27/08/2022
ایک بھیانک صورتحال بن چکی ہے
اطلاعات کے مطابق لاکھوں مکانات گر چکے ہیں۔ کروڑوں لوگ بے آسرا ہوچکے۔ لوگوں کے اجناس کا ذخیرہ سیلاب کی نذر ہوگیا۔ کئی ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں
زرعی بحران نوشتہ دیوار ہے
یہ سب کچھ ایسے وقت ہورہا ہے جب پاکستان کی تاریخ کا بلند ترین انفلیشن یعنی 42 فیصد مہنگائی ریٹ چل رہا ہے
بجلی کے بلوں نے ویسے ہی قیامت صغریٰ برپا کی ہوئی ہے
ملک پر جو لوگ چوتھی دفعہ مسلط ہیں، ان کے بارے میں بات کرنا وقت برباد کرنے کے مترادف ہے
یہ تمام فیکٹرز مل کر ایک قیامت خیز avalanche کی شکل اختیار کرسکتے ہیں جسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی
اگر آپ اسے حکومت کی زمہ داری سمجھ رہے ہیں تو آپ فاش غلطی کررہے ہیں۔ ان کی اکثریت دوسرے ممالک کے ملٹی پل ویزے کی سہولت رکھتی ہے۔ یہ معاملات آؤٹ آف کنٹرول دیکھتے ہی ملک سے باہر محفوظ مقامات کی طرف فرار ہوجائیں گے
پھنسیں گے میں، آپ اور سیلاب کے ستائے ہوئے لوگ۔۔۔۔۔۔
اس لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ آپ سیلابی آفت کو اپنی آفت سمجھیں
ہر انسان کچھ نہ کچھ لازمی contribute کرے
بھلے 50 یا 100 روپے
بھلے آٹے یا چاول کی ایک بوری
بھلے ایک کمبل، ایک خیمہ
بھلے ایک چھوٹا فلٹر پلانٹ
یا کچھ بھی کو بن پڑے، جو ممکن ہو
اپنی زمہ داریوں کو سمجھیے۔ لوگوں کو بھی آگاہ کیجیے۔ سب کو ساتھ ملائیے۔ لوگوں کو ایجوکیٹ کیجیے کہ اس آفت سے ہم سب نے مل کر نمٹنا ہے
ایک دوسرے کا سہارا بننا