T.A.K Handy Crafts

T.A.K Handy Crafts Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from T.A.K Handy Crafts, Sialkot.

21/08/2026

کیا آپ یقین کریں گے کہ پاکستان کا ایک ایسا گاؤں بھی ہے جہاں تقریباً ہر گھر کا کوئی نہ کوئی فرد انگلینڈ میں رہتا ہے؟ جہاں گاؤں کی گلیوں میں چلتے ہوئے آپ کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے آپ پاکستان نہیں بلکہ انگلینڈ کے کسی شہر میں آگئے ہوں؟ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی چھوٹے سے گاؤں میں بیرونِ ملک سے اتنی رقم آتی تھی کہ تقریباً تیس سال پہلے یہاں بینک کی برانچ قائم کرنا پڑی۔ آخر ایسا کیا ہوا کہ ایک عام سا پاکستانی چک دنیا بھر میں ’’منی انگلینڈ‘‘ کے نام سے مشہور ہوگیا؟

یہ کہانی صرف بیرونِ ملک جانے کی نہیں، بلکہ محنت، باہمی تعاون، تعلیم اور اپنے گاؤں سے محبت کی ایک ایسی مثال ہے جس نے پورے علاقے کی قسمت بدل دی۔ اس گاؤں کے چاروں طرف دیہات، کھیت اور باغات ہیں، لیکن درمیان میں آباد یہ چک اپنی ایک الگ پہچان رکھتا ہے۔ یہاں رہنے والے لوگوں کے مطابق گاؤں کی تقریباً ہر فیملی کا کوئی نہ کوئی فرد انگلینڈ میں مقیم ہے، جبکہ کچھ خاندان ایسے بھی ہیں جن کے چند افراد پاکستان میں ہیں لیکن انگلینڈ میں ان کی تعداد زیادہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ اسے پیار سے ’’منی انگلینڈ‘‘ کہتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس گاؤں سے انگلینڈ جانے کا سلسلہ شروع کب ہوا؟ یہ خوشحالی یہاں کیسے پہنچی؟ اور سب سے دلچسپ بات یہ کہ جب لوگوں کے پاس بیرونِ ملک سے پیسہ آنا شروع ہوا تو انہوں نے بڑے شہروں میں جائیدادیں خریدنے کے بجائے اپنے اسی چھوٹے سے گاؤں میں کروڑوں روپے کے گھر کیوں تعمیر کیے؟

اس کی ایک بڑی وجہ یہاں کے لوگوں کی اپنے گاؤں سے محبت ہے۔ جو لوگ انگلینڈ گئے، انہوں نے اپنی کامیابی کو صرف اپنے تک محدود نہیں رکھا۔ ایک شخص کے جانے کے بعد دوسرے لوگوں کے لیے راستے کھولے گئے۔ کسی نے کسی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی بلکہ ایک دوسرے کی مدد کی۔ یوں ایک کے بعد دوسرا، پھر تیسرا اور دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کے بے شمار لوگ انگلینڈ پہنچنے لگے۔

خاص طور پر اسکاٹ لینڈ کے گلاسگو اور ایڈنبرا میں اس گاؤں کے لوگوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ وہاں بھی ان کی اپنی محفلیں اور میل جول ہے۔ گاؤں کے رہنے والے بتاتے ہیں کہ جب وہاں اپنے علاقے کے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ انگلینڈ نہیں بلکہ اپنے اسی گاؤں میں بیٹھے ہوں۔

وقت کے ساتھ بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم بھی بڑھتی گئیں۔ یہاں تک کہ گاؤں میں بینک کی برانچ قائم ہوگئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق بینک کی برانچ یہاں بہت عرصے سے موجود تھی اور بعد میں بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم اور ہونے والی ٹرانزیکشنز کی وجہ سے بینک نے یہاں اپنی جگہ خرید کر برانچ کو مزید مستحکم کیا۔ یہ بات اس گاؤں کی معاشی طاقت کا اندازہ لگانے کے لیے کافی ہے۔

لیکن حیرت ابھی باقی تھی۔

عام طور پر جب کسی پسماندہ علاقے کے لوگ خوشحال ہوتے ہیں تو وہ بڑے شہروں میں پلاٹ اور جائیدادیں خریدنے لگتے ہیں۔ مگر اس گاؤں میں معاملہ بالکل مختلف نکلا۔ یہاں بیرونِ ملک مقیم لوگوں نے اپنے پیسے اپنے گاؤں میں لگائے۔ کروڑوں روپے کے بڑے بڑے گھر تعمیر کیے گئے۔ وجہ صرف دولت نہیں تھی، بلکہ اپنے گاؤں سے محبت تھی۔ بیرونِ ملک رہنے والے لوگ چاہتے تھے کہ ان کے والدین، بھائی اور خاندان کے دوسرے افراد اپنے ہی گاؤں میں آرام اور عزت سے رہیں، اس لیے انہوں نے اپنے آبائی گاؤں کو ہی اپنی سرمایہ کاری کا مرکز بنا دیا۔

اور شاید اسی اتحاد نے اس گاؤں کو دوسروں سے مختلف بنایا۔

گاؤں کے رہنے والے دعویٰ کرتے ہیں کہ یہاں برادری کے اندر بڑے جھگڑے نہیں ہوتے، لوگ ایک دوسرے سے غیر ضروری حسد نہیں کرتے اور اگر کوئی معاملہ پیدا بھی ہوجائے تو اسے پولیس یا تھانے تک لے جانے کے بجائے مقامی سطح پر ہی حل کرلیا جاتا ہے۔ یعنی بیرونِ ملک سے آنے والی دولت کے باوجود یہاں کے لوگوں نے اپنے باہمی تعلقات کو ٹوٹنے نہیں دیا۔

لیکن اس گاؤں کی اصل تبدیلی صرف انگلینڈ جانے سے نہیں آئی تھی۔ اس کے پیچھے ایک ایسی شخصیت کا بھی کردار تھا جس نے یہاں کے پرانے جاگیردارانہ نظام کو چیلنج کیا۔

یہ شخصیت تھیں منظور احمد لہری۔

ایک وقت تھا جب اس علاقے میں جاگیردارانہ اثر و رسوخ بہت مضبوط تھا۔ طاقتور لوگ اونچی چارپائیوں پر بیٹھتے اور عام لوگ نیچے۔ لیکن منظور احمد لہری نے اس سوچ کے خلاف آواز اٹھائی۔ ان کا پیغام سادہ مگر انتہائی طاقتور تھا: اپنی محنت کرو، کسی کے غلام نہ بنو اور اپنی آزادی کے ساتھ زندگی گزارو۔

رفتہ رفتہ لوگوں میں شعور پیدا ہوا۔ انہوں نے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے کام خود کرنا شروع کیے۔ یوں وہ پرانا نظام کمزور ہوتا گیا اور گاؤں میں برابری اور خودمختاری کا تصور مضبوط ہوتا چلا گیا۔

آج اسی گاؤں میں تعلیم پر بھی خاص توجہ دی جاتی ہے۔ یہاں ہائی اسکول موجود ہیں اور کئی عمارتیں اور تعلیمی سہولیات مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیں۔ گاؤں کے لوگوں کا کہنا ہے کہ حکومت نے بنیادی منظوری دی، لیکن زمین اور عمارتوں سمیت بہت سا کام خود اہلِ گاؤں نے کیا۔

اور اس کہانی میں ایک اور دلچسپ موڑ اس وقت آتا ہے جب منظور احمد لہری کی صاحبزادی سامنے آتی ہیں۔ انہوں نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کی، یونیورسٹی آف ویلز سے ایم بی اے کیا اور پھر اسی ’’منی انگلینڈ‘‘ کہلانے والے گاؤں میں واپس آکر تدریس کا کام شروع کردیا۔

سوال پیدا ہوتا ہے کہ جس شخص نے بیرونِ ملک تعلیم حاصل کی، وہ دوبارہ اسی چھوٹے سے گاؤں میں کیوں آگئی؟

جواب شاید اس پورے گاؤں کی اصل روح کو سمجھنے کے لیے کافی ہے۔

ان کے مطابق بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے سے انہیں مختلف معاشروں، لوگوں اور تعلیمی نظاموں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، لیکن اپنے گاؤں کی ضروریات اور اپنے لوگوں کے مستقبل کو بہتر بنانے کی خواہش انہیں واپس لے آئی۔ وہ چاہتی تھیں کہ گاؤں کے بچوں کو ایسی تعلیم ملے جو انہیں دنیا کے کسی بھی حصے میں جانے کے قابل بنائے۔

اور یہی اس ’’منی انگلینڈ‘‘ کی سب سے بڑی کہانی ہے۔

یہ صرف ایک ایسا گاؤں نہیں جہاں بہت سے لوگ انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ یہ ایک ایسا گاؤں ہے جہاں بیرونِ ملک جانے والوں نے اپنے پیچھے رہ جانے والوں کو نہیں بھلایا۔ جہاں لوگوں نے ایک دوسرے کی مدد کرکے مواقع پیدا کیے۔ جہاں بیرونِ ملک سے آنے والی دولت نے صرف چند خاندانوں کو نہیں بلکہ پورے گاؤں کی شکل بدلنے میں کردار ادا کیا۔ جہاں کروڑوں کے گھر صرف دولت کی نمائش نہیں بلکہ اپنے آبائی وطن سے محبت کی علامت ہیں۔

اور شاید اسی لیے، پاکستان کے عام دیہات کے درمیان موجود یہ چھوٹا سا چک آج ’’منی انگلینڈ‘‘ کہلاتا ہے۔

کیونکہ اس گاؤں کی اصل پہچان انگلینڈ میں رہنے والے لوگوں کی تعداد نہیں، بلکہ وہ رشتہ ہے جو ہزاروں میل دور رہنے کے باوجود آج بھی ان لوگوں کو اپنے گاؤں، اپنی مٹی اور اپنے لوگوں سے جوڑے رکھتا ہے۔
اور اب آخر میں وہ راز بھی جان لیجیے جس کا آپ انتظار کر رہے تھے۔ یہ کوئی فرضی کہانی نہیں بلکہ چک نمبر 336 گ ب سرابہ (Chak 336 GB Sarabah)، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی داستان ہے، جسے بیرونِ ملک خصوصاً برطانیہ میں مقیم لوگوں کی بڑی تعداد اور اپنے گاؤں سے غیر معمولی محبت کی وجہ سے ’’منی انگلینڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایک چھوٹے سے پاکستانی گاؤں نے کس طرح اپنے لوگوں کی محنت، باہمی تعاون، تعلیم اور بیرونِ ملک سے آنے والی رقوم کے ذریعے اپنی ایک الگ پہچان بنا لی، یہی اس گاؤں کی اصل کہانی ہے۔

23/04/2025

Address

Sialkot
51310

Telephone

03466796660

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when T.A.K Handy Crafts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to T.A.K Handy Crafts:

Shortcuts

Share