Aab_E_hayaat

Aab_E_hayaat Aab_E_hayat ki justju main bhatakktey insanoun key liye muqam_E_ mussarat

ناپاکی سے پاکی کا سفر :
==================

مرید نے مرشد کو اچھے موڈ میں دیکھا تو با ادب ھو کر گویا ھوا ! میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق تو کچھ بتائیے ،کیا اسی کو آبِ حیات کہتے ھیں؟ اور اس پانی کا چشمہ پھوٹتا کہاں سے ھے ؟؟؟

مرشــد نے گہری نظر سے مرید کی طرف دیکھا اور سوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزر گئ تو مرید کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے مرشد کو ناراض کر دیا ھے،، وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا، حضرت جی ا

گر میرے سوال سے آپ کو کوفت ھوئی ھے تو میں معافی کا طلبگار ھوں !

ایک لمبی ' "ھـُـــــــوں" کے بعد مرشد نے نرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تو نہیں ھوا مگر فکرمند ضرور ھوں ،،میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا تو ھمارے درمیان 12 سال کی طویل جدائی پڑ گئ تھی ، میں سوچ یہ رھا تھا کہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کر سکوں گا بھی یا نہیں، اس دوران اگر میری اجل آگئ تو کہیں تمہاری محنت ضائع نہ ھو جائے ـ

بیٹا یہ عرقِ حیات یا آبِ حیات ، یہ الفاط میں نہیں سمجھایا جا سکتا، سمجھاؤ تو سمجھ نہیں آتا ! اس لئے میرا مرشد تو آب حیات کے چشمے کےکنارے کھڑا کر کے ،اس میں انگلی ڈبو کر دکھایا کرتا تھا کہ یہ ھے عرقِ حیات !! میں نے یہ سوال اپنے مرشد سے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا ، تم نے بہت دیر کر دی ھے،، خیر اللہ بہتر کرے گا، میں تمہیں ایک پودا دکھاتا ھوں ، اس پودے کے پھول کا عرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرنا ھے اور جب یہ شیشی بھر جائے تب میرے پاس واپس آنا ھے، یہ عرق ھی ھماری آنکھوں میں عرقِ حیات کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے گا !! یاد رکھنا ایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتا ھے ، اور اگر شیشی فوراً بند نہ کرو تو فوراً اڑ بھی جاتا ھے، اور یہ پودا جنگل میں کہیں کہیں ملتا ھے ! اس کے بعد مرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مرید کو پکڑائی اور اسے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا !

مرید بہت پرجوش تھا، آبِ حیات کا معمہ بس حل ھونے کو تھا ، اور اسے آبِ حیات کو دیکھنے اور چھونے کا موقع ملے گا، مگر ایک تو اس پودے کو ڈھونڈنا ایک جوکھم تھا تو ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اور ایک پھول میں ایک قطرہ ، الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں، جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کے لئے ایک نئ زندگی کی نوید تھا، ایک طرف وہ پھولے نہیں سما رھا تھا تو دوسری طرف اسے بار بار یہ خیال ستا رھا تھا کہ اگر اس دوران مرشد اللہ کو پیارے ھوگئے تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات کو چشمہ تو صرف مرشد کو ھی پتہ تھا !!

وہ خیالات میں غلطاں و پیچاں کبھی چلتا تو کبھی دوڑتا، اپنے مرشد کے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا، مرشد کے ڈیرے پہ نظر پڑنا تھا کہ وہ بیتاب ھو کر دور سے ھی چلایا ، میرے مرشد،اے میرے مرشد، دیکھیے میں اپنی تپسیا میں کامیاب رھا، میں بوتل بھر لایا ھوں ، اس کی آواز پر مرشد اپنے کٹھیا سے باہر نکلا ، بارہ سالوں نے اس کی کمر دھری کر دی تھی مگر وہ بھی مرید کی کامیابی پر خوش نظر آتا تھا !!

اپنے مرشد پر نظر پڑنا تھا کہ مرید بے اختیار دوڑ پڑا اور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی، ٹیڑھے میڑھے رستے پر قدم کا سٹکنا تھا کہ مرید لڑکھڑایا اور عرق سے بھری شیشی اس کے ھاتھ سے چھوٹ کر ٹھاہ سے پتھر پر لگی اور چورا چورا ھو گئ، عرق کے کچھ چھینٹے مرشد کے پاؤں پر پڑے باقی کو جھٹ زمین نگل گئ ـ

بے اختیار مرید کی چیخ نکل گئ ، میرے مرشد میری محنت ،میرے بارہ سال کی مشقت مٹی بن گئ، میرے مرشد میں تباہ ھو گیا، مرشد اپنے مرید کو چھوڑ کر اندر گیا اور ایک اور چھوٹی سی شیشی لایا جس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسو بھرنا شروع کر دیئے ، اور وہ شیشی بھر لی !! اب مرید رو رھا تھا تو مرشد ھنس رھا تھا، میرے مرشد میری زندگی برباد ھو گئ اور آپ مسکرا رھے ھیں ؟ مرید نے تعجب سے پوچھا !!

مرشد اسے اندر لے گیا اور بکری کے دودھ کا پیالہ پینے کو دیا ، پھر اس نے اس چھوٹی شیشی کو کھولا جس میں مرید کے آنسو بھرے ھوئے تھے، اور اپنی انگلی کو ان سے گیلا کر کے کہا کہ یہ ھے " عرقِِ حیات " یا " آبِ حیات " یا مقصدِ حیات !! اور پھر آنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کو چھو کر کہا یہ ھیں آبِ حیات کے چشمے !!

یاد رکھو ! اللہ نے انسان کو ان آنسوؤں کے لئے پیدا کیا ھے ، ان میں ھی زندگی چھپی ھوئی ھے، کچھ اس کی محبت میں زارو قطار روتے ھیں جیسے انبیاء، اور کچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذرا سی غلطی سےگرتے اور ٹوتے اور اپنی محنتیں ضائع ھوتے دیکھتے ھیں تو تیری طرح بلبلاتے ھیں ، جس طرح پانی نکلنے اور نکالنے کے مختلف طریقے ھیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کا سامان کیا گیا ھے ـ

یاد رکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ھیں مگر شیشی کسی کی نہیں ٹوتتی، آسمان والوں کے مٹکے ھر دم بھرے رھتے ھیں، وھاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں رکھے گئے ، ان کے رونے میں تسبیح ھے، پچھتاوہ نہیں ھے ! ھمیں اسی مقصد سے بنایا گیا ھے
ناپاکی سے پاکی کا سفر :
==================

مرید نے مرشد کو اچھے موڈ میں دیکھا تو با ادب ھو کر گویا ھوا ! میرے مرشد مجھے عرقِ حیات کے متعلق تو کچھ بتائیے ،کیا اسی کو آبِ حیات کہتے ھیں؟ اور اس پانی کا چشمہ پھوٹتا کہاں سے ھے ؟؟؟

مرشــد نے گہری نظر سے مرید کی طرف دیکھا اور سوچ میں ڈوب گیا،جب کافی دیر گزر گئ تو مرید کو یوں لگا جیسے اس نے اپنے مرشد کو ناراض کر دیا ھے،، وہ پھر ڈرتے ڈرتے بولا، حضرت جی اگر میرے سوال سے آپ کو کوفت ھوئی ھے تو میں معافی کا طلبگار ھوں !

ایک لمبی ' "ھـُـــــــوں" کے بعد مرشد نے نرمی سے بولا، نہیں میں ناراض تو نہیں ھوا مگر فکرمند ضرور ھوں ،،میں نے جب یہ سوال اپنے مرشد سے کیا تھا تو ھمارے درمیان 12 سال کی طویل جدائی پڑ گئ تھی ، میں سوچ یہ رھا تھا کہ پتہ نہیں میں تمہاری یہ طویل جدائی برداشت کر سکوں گا بھی یا نہیں، اس دوران اگر میری اجل آگئ تو کہیں تمہاری محنت ضائع نہ ھو جائے ـ

بیٹا یہ عرقِ حیات یا آبِ حیات ، یہ الفاط میں نہیں سمجھایا جا سکتا، سمجھاؤ تو سمجھ نہیں آتا ! اس لئے میرا مرشد تو آب حیات کے چشمے کےکنارے کھڑا کر کے ،اس میں انگلی ڈبو کر دکھایا کرتا تھا کہ یہ ھے عرقِ حیات !! میں نے یہ سوال اپنے مرشد سے ان کی جوانی میں پوچھ لیا تھا ، تم نے بہت دیر کر دی ھے،، خیر اللہ بہتر کرے گا، میں تمہیں ایک پودا دکھاتا ھوں ، اس پودے کے پھول کا عرق تم نے ایک چھوٹی شیشی میں بھرنا ھے اور جب یہ شیشی بھر جائے تب میرے پاس واپس آنا ھے، یہ عرق ھی ھماری آنکھوں میں عرقِ حیات کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرے گا !! یاد رکھنا ایک پھول سے صرف ایک قطرہ رس نکلتا ھے ، اور اگر شیشی فوراً بند نہ کرو تو فوراً اڑ بھی جاتا ھے، اور یہ پودا جنگل میں کہیں کہیں ملتا ھے ! اس کے بعد مرشد نے ایک درمیانے سائز کی شیشی اپنے مرید کو پکڑائی اور اسے ڈھیر ساری دعاؤں کے ساتھ رخصت کر دیا !

مرید بہت پرجوش تھا، آبِ حیات کا معمہ بس حل ھونے کو تھا ، اور اسے آبِ حیات کو دیکھنے اور چھونے کا موقع ملے گا، مگر ایک تو اس پودے کو ڈھونڈنا ایک جوکھم تھا تو ایک پودے کے ساتھ ایک پھول اور ایک پھول میں ایک قطرہ ، الغرض اسے بارہ سال لگ گئے بوتل بھرنے میں، جس دن اس کی بوتل بھری وہ دن اس کے لئے ایک نئ زندگی کی نوید تھا، ایک طرف وہ پھولے نہیں سما رھا تھا تو دوسری طرف اسے بار بار یہ خیال ستا رھا تھا کہ اگر اس دوران مرشد اللہ کو پیارے ھوگئے تو اس کی محنت ضائع چلی جائے گی کیونکہ آبِ حیات کو چشمہ تو صرف مرشد کو ھی پتہ تھا !!

وہ خیالات میں غلطاں و پیچاں کبھی چلتا تو کبھی دوڑتا، اپنے مرشد کے ٹھکانے کی طرف رواں دواں تھا، مرشد کے ڈیرے پہ نظر پڑنا تھا کہ وہ بیتاب ھو کر دور سے ھی چلایا ، میرے مرشد،اے میرے مرشد، دیکھیے میں اپنی تپسیا میں کامیاب رھا، میں بوتل بھر لایا ھوں ، اس کی آواز پر مرشد اپنے کٹھیا سے باہر نکلا ، بارہ سالوں نے اس کی کمر دھری کر دی تھی مگر وہ بھی مرید کی کامیابی پر خوش نظر آتا تھا !!

اپنے مرشد پر نظر پڑنا تھا کہ مرید بے اختیار دوڑ پڑا اور یہی بے احتیاطی اسے مہنگی پڑی، ٹیڑھے میڑھے رستے پر قدم کا سٹکنا تھا کہ مرید لڑکھڑایا اور عرق سے بھری شیشی اس کے ھاتھ سے چھوٹ کر ٹھاہ سے پتھر پر لگی اور چورا چورا ھو گئ، عرق کے کچھ چھینٹے مرشد کے پاؤں پر پڑے باقی کو جھٹ زمین نگل گئ ـ

بے اختیار مرید کی چیخ نکل گئ ، میرے مرشد میری محنت ،میرے بارہ سال کی مشقت مٹی بن گئ، میرے مرشد میں تباہ ھو گیا، مرشد اپنے مرید کو چھوڑ کر اندر گیا اور ایک اور چھوٹی سی شیشی لایا جس میں اس نے روتے سسکتے مرید کے آنسو بھرنا شروع کر دیئے ، اور وہ شیشی بھر لی !! اب مرید رو رھا تھا تو مرشد ھنس رھا تھا، میرے مرشد میری زندگی برباد ھو گئ اور آپ مسکرا رھے ھیں ؟ مرید نے تعجب سے پوچھا !!

مرشد اسے اندر لے گیا اور بکری کے دودھ کا پیالہ پینے کو دیا ، پھر اس نے اس چھوٹی شیشی کو کھولا جس میں مرید کے آنسو بھرے ھوئے تھے، اور اپنی انگلی کو ان سے گیلا کر کے کہا کہ یہ ھے " عرقِِ حیات " یا " آبِ حیات " یا مقصدِ حیات !! اور پھر آنسوؤں میں ڈبڈباتی اس کی آنکھوں کو چھو کر کہا یہ ھیں آبِ حیات کے چشمے !!

یاد رکھو ! اللہ نے انسان کو ان آنسوؤں کے لئے پیدا کیا ھے ، ان میں ھی زندگی چھپی ھوئی ھے، کچھ اس کی محبت میں زارو قطار روتے ھیں جیسے انبیاء، اور کچھ اپنے عملوں کے بھرے مٹکے جب اپنی ذرا سی غلطی سےگرتے اور ٹوتے اور اپنی محنتیں ضائع ھوتے دیکھتے ھیں تو تیری طرح بلبلاتے ھیں ، جس طرح پانی نکلنے اور نکالنے کے مختلف طریقے ھیں اسی طرح انسانوں میں بھی ان کی طبائع کے تحت ان آنسوؤں کا سامان کیا گیا ھے ـ

یاد رکھو آسمان پر بھرنے والے بہت سارے ھیں مگر شیشی کسی کی نہیں ٹوتتی، آسمان والوں کے مٹکے ھر دم بھرے رھتے ھیں، وھاں مٹکے ٹوٹنے کے اسباب نہیں رکھے گئے ، ان کے رونے میں تسبیح ھے، پچھتاوہ نہیں ھے ! ھمیں اسی مقصد سے بنایا گیا ھے

27/08/2022

ایک بھیانک صورتحال بن چکی ہے

اطلاعات کے مطابق لاکھوں مکانات گر چکے ہیں۔ کروڑوں لوگ بے آسرا ہوچکے۔ لوگوں کے اجناس کا ذخیرہ سیلاب کی نذر ہوگیا۔ کئی ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئیں

زرعی بحران نوشتہ دیوار ہے

یہ سب کچھ ایسے وقت ہورہا ہے جب پاکستان کی تاریخ کا بلند ترین انفلیشن یعنی 42 فیصد مہنگائی ریٹ چل رہا ہے

بجلی کے بلوں نے ویسے ہی قیامت صغریٰ برپا کی ہوئی ہے

ملک پر جو لوگ چوتھی دفعہ مسلط ہیں، ان کے بارے میں بات کرنا وقت برباد کرنے کے مترادف ہے

یہ تمام فیکٹرز مل کر ایک قیامت خیز avalanche کی شکل اختیار کرسکتے ہیں جسے روکنا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی

اگر آپ اسے حکومت کی زمہ داری سمجھ رہے ہیں تو آپ فاش غلطی کررہے ہیں۔ ان کی اکثریت دوسرے ممالک کے ملٹی پل ویزے کی سہولت رکھتی ہے۔ یہ معاملات آؤٹ آف کنٹرول دیکھتے ہی ملک سے باہر محفوظ مقامات کی طرف فرار ہوجائیں گے

پھنسیں گے میں، آپ اور سیلاب کے ستائے ہوئے لوگ۔۔۔۔۔۔

اس لیے یہ بات انتہائی اہم ہے کہ آپ سیلابی آفت کو اپنی آفت سمجھیں

ہر انسان کچھ نہ کچھ لازمی contribute کرے

بھلے 50 یا 100 روپے
بھلے آٹے یا چاول کی ایک بوری
بھلے ایک کمبل، ایک خیمہ
بھلے ایک چھوٹا فلٹر پلانٹ
یا کچھ بھی کو بن پڑے، جو ممکن ہو

اپنی زمہ داریوں کو سمجھیے۔ لوگوں کو بھی آگاہ کیجیے۔ سب کو ساتھ ملائیے۔ لوگوں کو ایجوکیٹ کیجیے کہ اس آفت سے ہم سب نے مل کر نمٹنا ہے

ایک دوسرے کا سہارا بننا

07/08/2019

🛑 *خصوصی اشاعت*🛑
=====================

*فیس بک اور واٹس ایپ پر جابجا تصویریں موصول ہورہی ہیں، زخمی وشہید کشمیری مجاہدین، بچوں اور عورتوں کی۔*
ساتھ میں درد بھری التجا ہے کہ اس کو اتنا شئیر کریں کہ مودی حکومت کو ہوش آجائے۔

معاف کیجئے گا ہم بندر سے انسان نہیں بنے ہیں، پورے شعور و ادراک کے ساتھ خلیفہ کا منصب دے کر اتارے گئے ہیں۔

*سوال یہ ہے*❓ کہ ہم اپنے خون اور زخموں کی تشہیر کرکے خود کو کمزور کیوں کریں؟انسانی ذہن ایک حد تک ہی دکھ کی کیفیت برداشت کرسکتا ہے۔ ہم اپنی بےبسی کا خود اشتہار کیوں بنیں۔

🛑 *قربانیاں مظلوم کشمیری دے رہے ہیں کیا ان کی تشہیر کرکے یا پروفائل پکچر تبدیل کرکے ہم اپنے ضمیر کے بوجھ سے نجات پا لیں گے؟؟؟*❓

*اکثر پوسٹوں پر وظائف و دعا کی تلقین۔ یہ پڑھیں، اتنی بار پڑہیں، یہ دعا اتنی بار کریں۔*

🛑دعا مومن کا ہتھیار ہے مگر تاریخ بتاتی ہے کہ تین سو تیرہ لا کر میدان میں پیش کردئے گئے تھے،
تیر کی نوک سے صفیں سیدھی کرنے کے بعد رحمت دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے اور دعا کی کہ جو کچھ ہے مولا پیش کردیا ہے۔ امت کا بھرم رکھ لے۔

🛑 *اگر دعاؤں سے تقدیر بدلتی تو سیرت مطہرہ ﷺ سے اسی کا سبق ملتا۔* ہم تو دیکھتے ہیں ہر ماہ کسی غزوے یا سریہ کا سامان ہے مدنی زندگی میں۔۔

🛑دعا، کوشش کے ساتھ کی جاتی ہے۔
*کوئی طالب علم کبھی محض دعا سے ڈاکٹر یا انجینئر بن سکتا ہے؟*❓

کیا بغیر اینٹوں اور سرئیے کے دعا سے گھر تعمیر ہوجاتے ہیں؟؟
آئینہ ہے یہ وقت ہمارے لئے۔ہمارے ایمان کا امتحان۔
*دشمن کی توپوں میں کیڑے پڑنے کی دعا سے آگے کچھ کرنا ہوگا۔*

حکومت کے کام وہ جانے۔۔
🛑 *ہم محض حکومت پر تنقید کرکے اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہوسکتے۔*
معرکوں کے بلاوں میں سجدوں کی نہیں *معرکوں کی حکمت عملی طے کی جاتی ہے،* سجدے تو اخلاص کا مظہر ہوتے ہیں۔

*سوچنا یہ ہے کہ کرنا کیا ہے؟؟؟؟*
مودی سرکار نے یہ قدم اٹھا کر انڈیا کے سب مسلمانوں کو للکارا ہے کہ وہ کتنے غیر محفوظ ہیں۔

❌🛑ہم انڈیا کی ہر طرح کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔بلکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھی کیونکہ یہودوہنود ایک دوسرے کے غم خوار ہیں۔

▪ اس وقت نیٹو فورسز مسلمانوں کو نشانے پر لئے ہوئے ہیں۔

🛑 آسٹریلیا کے سپراسٹوز میں ایک کارنر"انڈیا ٹوڈے"کے عنوان سے جابجا دیکھا میں نے، جہاں انڈیا کے مصالحہ جات وکچن آئٹمز بالخصوص خواتین کی توجہ کا بڑا مرکز ہیں۔
دنیا بھر میں جہاں ہمارے عزیز یا حلقہ احباب ہیں ہم ان کو متوجہ کریں کہ انڈیا کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں۔

🛑 انڈین چینلز، انڈین فلموں کی دنیا بھر میں بائیکاٹ کی مہم چلائیں۔
اب خط لکھنے اور پوسٹ کرنے کے لئے کہیں گھر سے باہر نہیں جانا پڑتا۔ دنیا بھر کے سفارت خانوں کو میلز کریں اور کشمیری مظالم سے آگاہ کریں۔

▪ ہمارا قصور بھی کم نہیں۔کشمیر فنڈ، کشمیر سے محبت کے ترانے ہم نے بھی جزدانوں میں لپیٹ کر طاق میں رکھ چھوڑے۔

▪ اپنے گھروں کے گلک سے پھر کشمیر فنڈ کا آغاز کریں۔
🛑 ہمارے اختلافات نے ہماری ہوا اکھیڑ دی ہے اس وقت ایک قوم بن جائیں۔
🛑 *ہمارا دشمن ایک ہے ایک دوسرے کے خلاف محاذآرائی سے گریز کریں۔*
اپنے دائرہ کار میں ہم کیا کرسکتے ہیں خود پلان کریں۔

*استغفار کی کثرت کریں* ایسا نہ ہو کہ ان کا خون ہماری گردن پر ہو کہ ہم نے انھیں تنہا چھوڑ دیا۔

❓ *خود اپنے گھر اور بچوں کو اس جگہ رکھ کر سوچیں* ان کی صبحیں ،انکی شامیں کیسے تلواروں کے سائے میں ہیں۔

*اگر ان کا درد محسوس کرکے ہم نماز فجر سے قبل ایک سجدے سے بھی محروم ہیں تو محض ٹوئٹر فیس بک اور خواہشوں سے جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں*۔

20/02/2018

جس امت کو قبرستان سے گزرتے وقت مردہ کو سلام کرنے کا حکم ہے۔ وہ اب اتنی بےحس ہو چکی ہے کہ زندہ کو بھی بغیر مطلب سلام نہیں کرتے۔

06/01/2018

السلام علیکم!
پریشانیاں صرف "مکافاتِ عمل" کے تحت نہیں آتیں.کچھ "آزمائشوں کے طور" پر کچھ سبق دینے،کچھ "نیکیاں دینے" اور "کچھ مستقبل" کی تیاری کے لیے بھی آتی ہیں.

Posted by Fan of the Week free version.
15/12/2017

Posted by Fan of the Week free version.

Vilayat Hussain is this week's fan. Want to be next? Click to apply.

Posted by Fan of the Week free version.
08/12/2017

Posted by Fan of the Week free version.

Aab_E_hayaat is this week's fan. Want to be next? Click to apply.

Posted by Fan of the Week free version.
01/12/2017

Posted by Fan of the Week free version.

KhiZra Anwaar is this week's fan. Want to be next? Click to apply.

17/11/2017

ﭘﺮﺩﮦ
★ * ﺍﯾﮏ ﻋﺮﺏ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ
“* ﻣﺠﮭﮯ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﻧﮯ ﻻ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﮈﮬﺎﻧﭙﺎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎﻝ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ *..”
* ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
* ﺗﮭﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ ؟؟ *
* ﻭﮦ ﺑﻮﻟﯽ
* ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺑﺘﺎﻧﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﮈﮬﺎﻧﭙﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ !! ؟ *
* ﭘﺲ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺷﺮﻣﻨﺪﮦ ﮐﺮ ﮈﺍﻻ *...
** * ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮐﺎ ﺣﮑﯿﻤﺎﻧﮧ ﻗﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ
“* ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮭﯽ ﭼﯿﺰ ﺟﻮ ﭼﮭﭙﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﮑﺸﺎﻑ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ *”.
* ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺏ ﺍﻟﻌﺰﺕ ﺩﻧﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﺕ ﻣﯿﮟ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺳﺘﺮﭘﻮﺷﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﮯ *...
* ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ .. ﺧﻮﺍﮦ ﺗﻢ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﮨﻮ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑُﺮﺍ ﮨﮯ .. ﯾﮧ ﮨﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺍﺣﺘﺮﺍﻡ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﮩﺘﺮ ﭼﮩﺮﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ، ﺑﺲ ﺍﺳﯽ ﭘﺮ ﺍﮐﺘﻔﺎ ﮐﺮﻭ ... ﮨﻢ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﺮ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺮﺍ ﺭُﺥ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﻮ ﻭﮦ ﺧﻮﺩ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ ﮨﮯ

Posted by Fan of the Week free version.
17/11/2017

Posted by Fan of the Week free version.

Shebba Sheeba is this week's fan. Want to be next? Click to apply.

15/11/2017

اکثر لوگ کہتے ہیں ہم سے غلط بات برداشت نہیں ہوتی حالانکہ غلط
بات ہی تو برداشت کی جاتی ہے صحیح بات برداشت نہیں تسلیم کی جاتی ہے.........................!!

04/11/2017

محبت وسوسوں کا آئینہ ہوتی ہے، جس زاویے سے بھی اس کا عکس دیکھیں کوئی نیا وسوسہ، کچھ الگ ہی خدشہ سر اٹھاتا ہے۔ ایک پل پہلے مل کر جانے والا محبوب بھی موڑ مڑتے ہوئے آخری بار پلٹ کر نہ دیکھے تو دیوانوں کی دنیا اتھل پتھل ہونے لگتی ہے کہ جانے کیا ہوگا؟ کہیں وہ روٹھ تو نہیں گیا، کوئی بات بری تو نہیں لگ گئی اسے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ اور پھر اگلی ملاقات تک سارا چین و سکون غارت ہوجاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال میرا بھی تھا لیکن میں کتنا بے بس تھا کہ اپنی مرضی سے قدم بھی نہیں اٹھا سکتا تھا۔ کبھی کبھی مجھے اس انسانی جسم کی لاچاری پر بے حد غصہ آتا تھا۔ ہمارے جسم کو ہماری سوچ جیسی پرواز کیوں نہیں عطا کی گئی، ایسا ہوتا تو میں اڑ کر اس بے پروا کے در جا پہنچتا کہ اس تغافل کی وجہ تو بتادے۔

Address

Sialkot

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Aab_E_hayaat posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Aab_E_hayaat:

Share

Category