کو کسی قریبی جانور ہسپتال یا ڈاکٹر سے فورن vaccine کرائیں یا پھر خود کریں۔

اللّه پاک ہم سب کے جانوروں کو محفوظ فرمائیں اور کاروبار میں برکت دیں آمین

31/10/2023

گبن بکریوں کی ایک عام مگر جانلیوا بیماری" گبن بکری کا زہرباد" یا "Ketosis "( Pregnancy toxaemia)
کیا ہے اس بچاؤ اور علاج کا طریقہ ۔

میرے پیارے فارمر بھائیوں بکریوں میں پائی جانے والی بیماریاں عام طور پر دو قسم کی ہوتی ہیں Viral یا Bacterial لیکن آج ہم اپکو ایک تیسری قسم کی بیماری Metabolic disease کے بارے میں بتائیں گے جو بکری کے اپنے جسم کے اندر ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں یعنی Chemical reactions
کی وجہ سے ہوتی ہے اور اگر اس کا بر وقت علاج نہ کیا جائے تو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے یہ گبن بکری
کی ایک عام بیماری Ketosis یا Pregnancy toxaemia
ہے جسے عرف عام میں گبن بکری کا زہرباد کہا جا سکتا ہے۔
آئیں دیکھتے ہیں یہ بیماری کیا ہے اس کی علامات کیا ہیں اور اس سے بچاؤ اور علاج کیسے ممکن ہے۔

گبن بکری کی بیماری Ketosis کیا ہے :
پیارے بھائیوں جب بکری بکری گبن ہو جاتی ہے تو اس کی خوراک اور توانائی کی ضرورت بڑھ جاتی ہے کیوں کہ اس کے پیٹ میں موجود بچوں کو بھی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر چوتھے اور پانچوے مہینے میں اس لئے جب بکری کی خوراک کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو وہ اپنے جسم میں موجود چربی اور نشاستہ یعنی گلوکوز کے ذخیرے کو اپنی توانائی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہے اور اس کی وجہ سے جسم کے اندھرونی نظام کا توازن بگڑ جاتا ہے اور بکری کا اعصابی نظام تباہ ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ اور اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو بکری Coma میں چلی جاتی ہے اور اس کا بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

وجوہات:

- بکریوں کا گبن ہونے کے بعد صرف کم توانائی والی خوراک یا چرائی پر گزارہ کرنا۔
- بکری کو خاص طور پر آخری 6 ہفتوں میں توانائی سے بھرپور خوراک نہ دینا۔
- گبن بکری جس کے پیٹ میں دو یا زیادہ بچے ہوں اس کو صرف ہرا چارہ یا بھوسا دینا۔
- ایسی بکریاں جن کو پہلے Ketosis ہو چکا ہو وہ دوبارہ بیماری کی زد میں آ سکتی ہیں۔
- زیادہ سرد اور بارشوں کے موسم میں بکری کا بچے دینا۔
گبن بکریوں کو آخری مہینے میں کسی اور علاقے میں بھیجنا جہاں اس کی خوراک اور آب و ہوا بھی تبدیل ہو۔
- گبن بکری کے پیٹ میں کیڑوں کی زیادتی ہونا۔

علامات :
اس بیماری کا حملہ گبن بکری پر آخری مہینے میں یا بچے دینے کے فورن بعد ہو سکتا ہے اور یہ علامات نظر آ سکتی ہیں
بکری کا اچانک اداس ہو جانا
گبن بکری کا کھانا پینا چھوڑ دینا
بکری کا ایک جگہ بیٹھ جانا
بکری کا بار بار آسمان کی طرف مو کرنا
چلتے ہوے لڑکھڑانہ یعنی اپنا توازن کھو دینا
- اگر دودھ دے رہی ہے تو اس کی مقدار کم کر دینا
- بکری کے سانس میں سے کھٹی بو آنا جیسے سرکے کی بو ہوتی ہے۔

بچاؤ کا طریقہ:
بکری کو آخری دو مہینوں میں توانائی سے بھرپور خوراک دے کر اس بیماری سے بچاؤ ممکن ہے جس میں اچھی گھاس یا بھوسے کے ساتھ دانہ لازمی شامل ہو اور اس کے ساتھ اگر شیرہ راب بھی مناسب مقدار میں دیا جائے تو ان شاء اللّه بکری اس بیماری سے محفوظ رہے گی۔

علاج:
کیوں کہ Ketosis ایک جانلیوا بیماری ہے اس لئے اس سے بچاؤ علاج سے بہتر ہے لیکن اگر خدا نہ خواستہ آپ کے جانور میں اس بیماری کی علامات ظاہر ہوں تو فورن اپنے قریبی ڈاکٹر یا ہسپتال سے رابطہ کریں کیوں کہ اس کے علاج میں جانور کو Dextrose یعنی glucose کی ڈرپ لگانے کی فوری ضرورت ہوتی ہے اور اس کے ساتھ دوسری انٹی بائیو ٹک ادویات بھی دی جاتی ہیں۔
امید کرتا ہوں آپ کو اس پوسٹ سے فائدہ ہو گا اس پوسٹ کو دوسروں سے share کریں تاکہ سب کا فائدہ ہو۔۔
اللّه پاک ہم سب کے جانوروں کو تمام بیماریوں سے محفوظ فرمائیں آمین
اپکی دعاوں کا طالب
مینجر سستے بکرے بکریاں۔

17/08/2023

🐐دانتوں کے لحاظ سے بکریوں کی عمر🐏

بکریوں کی عمر کا اندازہ انکے دانتوں سے کیا جاتا ہے اس حوالے سے لوگوں میں بہت ابہام پایا جاتا ہے یا لوگ اپنی طرف سے تکے لگا لیتے ہیں، 4 دانت 4 سال اور 6 دانت کو 6 سال کی عمر بھی سمجھ لیتے ہیں.
سب سے پہلے تو نوٹ کر لیں کے ایک بکری کے بچے کے منہ میں 8 دانت ہوتے ہیں جو دودھ کے دانت کہلاتے ہیں.
ایک بکری کی اوسط عمر 9 سے 10 سال ہوتی ہے، اور ایک بکری اپنی زندگی میں 10 سے 12 دفہ بچے دیتی ہے
مزید بکریوں کی خوراک اور ماحول بھی دانت گرانے کے عمل پر اثر انداز ہوتا ہے

کھیرا یا پکا کھیرا
جب تک بکری کے دودھ کے دانت اپنی جگہ موجود رہیں اس کے سامنے والے 2 دانتوں میں خلا پیدا نہ ہو جانور کھیرا کہلاتا ہے مطلب 8 سے 10 مہینے کی عمر
پکا کھیرا وہ جانور جس کے سامنے والے 2 دانتوں کے درمیان خلا پیدا ہو جاے جو واضع نظر آتا ہے تو اس جانور کو پکا کھیرا کہتے ہیں🐐 مطلب 9 سے 11 مہینے کی عمر🐐

دوندا یا 2 دانت
جانور کے سامنے والے دودھ کے 2 دانت گر جائیں اور انکی جگہ 2 بڑے دانت نکل آئیں، عموماً جانور🐐 12 سے 14 مہینے کی عمر 🐐میں 2 دانت ہو جاتا ہے مگر اسکا دورانیہ 12 سے 19 مہینے تک بھی ہو سکتا ہے، اور ایسا بھی دیکھا گیا ہے جو جانور دیر سے 2دانت گراتا ہے وہ فوراً 4 دانت بھی ہو جاتا ہے
4 دانت یا چوگا
جب جانور کے 4 دودھ کے دانت گر جائیں اور انکی جگہ 4 بڑے دانت اگ آئیں، اس کا دورانیہ 🐐15 سے 24 مہینے تک دیکھا گیا ہے🐐
6 دانت یا چھگا
جب جانور کے 6 دودھ والے دانت گر جائیں اور انکی جگہ 6 بے دانت اگ آئیں، اس کا دورانیہ🐐 23 سے 26 مہینے یعنی 2 سال کی عمر میں 6 دانت، 🐐
8 دانت یا پورے دانت والا جانور
جب جانور کے تمام دودھ والے دانت گر جائیں تو اس کو پورے دانت والا یا 8 دانت کہا جاتا ہے اس کا دورانیہ🐐 24 سے مہینے یعنی 2 سے سوا سال کی عمر میں جانور 8 دانت ہو جاتا ہے🐐

ہمارے ہاں عام تاثر پایا جاتا ہے کہ 6 دانت یا 8 دانت جانور بہت بڑی عمر والا جانور سمجھا جاتا ہے لوگ اس سے دور بھاگتے ہیں ناپسند کرتے ہیں جب کہ جانور بیچارہ 2 سے سوا 2 سال کی عمر میں 8 دانت ہو جاتا ہے
مزید اپنی تسلی کے لیے اگر آپ کے پاس بکریاں موجود ہیں تو کسی ایک بکری پر نظر رکھیں جو دانت ہو رہی ہو پھر مہینے میں ایک بار اس کے دانتوں کا معائنہ کرتے رہیں تو آپکو اچھی طرح رہنمائی ہو جائے گی۔

سستے بکرے بکریاں

13/08/2023

بکری کے دودھ کی وہ خصوصیات اور فوائد جو اسے گائے کے دودھ سے بہتر بناتے کرتے ہیں ۔۔ جانیئے وہ کون سے فوائد ہیں؟
مارکیٹ میں طرح طرح کے دودھ موجود ہیں جیسے اونٹ کا دودھ گائے کا دودھ بھینس کا دودھ لیکن بازار سے ملنے والے اکثر دودھ ملاوٹ سے بھرپور ہوتے ہیں،تاہم بکری کا دودھ اس قدر غذائیت سے بھرپور ہے کہ کسی بھی قسم کی ملاوٹ بھی اس کی غذائیت کو ختم نہیں کر سکتی۔
لیکن اگر اصلی اور بکری کا خالص دودھ مل جائے تو صحت کے لئے انتہائی فائدہ مند ہوتا ہے، یہ گائے کے دودھ سے بھی زیادہ مفید ہوتا ہے اور غذائیت کے اعتبار سے بھی بکری کے دودھ کو کافی اہمیت حاصل ہے۔

• بکری کے دودھ کی غذائیت
بکری کے دودھ میں صحت بخش فیٹ، کیلشیم، وٹامنز اور منرلز کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے اس کے یہ تمام غذائی اجزاء بچوں بوڑھوں اور نوجوان سب کے لئے بےحد فائدہ پہنچانے والے اور مفید ہیں۔ بکری کے دودھ کے حیرت انگیز فوائد

• بچوں کے لئے بہترین
بکری کا دودھ بچے کی نشوونما کیلئے زیادہ غذائیت بخش ہے کیونکہ یہ زود ہضم ہوتا ہے، اس کا استعمال بچوں کی ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے اور ان کے قد میں اضافہ کرتا ہے، جن بچوں کے گلے جلد خراب ہوتے ہوں انہیں خاص طور پر بکری کا دودھ پلانا چاہیئے اس سے بلغم بھی پیدا نہیں ہوتا اور گلے کا درد بھی دور ہو جاتا ہے۔

• معدے کے لئے مفید
بکری کا دودھ استعمال کرنے سے معدہ اور انتڑیاں بار بار خراب نہیں ہوتیں بالخصوص ایسے مریض اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کو معدے اور آنتوں کا مسئلہ رہتا ہو یا وہ کسی بیماری میں مبتلا ہوں۔

• لیکٹوز پرابلم
جدید تحقیق کے مطابق جن لوگوں کو لیکٹوز پرابلم ہو اور ان کی آنتیں گائے اور بھینس کے دودھ کو ہضم نہیں کرسکتیں انہیں بکری کا دودھ پینا چاہیئے، محقیقین نے بکری کے دودھ کو گائے کے دودھ پر افضل قرار دیا ہے۔

• دماغی صحت کے لئے مفید
دماغی صحت کے لئے بکری کا دودھ بےحد مفید ہے، اس کے استعمال سے انزائٹی، ڈپریشن، اور نیند کی کمی کا مسئلہ دور ہوتا ہے، خاص طور پر دماغی کام کرنے والوں کے لئے بکری کے دودھ سے بہتر کوئی اور غذا نہیں۔

• کولیسٹرول کم کرنے کے لئے مفید
بکری کا دودھ پینے سے جسم میں کولیسٹرول کا اضافہ نہیں ہوتا، اس سے دل صحت مند رہتا ہے اور یہ ہمارے جسم کو بیماریوں سے لڑنے کے قابل بناتا ہے قوتِ مدافعت میں اضافہ کرتا ہے۔

• جلد کے لئے مفید
بکری کے دودھ کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ بکری کا دودھ جلد کو نرم و ملائم اور چمکدار بناتا ہے، اس کے استعمال سے رنگت میں نکھار آتا ہے۔

01/08/2023

Goat kids take care for better growth
بکری کے بچوں کی بہتر افزائش کا طریقہ

پیارے فارمر بھائیوں جیسا کہ آپ جانتے ہیں کسی بھی فارم کی کامیابی کا دارومدار اس سے حاصل ہونے والی فصل پر ہوتا ہے اور بکری فارمنگ میں یہ فصل بکری کے بچے ہیں اگر بچے وقت پر پیدہ ہوں صحت مند ہوں اور جسمانی لہٰذ سے ان کی افزائش اچھی طرح سے ہو تو یہ آپ کے لئے منافع کا سبب بنتے ہیں ورنہ نقصان کا بائس ہوتے ہیں۔ اکثر فارمر یہ سوال کرتے ہیں کہ بچوں کی افزائش ٹھیک طرح نہیں ہو رہی اور وہ اس وجہ سے کافی پریشان ہیں۔
بچوں کی افزائش میں کمی ہونے کی کافی ساری وجوہات ہیں آج ہم ان کے بارے میں بات کریں گے۔

بچوں کی پیدائش سے پہلے:
بچوں کی جسمانی صحت کا دارومدار بہت سے عوامل پر ہوتا ہے کچھ پیدائش کے بعد اثر انداز ہوتے ہیں اور کچھ پیدائش سے پہلے۔

کراسنگ سے پہلے کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے :
* بکری کی جسمانی صحت اچھی ہونی چاہیے
* بریڈر بکرے کی جسمانی صحت اچھی ہونی چاہیے
* کراسنگ کے وقت بکری کی عمر کم از کم ایک سال ہو
* بریڈر بکرے کی عمر کم از کم دو سال ہو اگر زیادہ ہو تو بہتر ہے
* کراسنگ سے پہلے بکری اور بکرے کی Deworming کرنی یعنی پیٹ کے کیڑوں کی دوا اور کھال والا ٹیکہ Ivermectin لگانا ضروری ہے۔
* کراسنگ سے پہلے جانور کی خوراک کو بہتر کرنا ضروری ہے۔

جب بکری گبن ہو جائے تو کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے :
* گبن بکری کو پہلے تین مہینے نارمل خوراک پر رکھا جا سکتا ہے لیکن چوتھے اور پانچوے مہینے میں اس کی خوراک میں بہتری لانا بہت ضروری ہے اس لئے چارے کے ساتھ اجناس کا استعمال کرنا چاہیے۔
* بکری کو مہینے میں ایک دفع selenium اور vitaminE کا ٹیکہ لازمی لگائیں اور خوراک میں iodine والا نمک شامل کریں۔
* چوتھے مہینے میں بکری کو ETV کی ویکسین لازمی لگائیں۔

بچوں کی پیدائش کے بعد :
*جب بچے پیدہ ہو جائیں تو ان کو سب سے پہلے ماں کا پہلا دودھ پلانا انتہائی ضروری ہے جو بچوں کو ان کے جسمانی وزن کا کم از کم 5% پہلے 6 گھنٹے میں اور 10% 24 گھنٹے میں پلانا بہت ضروری ہے اس دودھ سے ان کے جسم میں بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت پیدہ ہوتی ہے جو ان کے زندہ رہنے کے لئے بہت ضروری ہے ورنہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
*پیدائش سے 15 دن تک بچے کو دن میں تین دفع دودھ پلانا چاہیے۔
* اگر ماں میں دودھ کم ہو تو گاۓ کا دودھ پلانا بہتر ہے بھینس کے دودھ سے دستوں کی شکایت ہو سکتی ہےاگر پاؤڈر والا دودھ دینا ہو تو اس کی سہی مقدار دینا ضروری ہے۔
* پہلے 15 دن روزانہ بچے کے جسمانی وزن کا 15% دودھ تین وقت تقسیم کر کے پلانا چاہیے۔
* جب بچہ 15 دن کا ہو جائے اس کے سامنے پیسا ہوا دانہ جیسے چنے کا آٹا یا خشک باریک لوسن رکھنا شروع کریں تاکہ اس کو کھانے کی عادت پڑے۔
* جب دانہ رکھ دیں تو دودھ 2 وقت صبح اور شام کر دیں تاکہ دوپہر میں دانے پر مو لگائے۔
* بچے کو ہاضمے کے لئے ہمدرد کا نونہال یا عرق شیریں 3 سے 5 ml دن میں ایک بار دیں۔
* اگر بچہ پیدائشی طور پر کمزور ہو تو کوئی انسانی Multi vitamin سیرپ جیسے Lederplex یا lysovit وغیرہ 3 سے 5 ml دیا جا سکتا ہے۔

دودھ چھڑانے کا سہی طریقہ :
جب بکری کے بچوں کا دودھ بند کیا جاتا ہے تو ان کو تکلیف ہوتی ہے اور وہ افسردگی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتے ہیں اس وقت ان پر بیماریوں کا حملہ ہونے کا زیادہ خدشہ ہوتا ہوتا ہے ایسے وقت میں ان کا زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔
* بچوں کا دودھ دو سے تین مہینے میں بند کیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا اطمعنان کر لیں کہ وہ دانہ یا چارہ اچھی طرح کھانے لگا ہے۔
* دودھ بند کرنے کے لئے پہلے اس کی مقدار کو کم کرنا ضروری ہے تاکہ بچہ چارہ دانہ پر لگ جائے پھر آہستہ آہستہ اس کو مکمل طور پر دودھ سے چارہ پر لے جائیں۔
پیٹ کے کیڑوں کا خاتمہ Deworming :
* بچے جب ایک مہینے کے ہو جائیں تو ان کو وزن کے حساب سے پیٹ کے کیڑوں کی دوا دینا بہت ضروری ہے اس مقصد کبلئے پلانے والی دوا پہلے دیں جیسے Nilzan وغیرہ اور ایک ہفتے کے بعد کھال والا ٹیکہ Ivermectin آدھا cc زیر جلد لگائیں۔
* بچے مٹی کھاتے ہیں اس لئے ان کے پیٹ میں کیڑے جلدی اور زیادہ تعداد میں پیدہ ہوتے ہیں جس سے ان کی افزائش رک جاتی ہے اس لئے ان کو کیڑوں والی دوا ہر دو مہینے میں ایک دفع لازمی دیں اور کوشش کریں کہ ہر بار دوا بدل کر دیں۔
* جو بچے بار بار دستوں کی بیماری کا شکار ہوتے ہیں ان کی صحت بری طرح متاثر ہوتی ہے اور وہ کمزور رہ جائے ہیں اس لئے اس کا تدارک ضروری ہے۔

کھیلنے کی جگہ :
*بچوں کے لئے کھیلنے اور بھاگنے کی جگہ بنانہ بھی ضروری ہے اس سے ان کی جسمانی افزائش میں مدد ملتی ہے۔

جانلیوا بیماری Enterotoxemia یا انتڑیوں کا زہر کی ویکسین :
ہمارے ملک میں بکری کے بچوں کی سب سے زیادہ اموات Enterotoxemia نامی بیماری سے ہوتی ہیں اس بیماری کے جراثیم بچے کی انتڑیوں میں موجود ہوتے ہیں اور بار بار متاثر کرتے ہیں جس سے بچہ یا تو مر۔ جاتا ہے یا بلکل کمزور ہو جاتا ہے اس لئے اس بیماری سے بچاؤ کی vaccine کرنا بہت ضروری ہے اس مقصد کے لئے ایک مہینے کے بچے کو ویکسین لگائیں پھر 40 دن کے بعد دوبارہ لگائیں۔

بچوں کی بہتر افزائش کے لئے مندرجہ بالا باتوں پر عمل کرنے سے
ان شاء اللّه بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

بکریوں کو اپھارا ہونا اور اسکا علاج۔
15/07/2023

بکریوں کو اپھارا ہونا اور اسکا علاج۔

گاجر بُوٹی یا پارتھنیم دنیا کی 10 خطرناک جڑی بوٹیوں میں ایک ہے۔ بنیادی طور پر یہ امریکہ سے برآمد ہوکر افریقہ، اسٹریلیا، ...
11/07/2023

گاجر بُوٹی یا پارتھنیم دنیا کی 10 خطرناک جڑی بوٹیوں میں ایک ہے۔ بنیادی طور پر یہ امریکہ سے برآمد ہوکر افریقہ، اسٹریلیا، ایشیا اور باالاخر پاکستان میں پھیل گئی۔ اج کل یہ پاکستان کی زراعت کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ یہ بوٹی فی پودہ 25 ہزار اور فی میٹر 2 لاکھ بیج جو کہ سات سال تک زندہ رہ سکتے ہیں، پیدا کرتی ہے۔
اس میں پایا جانے والا کیمیکل پارتھینن انسانوں اور جانوروں کے لئے یکساں نقصان دہ ہے۔ جانور اسکے کھانے سے ایک ہفتہ سے لیکر ایک ماہ میں مر سکتے ہیں۔ پھول نکلنے سے پہلے پہلے اسے زمین میں دبادیں۔ پھول بننے کے بعد اسکو جلا کر تلف کر دیں۔
ازراہِ کرم اپنے ارد گرد اس نقصان دہ جڑی بوٹی کی آگاہی بڑھائیں۔

Address

Street #3 Old Civil Lines Sargodha
Sargodha

Telephone

+923245540893

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sasty Bakry Bakria posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sasty Bakry Bakria:

Shortcuts

Share