علم و ادب

علم و ادب اسلامک پوسٹ

16/03/2024

انفرادی طور پر مہنگائی، غربت، inflation وغیرہ سے نبٹنے کے دو طریقے ہیں۔

1۔ اپنی چادر کا سائز دیکھیں اور اس کے مطابق پاؤں پھیلائیں۔
2- اس چادر کا سائز بڑا کرنے کے لیے حتی المقدور کوشش کرتے رہیں۔

ہمارے باپ داداؤں نے بہت مشکل حالات میں زندگیاں گزاری ہیں جبکہ آج آسائش کا دور ہے۔ جس وجہ سے حالات تنگ ہو گئے۔

بنیادی بات یہ ہے کہ کسی کو امپریس کرنے کے لیے غیر ضروری اخراجات بالکل مت کریں۔ اگر اپ افورڈ نہیں کر سکتے تو شادی پر بہت سارے کھانے بنانے اور ڈھیر سارا جہیز دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اس بات کا یقین رکھیں کہ اپ کا بلا وجہ کا خرچہ لوگوں کے چند منٹ کی ڈسکشن سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔

اگر اپ افورڈ نہیں کر سکتے تو قل خانی پر ڈھیرو ڈھیر کھانے کھلانے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اگر کار افورڈ نہیں کر سکتے تو موٹر سائیکل پر سینہ تان کر بیٹھیں اور فخر سے سفر کریں۔

اگر موٹر سائیکل کا پٹرول افورڈ نہیں کر سکتے تو موٹر سائیکل لینے کی ضرورت نہیں ہے، سائیکل پر سفر کریں۔ خودداری ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے۔

اگر اپ افطار میں فروٹ افورڈ نہیں کر سکتے تو فروٹ کے بغیر افطار کرنے سے نہ تو اپ کے ثواب میں کوئی کمی ائے گی اور نہ ہی افطار پہ کوئی فرق پڑے گا۔

اگر اپ خاتون خانہ ہیں تو یہ اپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنے بچوں کو اپنے باپ کی محنت کے متعلق بتاتی رہیں اور انہیں رزق حلال کی قدر دلاتی رہیں۔

انہیں بتائیں کہ لوگوں کے کہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ انہیں اپنے باپ کے بارے میں حسن ظن دلاتی رہیں تاکہ وہ اپنے باپ کی قدر کریں اس کی عزت کریں اور اس سے محبت کریں۔

اگر اپ بجلی کا بل افورڈ نہیں کر سکتے تو اے سی کی بجائے چھت والے پنکھے کی ہوا میں سونے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ہمارا جسم اڈپٹو ہے اسے جس چیز کی عادت ڈالیں گے ویسا ہی خود کو ڈھال لے گا۔

اور دوسرا پوائنٹ اپنی چادر کا سائز بڑا کریں۔ اگر اپ اپنی چادر کا سائز بڑا کرنا چاہتے ہیں تو دو باتوں پر خاص دھیان دیں۔

1۔ قابلِ بھروسہ بنیں۔ اتنے قابل، ایماندار اور کام کے ساتھ پروفیشنل رہیں کہ لوگ اپ پر اعتماد کریں۔ اگر اپ کے ذمہ ایک کام لگا ہے تو اسے پورے جلد جان سے مکمل کریں۔ ورڈ اف ماؤتھ مارکیٹنگ کا ایک بہت بڑا چینل ہے۔
جو انسان اپ سے کچھ کام کروائے تو وہ اپ کا گرویدہ ہو جائے۔

لوگ اپ کو ایک ذمہ دار انسان کے طور پر پہچانیں۔ لوگ اپنا کام اپنا کاروبار اپ کے حوالے کر کے مطمئن محسوس کریں۔

یاد رکھیں دنیا میں سب سے زیادہ پیسہ لوگوں کو درپیش مسائل کا حل پیش کرنے میں ہے۔ اور اسے ہی انٹرپرنیورشپ کہتے ہیں۔

2- ریسرچ ریسرچ ریسرچ: اپنے اپ کو ہر وقت اپڈیٹ رکھنے میں لگے رہیں۔ اپ کو باقیوں کی نسبت 90 فیصد زیادہ پریکٹیکل نالج ہونا چاہیے۔ اور یہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب اپ اپنی فیلڈ میں بہت زیادہ ریسرچ کریں گے۔

یاد رکھیں پریکٹس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ اپ دن رات کتابیں پڑھتے رہیں مہنگے سے مہنگے ادارے میں داخلہ لے لیں مہنگے سے مہنگا کورس لے لیں جب تک اپ اپنے اپ کو پریکٹس کا عادی نہیں کریں گے اپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔

یہ یاد رکھیں کہ اپ کے 90 فیصد کمپیٹٹرز اہمیت ہی نہیں رکھتے وہ صرف اپ کے ایک گھنٹہ ڈیلی پریکٹس کی مار ہیں۔

اور سب سے اہم اور ضروری بات اللہ تعالی پر سخت قسم کا توکل رکھیں اور دعا کو ہتھیار کے طور پر استعمال کریں۔

منقول

16/03/2024

انسان کی زندگی کے کچھ پہلو خوفناک خواب کی طرح ہوتے ہے جنہیں وہ کبھی خود بھی یاد نہیں کرنا چاہتا اور دوسرے لوگ اس بات کا ذکر کرتے ہے تو دل کرتا کہ وہ کہی چھپ جائے یا خود کو دفن کر دے
تاکہ لوگ بھول جائے اس کے بارے میں
لیکن ایسا نہیں ہوتا زندگی کی تلخ حقیقتیں کبھی پیچھا نہیں چھوڑتی وہ ہمیشہ سایہ بن کر ساتھ رہتی ہے قبر تک اور مرنے کے بعد سارے قصے تمام ہوجاتے ہے

15/03/2024

تمھارا یقین تمھیں کہاں سے کہاں تک لے جا سکتا ہے اگر تمھیں اس بات کا زرا سا بھی علم ہو جائے تو تم کبھی بھی مایوس نہ ہو....تم کبھی اپنے سے پچھلی کہانیوں کو پڑھ کر دیکھنا کہ جتنی بھی کہانیاں مکمل ہوئی ہیں وہ یقین رکھنے والوں کی ہی ہیں....
صبر کرنے والوں کے یقین پختہ ہوتے ہیں...یقین وہ ہوتا ہے جب تم خود کو یہ سمجھا لیتے ہو کہ اللہ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ بہترین ہوگا....گھبرانا نہیں ہے تم نے تمہارے لیے جلد ہی تمھارے صبر کے بدلے میں معجزے ہونگے اور جلد ہی اتنا دے دیا جائے گا کہ تمہارا دل مطمئن ہو جائے گا...
یقین رکھو جو ابھی تک سنبھالتا آیا ہے وہ آگے بھی سنبھال لے گا جو اب تک نوازتا آیا ہے وہ آگے بھی یقینا نوازے گا...
بس ڈرو نہیں تم تک وہی لایا جاتا ہے جس کا ہونا بہتر ہوتا ہے....اس وقت تم جان نہیں پاتے لیکن آہستہ آہستہ وقت سب سمجھا دیتا ہے تو بس اپنے حوصلے بلند رکھو اور اپنی امیدیں عرش والے سے وابستہ کرلو۔

14/03/2024

‏جب عثمانی ترکوں کے پاس کوئی مہمان آتا تو وہ اس کے سامنے قہوہ اور سادہ پانی پیش کرتے

اگر مہمان پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا وہ سمجھ جاتے کہ مہمان کو کھانے کی طلب ھے تو پھر وہ بہترین کھانے کا انتظام کرتے
اور اگر وہ قہوہ کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ جان لیتے کہ مہمان کو کھانے کی حاجت نہیں ھے
اگر کسی گھر کے باہر پیلے رنگ کے پھول رکھے نظر آتے تو اس کا مطلب ہوتا کہ اس گھر میں مریض موجود ھے آپ اس مریض کی وجہ سے گھر کے باہر شور شرابہ نہ کریں اور عیادت کو آسکتے ہیں
اور اگر گھر کے باہر سرخ پھول رکھتے ہوتے تو یہ اشارہ ہوتا کہ گھر میں بالغ لڑکی ہے لہذا گھر کے آس پاس بازاری جملے نہ بولے جائیں
اور اگر آپ پیغامِ نکاح لانا چاہتے ہیں تو خوش آمدید۔
گھر کے باہر دو قسم کے ڈور بیل (گھنٹی نما) ہتھوڑے رکھے ہوتے
ایک بڑا ایک چھوٹا
اگر بڑا ہتھوڑا بجایا جاتا تو اشارہ ہوتا کہ گھر کے باہر مرد آیا ھے لہذا گھر کا مرد باہر جاتا تھا
اور اگر چھوٹا ہتھوڑا بجتا تو معلوم ہوتا کہ باہر خاتون موجود ہے لہذا اس کے استقبال کے لئیے گھر کی خاتون دروازہ کھولتی تھی
عثمانی ترکوں کے صدقہ دینے کا انداز بھی کمال تھا
کہ
ان کے مالدار لوگ سبزی فروش یا دوکانداروں کے پاس جا کر اپنے نام سے کھاتہ کھلوا لیتے تھے
اور جو بھی حاجت مند سبزی یا راشن لینے آتا تو دوکاندار اس سے پیسہ لیئے بغیر اناج و سبزی دے دیتا تھا یہ بتائے بغیر کہ اس کا پیسہ کون دے گا
کچھ وقت بعد وہ مالدار پیسہ ادا کر کے کھاتہ صاف کروا دیتا
اگر کسی عثمانی ترک کی عمر تریسٹھ سال سے بڑھ جاتی اور اس سے کوئی پوچھتا کہ آپکی عمر کیا ہے؟
تو وہ
نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیاء و ادب کرتے ہوئے یہ نہ کہتا کہ میری عمر تریسٹھ سال سے زیادہ ہوگئی
ہے
بلکہ یہ کہتا
بیٹا ہم حد سے آگے بڑھ چکے ہیں
کیسا ادب کیسا عشق تھا ان لوگوں کا
کیسی بہترین عادات تھی ان لوگوں کی
یہی وجہ تھی کہ عالم کفر نے سلطنت عثمانیہ کے غداروں سے مل کر ٹکڑے کر ڈالے ۔
‎
میرا دل کرتا ہے کہ اس پوسٹ کو میں ہر مسلمان تک پہنچاوں تاکہ تمام مسلمان اپنی تاریخ کو پڑھیں اور پھر سے یہ اصول اپنایں انشاءاللہ
اللہ پاک ہم سب کو صراط المستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین اللھم آمین.

13/03/2024

اب تو گھڑی پہننے کا رواج کم ہوگیا ہے. لیکن کچھ عرصہ پہلے آٹومیٹک گھڑیوں کا ایک عروج گزرا ہے. اس کے بعد ڈیجیٹل یا بیٹری سے چلنے والی گھڑیاں آئیں. ان گھڑیوں میں اکثر وقت آگے پیچھے ہوجاتا تھا. جتنی پرانی گھڑی ہوتی اتنا ہی یہ اسکا مسئلہ ہوتا. تب معیاری وقت کے مطابق اس کو دوبارہ سیٹ کیا جاتا. اور وقت کے ساتھ اسکا تال میل دوبارہ بن جاتا.

بلکل ایسے ہی جسم میں بیالوجیکل گھڑیاں ہوتی ہیں. جسم کا بنیادی معیاری وقت کا گھڑیال دماغ میں ہوتا ہے. تقریباً 20 ہزار نیورانز سے بنی یہ گھڑی دماغ کے hypothalamus میں ہوتی ہے. جسم کی باقی ساری چھوٹی بڑی گھڑیاں اسی ماسٹر کلاک کے ساتھ تال میل بناتی ہیں. ہمارا سونا جاگنا جسم کے مختلف افعال کی ٹائمنگ مختلف جسمانی نظام ماسٹر کلاک کے ساتھ جوڑ بنا رہے ہوتے ہیں.

جب ہم تیز رفتار سواری میں ٹائم زون بدل دیتے ہیں. جیسے جہاز میں مختصر وقت میں کسی دوسرے ٹائم زون میں چلے جائیں تو ہمیں jet lag ہوتا ہے. ہمارا نظام ہضم متاثر ہو جاتا ہے. ذہنی اور جسمانی پرفارمنس کم ہو جاتی ہے. موڈ چینج اینزائٹی ہوتی ہے. اور شروع میں سونے جاگنے کے اوقات متاثر ہوتے ہیں. اور پھر جسم نئے ٹائم زون کے حساب سے اپنے آپ کو سیٹ کر لیتا ہے.

ایسے ہی سال کے گیارہ مہینوں میں ایمانی اور جسمانی شکست و ریخت کی وجہ سے ہمارے تال میل بگڑ جاتے ہیں. اسی کی برپائی کیلئے اللہ رب العزت نے ایک مہینہ رمضان کا دیا ہے. رمضان کی مکمل ترتیب سے تکمیل کر کے نہ صرف ہم ایمانی گھڑیوں کے ٹائم سیٹ کرتے ہیں. بلکہ جسمانی گھڑیاں بھی اپنے ماسٹر کلاک کے ساتھ واپس بہترین انداز میں synchronize ہو جاتی ہیں.

اللّٰه رب العزت ہم سب کو اس ماہ رمضان کی برکات سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے.

Address

Sargodha

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when علم و ادب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share