ختم النبوت-

ختم النبوت- السلام عليڪم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
دوستو یہ اسلامی گروپ ہے اس میں تحریر قول و فعل حوالے کے ساتہہ شیٸر کیا جاتا ہے

07/09/2025

Astagfirullah

26/07/2024

ھارون الرشید نے بہلول کو ھدایت کی کہ بازار جائیں
اور قصائیوں کے ترازو اور جن پتھروں سے وہ گوشت تولتے ھیں وہ چیک کریں
اور جن کے تول والا پتھر کم نکلے انھیں گرفتار کرکے دربار میں حاضر کریں

بہلول بازار جاتے ہیں.

پہلے قصائی کا تول والا پتھر چیک کرتے ہیں تو وہ کم نکلتا ھے
قصائی سے پوچھتے ہیں کہ حالات کیسے چل رھے ھیں..؟

قصائی کہتا ہے کہ بہت برے دن ھیں دل کرتا ہے کہ یہ گوشت کاٹنے والی چھری بدن میں گھسا دوں اور ابدی نیند سو جاؤں

بہلول آگے

دوسرے قصائی کے تول والے پتھر کو چیک کرتے ہیں وہ بھی کم نکلتا ھے
قصائی سے پوچھتے ہیں کہ کیا حالات ہیں گھر کے

وہ کہتا ہے کہ کاش اللہ نے پیدا ھی نہ کیا ھوتا
بہت ذلالت کی زندگی گزار رھا ھوں

بہلول آگے بڑھے.

تیسرے قصائی کے پاس پہنچے تول والا پتھر چیک کیا تو بلکل درست پایا
قصائی سے پوچھا کہ زندگی کیسے گزر رھی ھے.... ؟

قصائی نے کہا کہ اللہ تعالٰی کا لاکھ لاکھ شکر ھے بہت خوش ھوں
اللہ تعالٰی نے بڑا کرم کیا ھے اولاد نیک ھے
زندگی بہت اچھی گزر رھی ھے

بہلول واپس آتے ہیں

سلطان ھارون الرشید پوچھتے ہیں کہ کیا پراگرس ھے..؟

بہلول کہتے ہیں کہ کئی قصائیوں کے تول والے پتھر کم نکلے ھیں

سلطان نے غصے سے کہا کہ پھر انھیں گرفتار کرکے لائے کیوں نہیں

بہلول نے کہا

اللہ تعالٰی انھیں خود سزا دے رھا تھا
ان پر دنیا تنگ کر دی گئی تھی
تو یہاں لانے کی کیا ضرورت تھی

آج ھمارے بھی کچھ یہی حالات ھیں
ھم نے بھی صرف دنیا کو ہی اپنا مقصد بنایا ہوا ہے اسی کی ہی فکر ھے،
ناپ تول میں کمی ، حرام و حلال کی کوئی تمیز نہیں ہے
اور آخرت کی کوئی فکر ھی نہیں ہے .

آج جن جن لوگوں کے حالات خراب ہیں اور ان پہ دنیا تنگ ہو چکی ہے
وہ بھی اپنی روزی کمانے کے ذرائع چیک فرمائیں کہ کہیں ہمیں بھی اللہ کی طرف سے سزا تو نہیں دی جا رہی. . . .
جزاک اللہ خیرا و احسن الجزا
واللہ اعلم باالصواب
#بابوسھندڙو

26/07/2024

*مبارک ثانی قادیانی کیس اور اس کا پس منظر* ۔

برائے خطباء حضرات

*خطباء کرام ضرور مطالعہ فرمائیں* ۔

کتبہ: عتیق الرحمن ،دفتر ختم نبوت ملتان
*نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم امابعد* !

**24جولائی کو جو محفوظ فیصلہ سنایا گیا ہے۔اس کی ابتداء کہاں سے ہوئی پہلے پس منظرملاحظہ فرمائیں* ۔
7مارچ 2019ء چناب نگر میں قادیانی نظارت تعلیم کے اہتمام قادیانی تعلیمی اداروں کی مشترکہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں لڑکوں اور لڑکیوں میں مرزا محمود کی تفسیر صغیر تقسیم کی گئی۔ (یاد رہے کہ یہ وہ تحریف شدہ تفسیر صغیر ہے جس میں صحابہ ومحدثین اور چودہ سو سالہ امت مسلمہ کے مفسرین کی تفسیر کے خلاف تحریف کی گئی ہے۔ بالخصوص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات اور ان کے معجزات کا انکار کیا گیا ہے۔ )
6دسمبر 2022 کو تحریف شدہ تفسیر صغیر کی تقسیم پر تھانہ چناب نگر میں اس تفسیر کے تقسیم کرنے پر مبارک ثانی پر 295b اور295c اور قرآن ایکٹ 2011 ءکےتحت مقدمہ درج کرایا گیا۔(مارچ 2019 تا نومبر 2022 تک کسی ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا)
ایک سال بعد مبارک احمد ثانی قادیانی کو گرفتار کیا گیا۔اس کی گرفتاری پر قادیانیوں نے چناب نگر تھانہ پر حملہ بھی کیا ۔ جس پر کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔
کیس سیشن کورٹ میں گیا ملزم پر فرد جرم عائد ہوئی، ایڈیشنل جج راجہ اجمل نے ستمبر2023 میں ضمانت خارج کردی۔
ضمانت کا کیس ہائی کورٹ لاہور میں گیا نومبر 2023 میں جسٹس فاروق حیدر نے ضمانت خارج کردی۔
ضمانت کا کیس سپریم کورٹ میں گیا، قادیانیوں نے ضمانت کی درخواست دی تو 6فروری 2024 کو ملزم مبارک احمد قادیانی کو ضمانت پر سپریم کورٹ نے بری کردیا۔
ملک بھر میں صدائے احتجاج بلند ہوئی ، جس پر حکومت پنجاب ، اور مذہبی جماعتوں نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی۔ جس پر سپریم کورٹ نے 26 فروری 2024 کو ملک کے اہم اداروں سے رائے طلب کی۔ جن میں سے بعض اداروں کے نام یہ ہیں:
جامعہ دار العلوم کراچی، جامعہ نعیمیہ، اسلامی نظریاتی کونسل، جامعہ سلفیہ، جامعہ امدادیہ، قرآن اکیڈمی، جامعہ محمدیہ بھیرہ، وغیرہ
28مارچ 2024 کو نظر ثانی کیس کی تاریخ تھی جس میں عدالت نے کہا اداروں کی آراء آچکیں ہیں۔ لیکن ہم نے ابھی کو دیکھنا ہے۔ تین ہفتوں بعد دوبارہ سماعت ہوگی؛
دوبارہ 28مئی کو تاریخ سماعت کا اعلان ہوا لیکن سماعت نہ ہوسکی۔
پھر 29 مئی کو سماعت ہوئی۔
سماعت تین رکنی سپریم کورٹ کے بینچ نے کی۔ جس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جناب قاضی فائز عیسیٰ ، اور جناب جسٹس عرفان سعادت خان اور جناب جسٹس نعیم اختر افغان تھے۔
ملک بھر کی مذہبی جماعتوں کے وکلاء اور لیڈران اس سماعت پر موجود تھے۔ وفاق المدارس العربیہ کے سربراہ حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہم نے عدالتی حکم پر نظرثانی کے کیس پر ایک جامع رائے کئی صفحات پر لکھی، دارالعلوم کراچی کے مفتی محمد تقی عثمانی، جامعہ نعیمیہ کراچی کے مولانا مفتی محمد منیب الرحمن، جامعہ سلفیہ فیصل آباد کے حضرت مولانا محمد یٰسین ، جامعہ امدایہ فیصل آباد، قرآن اکیڈمی، ان پانچ اداروں نے متفقہ طور پر مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی رائے پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے دستخط کردئیے۔
اسلامی نظریاتی کونسل اور دوسرے اداروں نے اپنی علیحدہ آراء جمع کرائیں۔
ان تمام اداروں کا اس بات پر اتفاق تھا کہ چیف جسٹس کا قادیانی مبارک احمد ثانی کیس کی ضمانت کا فیصلہ درست نہیں، تصحیح طلب ہے۔ گورنمنٹ پنجاب کے ایڈوکیٹ جنرل، مدعی کے وکلاء اور دیگر تیس کے لگ بھگ ادارے شخصیات جو نظر ثانی میں فریق تھے ۔ سب تحریری طور پر متفق تھے کہ عدالتی فیصلہ درست نہیں۔
جامعہ بھیرہ کے مفتی محمد شیر خان نے عدالت میں اپنی بات کہی جو یہ ہے:
*عوامی مقامات پر قادیانیوں کو تبلیغ وترویج کی اجازت نہیں، ایسا کرنا قانوناً جرم ہے، تومذہب کی تبلیغ وترویج کے بارے عدالتی فیصلہ واپس لینے پر سب مکتبہ فکر کے ادارے اور علماء متفق ہیں۔*
قادیانی پرائیویٹ طور پر اپنی چار دیواری یا عبادت گاہ یا گھر میں بھی اسلامی اصطلاحات یا اسلامی اعمال نہیں کرسکتے۔ جس سے ان کا مسلمان ہونا سمجھاجائے۔ یہ آئین کے خلاف ہے۔ وہ گھر پر اپنے کفر کو اسلام کے نام پر پیش کریں۔ جب پتہ چلے تو قانون ان کے اس خلاف قانون اور خلاف اسلام راستہ کو روکے۔
کیونکہ:::
*مسجد ضرار منافقین کی پرائیویٹ جگہ اور پراپرٹی تھی علیحدہ چار دیواری تھی وہ اپنے کفر ونفاق کو اسلام کے نام پر وہاں علیحدہ چار دیواری میں استعمال کرتے تھے۔ مگر قرآن مجید نے ان کی اس ساری جدوجہد کو بیخ وبن سے ادھیڑ دیا* ۔
*مسیلمہ کذاب کا گروہ اپنے حلقہ میں پرائیویٹ طور پر اپنے ہاں اذان، نماز، ذبیحہ، کلمہ، قرآن کا استعمال کرتا تھا۔ مگر سیدنا صدیق اکبر نے ان کی سازشوں کا قلع قمع کردیا* ۔
*کیا کوئی پرائیویٹ طور پر خفیہ اپنا رزق کمانے کے نام پر ہیروئن رکھ سکتاہے؟؟؟؟*
*کیا کوئی پرائیویٹ خفیہ اپنے گھر میں بدکاری کا اڈہ چلا سکتا ہےـ؟؟؟*
*کیا کوئی خفیہ اپنے گھر میں خلاف قانون اسلحہ اسٹور کرسکتا ہے؟؟؟*
نہیں نہیں!
تو پھر خلاف قانون اسلامی اصطلاحات واسلامی شعائر اپنے گھر میں بھی قادیانی استعمال نہیں کرسکتے۔(جیسے قربانی، اور تفسیر صغیر کا تقسیم کرنا)
جس پر عدالت عالیہ نے فیصلہ محفوظ کرلیا جو اب 24جولائی کو سنایا گیا۔

اب جو فیصلہ آیا ہے جس کو تمام مذہبی وسیاسی جماعتون اور وکلاء تنظیموں، طلباء تنظیموں نے مسترد کردیا ہے اور احتجاج کی کال دی ہے۔
فیصلے میں کچھ بھی نیا نہیں۔ نظر ثانی کیس میں جن بنیادی باتوں پر اعتراضات دائر کئے گئے تھے انہیں مخاطب بنانے اور ان پر بات کرنے کی بجائے ایک مبہم فیصلہ جاری کردیا گیا ہے۔ مثلاً
فیصلہ کی شق نمبر 6 میں ہے۔ کہ مبارک ثانی پرپنجاب قرآن بورڈکی دفعہ 7 لاگونہیں ہوتی۔بلکہ اس کااطلاق ممنوعہ کتاب کے مصنف۔ناشر۔طابع۔یاریکارڈتیارکرنے والے پرلاگوہوتی ہے۔مبارک ثانی ملزم۔نہ۔مصنف نہ طابع وناشر ہے۔
تو سوال یہ ہے کہ تفسیرصغیرکتب کی طابع اورناشرتوجماعت مرزائیہ ہے اس پرکوئی ایکشن لیاگیا؟اس پر اس قانون کا اطلاق ہوگا یا نہیں، اگر ہوگا تو کب؟؟؟؟
شق نمبر7۔۔اس شق میں کہاگیا کہ 298-سی لاگونہیں ہوتاکیونکہ تفسیر صغیرمرزائی ادارہ میں تقسیم کی گئ ہے۔ گویاچیف جسٹس صاحب نے لائنسس دے دیا کہ مرزائی اپنے اداروں میں تحریف شدہ تراجم۔اورکفریہ عبارتوں پرمبنی لٹریچر مرزائی تقسیم کرسکتے ہیں۔اس پر 298سی لاگونہیں ہوگا۔حالانکہ یہ قانون بنا ہی انہیں کی ان حرکتوں کی وجہ تھا۔
شق نمبر41میں طاہرنقاش بنام ریاست کاذکرکیا گیا کہ مرزائیوں کااپنی۔عبادت گاہ میں کلمہ۔طیبہ لکھنا۔توہین۔رسالت نہیںہے۔اس پر 295:سی لاگونہیں ہوگا۔جج صاحبان کومعلوم ہی نہیں کہ قادیانی کلمہ میں محمدسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں بلکہ مرزاملعون کولیتے ہیں۔( *قادیانی رسالہ کلمۃ الفصل کو دیکھا جاسکتا ہے* )
شق نمبر42: اس شق میں کہا گیا""عوامی سطح پرخودکومسلمانوں کے طورپرپیش نہیں کریں گے۔تاہم اپنے گھروں۔عبادت گاہوں ۔اپنے نجی مخصوص اداروں کے اندرانھیں قانون کے تحت مقررکردہ ""معقول قیود"" کے اندر""گھرکی خلوت "" کاحق حاصل ہے۔یعنی اپنی حدود میں اسلامی شعائراستعمال کرسکتے ہیں۔ *(گویا جب گھر میں اسلامی شعائر استعمال کریں گے تو وہ مسلمان ہوں گے۔ اور جب باہر آئیں گے تو غیر مسلم ۔ جو کہ آئین پاکستان کے خلاف ہے۔ اور عقل کے بھی خلاف ہے عقل ایک ہی شخص کو گھر میں مسلمان اور گھر کے باہر غیر مسلم کس قاعدے کے مطابق مانیں؟؟)*
جس ذات اقدس کی عزت وناموس کے تحفظ کے بابت کیس تھا اسی ذات اقدس کے اقوال اور اس پر نازل ہونے والی کتاب سے غلط استدلال کیاگیا۔
اس طرح قادیانیوں کو نوازنے کی کوشش کی گئی ۔ جس کی وجہ سے تمام ملک بھر مذہبی ذہن رکھنے والے لوگ دل گرفتہ ہیں اور جمعہ کے روز احتجاج کی تیاری میں مصروف ہیں۔۔۔

*کتبہ: عتیق الرحمن دفتر ملتان*

*خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان پاکستان*

30/06/2024

اہل تشیع کی معتبر ترین کتاب اصول کافی میں ہے کہ نبی عَلَيْهِ السَّلَام نے اِرشَاد فرمایا :
”اے عَلِی! اپنے بیٹوں کو اپنے شِیعوں سے بَچانا، کِیونکہ تیرے شِیعہ تیری اَولاد کو قَتل کر دیں گے “
بحوالہ شِیعہ کِتاب:(اُصُولِ کافِی:260/8)
سَیَّده زَینَب بِنتِ عَلِىُ الْمُرتَضىٰ رَضِي اَللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنہَا نے فرمايا :
”اے کُوفِیو! اے غَدَّارو! تُم نے نَبِی عَلَيْهِ السَّلَام کے جِگَر کے ٹُکڑے کو قَتل کِیا ہے“
بحوالہ شِیعہ کِتاب:(جَلَاءُ العُیُون:424)
" سيَّدنا حُسَين بِن عَلِىُ الْمُرتَضىٰ رَضِي اَللّٰهُ تَعٰالىٰ عَنهُ کے قَاتِلوں میں کوئی شَامِی یا حِجَازِی نہیں تها بلکہ وه سب کُوفِی تهے"
بحوالہ شِیعہ کِتاب:(خُلاصَةُ المِصَائِب:201)
”کُوفِی سب کے سب شِیعہ تهے“
بحوالہ شِیعہ کِتاب:(مَجَالِسُ الْمُؤمِنِینَ:25)
مُعتَبَر شِيعہ عَالِم مُلّا بَاقِر مَجلِسى لِکهتا ہے:
”لوگ ہمیں غَدَّار اور قَاتِلانِ حُسَین کہتے ہیں. آج میں اِقرار كرتا ہُوں کہ ہاں! شِیعوں نے ہِی اَہلِ بَیت سے غَدَّاری کی اور اُن کو شَہِید کِیا. پَر قَسَم لے لو وه ہم نہیں تهے بلکہ ہمارے آبا و اَجداد تهے، ہم تو اُن کا کَفَّاره اَدا کر رہے ہیں مَاتَم کر کے“
بحوالہ شِیعہ کِتاب:(بِحَارُ الْأَنوَار:34/55)
بحوالہ شِیعہ کُتُب:
(جَلَاءُ العُیُون:246)
(خُلاصَةُ المِصَائِب:405)
(اِحتِجاجِ طَبرسِی:162)

20/11/2023

صحافي سليم چانڊيو گرفتار
جنهن قادياني استاد جي ويڊيو جاري ڪئي هئي
مان کي ﷲ ۽ ان جي رسول جو قسم آهي جيئن صحافي سليم چانڊيو کي ﷲ جي رسول ﷺ جي عزت ۽ ناموس جي خاطر هٿڪڙيون لڳليون آهن ۽ سليم چانڊيو صاحب وڪٽري جو نشان ڏيکاري رهيو آهي قيامت جي ڏينهن به سليم چانڊيو سرخرو ٿي ڪري جنت وڃڻ وقت به ائين ئي وڪٽريون ڏيکاريندو ويندو سلام آهي صحافي سليم چانڊيو صاحب کي

31/10/2023

*صَلَّي اللّٰه عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمْ*

*سیرت النبیﷺ*

*قسط:57*

*حضرت حمزہ ؓ کا قبول اسلام:*
=====================

جب مشرکین اپنی چال میں کامیاب نہ ہوسکے اور مہاجرینِ حبشہ کو واپس لانے کی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی تو آپے سے باہر ہوگئے اور لگتا تھا کہ غیظ وغضب سے پھٹ پڑیں گے.. چنانچہ ان کی درندگی اور بڑھ گئی.. جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اب مکہ میں جو مسلمان بچے کھچے رہ گئے تھے وہ بہت ہی تھوڑے تھے اور پھر صاحب شرف وعزت بھی تھے یا کسی بڑے شخص کی پناہ میں تھے.. اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے بھی تھے اور حتی الامکان سرکشوں اور ظالموں کی نگاہوں سے دور رہتے تھے مگر اس احتیاط اور بچاؤ کے باوجود بھی وہ ظلم وجور اور ایذاء رسانی سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے..

مکہ کی فضا ظلم وجور کے ان سیاہ بادلوں سے گھمبیر تھی کہ اچانک ایک بجلی چمکی اور مقہوروں کا راستہ روشن ہوگیا یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے.. ان کے اسلام لانے کا واقعہ 6 نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے..

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص محبت تھی.. وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو تین سال بڑے تھے اور ساتھ کے کھیلے تھے.. دونوں نے ثویبہ رضی اللہ عنہا کا دودھ پیا تھا اور اس رشتہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دودھ شریک بھائی تھے.. وہ ابھی تک اسلام قبول نہیں کئے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے..

ان کا مذاقِ طبیعت شکار اور سپاہ گری تھا.. ان کا معمول تھا کہ منہ اندھیرے تیر کمان لے کر نکل جاتے اور دن بھر کے شکار کے بعد شام میں واپس ہوتے تو پہلے حرم میں جاتے اور طواف کے بعد قریش کے سرداروں کے پاس جاتے جو صحنِ حرم میں بیٹھا کرتے تھے.. اس طرح سب سے ان کی دوستی تھی اور سب ان کی قدر کرتے تھے..

ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی پہاڑی پر سے گزر رہے تھے کہ ابوجہل کا سامنا ہوا.. وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ازلی دشمن تھا.. اس نے آپ کو تنہا دیکھ کر گالیاں دیں اور سخت بدکلامی کی.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور کچھ بھی نہ کہا لیکن اس کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر ایک پتھر دے مارا جس سے ایسی چوٹ آئی کہ خون بہہ نکلا.. پھر وہ خانہ کعبہ کے پاس قریش کی مجلس میں جا بیٹھا..

دور سے "عبداللہ بن جدعان" کی آزاد کردہ کنیز کوہ صفاء پر واقع اپنے مکان سے یہ سب دیکھ رہی تھی.. جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شکار سے واپس ہوئے تو اس کنیز نے سارا ماجرا سنایا.. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غصے سے بھڑک اٹھے..

یہ قریش کے سب سے طاقتور اور مضبوط جوان تھے.. ماجرا سن کر کہیں ایک لمحہ رکے بغیر دوڑتے ہوئے اور مشتعل ہو کر ابوجہل کی تلاش میں نکلے تو دیکھا کہ وہ مسجد حرام میں بنی مخزوم کے حلقہ میں بیٹھا ہے.. سیدھے وہیں پہنچے اور کہا.. "تو میرے بھتیجے کو گالی دیتا ہے ؟ (تیری اتنی جرآت ؟.. لو) میں بھی اسی کے دین پر ہوں.. (اب مجھے بھی گالی دے کر دکھاو).. اس کے بعد کمان اس کے سر پر اس زور کی ماری کہ اس کے سر پر زخم آگیا..

اس پر ابوجہل کے قبیلے بنو مخزوم اور حضرت حمزہ کے قبیلے بنو ہاشم کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اٹھے لیکن ابوجہل نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کردیا کہ ابوعمارہ کو جانے دو.. میں نے واقعی اس کے بھتیجے کو بہت بری گالی دی تھی..

ابتدا میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا اسلام محض اس حمیت کے طور پر تھا کہ ان کے عزیز کی توہین کیوں کی گئی.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں انھوں نے اسلام کا اظہار تو کردیا لیکن گھر پر آئے تو متردد تھے کہ آبائی دین کو دفعتا" کیوں کر چھوڑ دوں.. تمام دن کی غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دین حق یہی ہے.. اس کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں "دار ِارقم" میں حاضر ہوئے اور کہا.. "برادر زادے ! خوش ہو جاؤ کہ میں نے ابوجہل سے آپ کا بدلہ لے لیا ہے.."

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا.. "چچا ! میں تو اس وقت خوش ہوتا جب آپ دینِ اسلام قبول کر لیتے.."

یہ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھ لیا.. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد قریش نے سمجھ لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قوت کے ساتھ حفاظت و حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستانا چھوڑ دیا..

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ بدر میں عتبہ کو قتل کیا.. 3 ہجری میں غزوۂ اُحد میں شہید ہوئے.. حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدالشہدأ کا خطاب دیا.. اسداللہ ان کا لقب تھا..

دار ِارقم..
_____

کعبہ کے مقابل کوہِ صفا پر واقع حضرت ارقم بن ابی الارقم مخزومی رضی اللہ عنہ کے مکان کو اسلام کے پہلے مرکز کی حیثیت سے شہرت حاصل ہوئی.. یہ مکان سرکشوں کی نگاہوں اور ان کی مجلسوں سے دور کوہ صفا کے دامن میں الگ تھلگ واقع تھا.. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس مقصد کے لیے منتخب فرمایا کہ یہاں مسلمانوں کے ساتھ خفیہ طور پر جمع ہوں.. چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں اطمینان سے بیٹھ کر مسلمانوں پر اللہ کی آیات تلاوت فرماتے , ان کا تزکیہ کرتے اور انھیں کتاب وحکمت سکھاتے.. مسلمان بھی امن وسلامتی کے ساتھ اپنی عبادت اور اپنے دینی اعمال انجام دیتے اور اللہ کی نازل کی ہوئی وحی سیکھتے.. جو آدمی اسلام لانا چاہتا , یہاں آکر خاموشی سے مسلمان ہوجاتا اور ظلم وانتقام پر اترے ہوئے سرکشوں کو اس کی خبر نہ ہوتی.. روزانہ کوئی نہ کوئی شخص آتا اور اسلام قبول کرتا.. اس طرح ایمان لانے والوں کی تعداد بڑھتے بڑھتے 38 ہو گئی..

دار ارقم میں ایمان لانے والے 39 ویں صحابی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے.. یہیں پر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے صرف تین دن بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی آ کر اسلام قبول کیا.. حضرت عمر رضی اللہ عنہ چالیسویں صحابی تھے.. ان کے قبول اسلام کا واقعہ تفصیل کے ساتھ اگلی قسط میں بیان کیا جائے گا..

====>جاری ھے..
سیرت المصطفیٰ: مولانا محمد ادریس کاندہلوی
الرحیق المختوم: مولانا صفی الرحمن مبارکپوری

26/10/2023

*صَلَّي اللّٰه عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمْ*

*سیرت النبیﷺ*
۔۔۔۔ *قسط: 56..*

*حضرت جعفر ؓ کی نجاشی کے سامنے تقریر:*
=============================

دوسرے دن مسلمان حضرت جعفربن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اپنا ترجمان بنا کر نجاشی کے دربار میں حاضر ہوئے.. مسلمان یہ تہیہ کرکے اس کے دربار میں آئے کہ ہم سچ ہی بولیں گے خواہ نتیجہ کچھ بھی ہو.. اندر داخل ہونے سے قبل انھوں نے آواز دی.. "بادشاہ سلامت ! اللہ والوں کا گروہ اندر آنے کی اجازت چاہتا ہے.."

نجاشی نے یہ آواز سن کر دربان سے کہلوایا کہ ان کلمات کو پھر سے دہرائیں.. مسلمانوں نے ان کلمات کو دہرایا تو نجاشی نے جواب میں کہا.. "اللہ کے حکم سے داخل ہوجاؤ کہ تم اس کی ہی حفاظت میں ہو.."

مسلمان "السلام علیکم" کہتے ہوئے دربار میں داخل ہوئے لیکن نجاشی کو سجدہ نہیں کیا تو امراء نے سجدہ نہ کرنے کی وجہ پوچھی.. مسلمانوں نے جوابا" کہا کہ ہم اللہ کے سِوا کسی اور کو سجدہ نہیں کرتے.. اس کے بعد نجاشی نے کفّار قریش سے کچھ سوالات کئے..

عمرو بن العاص نے عرض کیا.. "اے بادشاہ ! ہم اپنے آبا و اجداد کے دین پر تھے.. "انھوں نے اسے چھوڑ کر ایک نیا دین اختیار کیا ہے.."

نجاشی نے حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا.. "یہ کونسا دین ہے جس کی بنیاد پر تم نے اپنی قوم سے علٰیحدگی اختیار کرلی ہے لیکن میرے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہو اور نہ ان ملتوں ہی میں سے کسی کے دین میں داخل ہوئے ہو..؟"

انھوں نے جواب دیا.. "ہم نے اپنے آبا و اجداد کے بُت پرستی کے دین کو چھوڑ کر دین اسلام کو اختیار کر لیا ہے جسے ہمارے رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سکھایا ہے جن پر بذریعہ وحی اللہ کے احکام نازل ہو رہے ہیں.."

یہ سن کر نجاشی نے دربار میں راہبوں , مذہبی پیشواؤں اور علماء کو جمع کرکے ان سے پوچھا.. "کیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور روزِ قیامت کے درمیان کوئی اور نبی آئے گا..؟"

انھوں نے کہا.. "قسم ہے اللہ کی ! ایک رسول ضرور آئے گا جس کی آمد کی بشارت حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دی ہے اور فرمایا کہ جو اس رسول پر ایمان لائے گا وہ مجھ پر ایمان لائے گا اور جو ان کے ساتھ کفر کرے گا وہ مجھ سے کفر کرے گا.."

یہ سن کر نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے پوچھا.. "مجھے بتاؤ کہ وہ کس بات کا حکم دیتا ہے اور کن چیزوں سے منع کرتا ہے..؟"

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے ایک برجستہ تقریر کی جس میں عرب جاہلیت کی حالت اور اسلامی تعلیمات کا بہترین خلاصہ پیش کیا جسے اہلِ بلاغت نے "ابلغ الخطبات" کا نام دیا ہے.. حضرت جعفر نے کہا..

"اے بادشاہ ! ہم لوگ ایک جاہل قوم تھے.. بتوں کو پوجتے تھے , مردار کھاتے تھے , بدکاریاں کرتے تھے , ہمسایوں کو ستاتے تھے , بھائی بھائی پر ظلم کرتا تھا , قوی لوگ کمزوروں کو کھا جاتے تھے..

ہم اسی حال میں تھے کہ اللہ تعالیٰ نے خود ہم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جس کی شرافت اور صدق و دیانت سے ہم لوگ پہلے سے ہی واقف تھے.. اس نے ہم کو اسلام کی دعوت دی اور یہ سکھلایا کہ ہم پتھروں کو پوجنا چھوڑدیں , سچ بولیں , خونریزی سے باز آئیں , یتیموں کا مال نہ کھائیں , ہمسایوں کو چین سے رہنے دیں , عفیف عورتوں پر بدنامی کا داغ نہ لگائیں , نماز پڑھیں , روزے رکھیں , زکوٰۃ دیں , صرف ایک خدا کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں..

ہم اس پر ایمان لائے , شرک اور بت پرستی چھوڑ دی اور تمام بُرے کاموں سے باز آئے.. اس پر ہماری قوم ہماری جان کی دشمن ہوگئی اور ہم کو مجبور کر رہی ہے کہ اُسی گمراہی میں پھر واپس آجائیں.. آخر ہم مجبور ہوکر آپ کے ملک میں نکل آئے.. دوسروں کے بجائے آپ کے پاس آنا پسند کیا اس امید پر کہ اے بادشاہ ! یہاں ہم پر ظلم نہ ہو گا.."

نجاشی نے کہا.. "جو کلام الہٰی تمہارے پیغمبر پر اترا ہے اس کا کچھ حصہ سناؤ.."

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے سورۂ مریم کی چند آیات کی خوش الحانی سے تلاوت کی جسے سن کر نجاشی پر رقت طاری ہوگئی اور آنسوؤں سے اس کی داڑھی تر ہو گئی.. پھر کہا.. "خدا کی قسم ! یہ کلام اور انجیل دونوں ایک ہی چراغ کے پرتو ہیں.."

یہ کہہ کر نجاشی نے سفرائے قریش سے کہا.. "تم واپس چلے جاؤ.. میں ان مظلوموں کو ہرگز ہرگز تمہارے حوالے نہ کروں گا.." مسلمان مہاجروں سے مخاطب ہو کر بولا.. 'جاؤ ! میری مملکت میں امن کے ساتھ زندگی بسر کرو.." پھر تین بار کہا.. "اگر تمہیں کوئی گالی بھی دے گا تو اس پر تاوان لگے گا.."

یہ سنتے ہی قریش کے دونوں سفراء بڑے بے آبرو ہو کر دربار سے نکل گئے لیکن پھر عمرو بن عاص نے عبداللہ بن ربیعہ سے کہا.. "اللہ کی قسم ! کل ان کے متعلق ایسی بات لاؤں گا کہ ان کی ہریالی کی جڑ کاٹ کر رکھ دوں گا.." عبد اللہ بن ربیعہ نے کہا.. "نہیں ! ایسا نہ کرنا.. ان لوگوں نے اگرچہ ہمارے خلاف کیا ہے لیکن ہیں بہرحال ہمارے اپنے ہی کنبے قبیلے کے لوگ.." مگر عَمرو بن عاص اپنی رائے پر اَڑے رہے..

دوسرے دن عمرو بن العاص نے دربار میں رسائی حاصل کی اور نجاشی سے عرض کیا.. "حضور ! کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کیا اعتقاد رکھتے ہیں..؟"

نجاشی نے مسلمانوں کو دربار میں طلب کیا.. تمام راہب اور علماء بھی دربار میں بلائے گئے.. مسلمانوں کو تردد ہوا کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ابن اللہ ہونے سے انکار کرتے ہیں تو نجاشی ناراض ہو جائے گا , اس لئے کہ وہ عیسائی ہے.. مسلمانوں کو گھبراہٹ ہوئی لیکن انہوں نے طے کیا کہ سچ ہی بولیں گے , نتیجہ خواہ کچھ بھی ہو..

نجاشی نے حضرت جعفر رضی اللہ عنہ سے پوچھا.. "عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگوں کا کیا عقیدہ ہے..؟"

حضرت جعفر رضی اللہ عنہ نے کہا.. "ہم عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں وہی بات کہتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لے کر آئے ہیں.. یعنی حضرت عیسیٰ اللہ کے بندے , اس کے رسول , اس کی روح اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے کنواری پاکدامن حضرت مریم علیہا السلام کی طرف القا کیا تھا.."

یہ سن کر نجاشی نے زمین سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا.. "واللہ ! جو تم نے کہا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس تنکے کے برابر بھی اس سے زیادہ نہیں ہیں.."

پادری اور راہب جو دربار میں موجود تھے نہایت برہم ہوئے.. ان کے نتھنوں سے خرخراہٹ کی آواز آنے لگی.. نجاشی نے ان کے غصہ کی کچھ پرواہ نہ کی اور قریش کے سفیر ناکام نکل آئے.. نجاشی نے حکم دیا کہ قریش کے وفد کے تمام تحائف واپس کردئے جائیں اور وہ ملک چھوڑ کر چلے جائیں..

حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا جنہوں نے اس واقعے کو بیان کیا ہے , فرماتی ہیں کہ اس کے بعد ہم لوگ وہاں بہترین ملک میں بہترین پڑوسی کے ساتھ مقیم رہے..

====>جاری ھے.
سیرت المصطفیٰ: مولانا محمد ادریس کاندہلوی
الرحیق المختوم: مولانا صفی الرحمن مبارکپوری

26/10/2023

*صَلَّي اللّٰه عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَسَلَّمْ*

*سیرت النبیﷺ*

*قسط 55*

*دوسری ہجرت حبشہ:*
===============

پہلی ہجرت حبشہ سے واپس ہونے کے بعد مسلمانوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی کی پناہ میں تھا.. اس کے باوجود کفّار قریش نے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا کیونکہ قریش کو ان کے ساتھ نجاشی کے حسن وسلوک کی جو خبر ملی تھی اس پر وہ نہایت چیں بہ جبیں تھے.. یہ حال دیکھ کر اوائل 6 نبوی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کو دوبارہ حبشہ کو ہجرت کرنے کی اجازت دی..

دوسری ہجرت پہلی ہجرت کے بالمقابل اپنے دامن میں زیادہ مشکلات لیے ہوئے تھی کیونکہ اب کی بار قریش پہلے سے ہی چوکنا تھے اور ایسی کسی کوشش کو ناکام بنانے کا تہیہ کیے ہوئے تھے.. کفار مکہ نے مسلمانوں کو ہجرت کرنے سے روکنے کی مقدور بھر کوشش کی لیکن اس کے باوجود بھی 83 مرد اور 18 عورتیں حبشہ پہنچ گئے..

پہلی مرتبہ ہجرت کرنے والے صحابہ میں سے بعض اس دوسرے قافلہ میں بھی شریک ہو گئے.. دوسری بار بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ معہ زوجہ حضرت رقیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُبوسلمہ بن عبدالاسد رضی اللہ عنہ معہ زوجہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا نے ہجرت کی.. ان کے علاوہ عبیداللہ بن جحش رضی اللہ عنہ معہ زوجہ حضرت اُم حبیبہ بنت ابو سفیان رضی اللہ عنہا بھی مہاجرین میں شامل تھے.. حضرت ابو سلمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عبیداللہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یہ دونوں خواتین یعنی حضرت اُم سلمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اُم حبیبہ رضی اللہ عنہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجیت میں داخل ہوئیں..

دیگر مہاجرین میں ابو جہل کے سوتیلے بھائی حضرت عیاش بن ابی ربیعہ رضی اللہ عنہ , رئیس مکہ عتبہ کے صاحبزادے حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ , حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ , حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ , حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ , حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ , حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ , حضرت مقداد بن عمرو رضی اللہ عنہ , حضرت علی کے بڑے بھائی حضرت جعفر بن ابو طالب رضی اللہ عنہ اور حضرت خالد بن حزام ابن خویلد رضی اللہ عنہ (حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بھتیجے) قابل ذکر ہیں.. حضرت خالد بن حزام رضی اللہ عنہ کی وفات حبشہ جاتے ہوئے راستہ میں سانپ کاٹنے سے ہوئی.. حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا تھیں جن کے بطن سے حبشہ میں تین فرزند پیدا ہوئے..

حبشہ جاتے وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت جعفر کو نجاشی کے نام ایک تعارفی خط دیا تھا جسے ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے اپنی تصنیف "رسول اکرم کی سیاسی زندگی" میں طبری , ابن القیم اور قسطلانی کے حوالے سے نقل کیا ہے..

تعارفی خط..

"بسم اللہ الرحمن الرحیم..

محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے نجاشی اصحمہ بادشاہ حبشہ کے نام..

میں اس خدا کی تعریف تمہیں لکھتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں.. جو بادشاہ مقدس , سلامتی والا , امان دہندہ اور سلامت رکھنے والا ہے.. اور میں اقرار کرتا ہوں کہ مریم کے بیٹے عیسیٰ روح اللہ اور کلمتہ اللہ ہیں جن کو پاک اور برائی سے محفوظ مریم بتول کی طرف ڈالا گیا تو وہ خداکی روح اور پھونک سے حاملہ ہوئیں.. جیسا کہ خدا نے حضرت آدم کو اپنے ہاتھ سے پیدا کیا تھا..

میں تجھے خدا وحدہٗ لا شریک کی طرف بلاتا ہوں اور یہ کہ تو میری اتباع کرے اور مجھ پر نازل شدہ چیز پر ایمان لائے کیونکہ میں خدا کا رسول ہوں اور میں تجھے اور تیرے لشکروں کو خدائے عزو جل کی طرف بلاتا ہوں..

میں نے پیام پہنچا دیا اور بہی خواہی کی ہے.. اب تم میری بہی خواہانہ نصیحت کو قبول کرو.. اور میں نے تمہارے پاس اپنے چچا زاد بھائی جعفر کو بھیجا ہے جس کے ہمراہ چند مسلمان بھی ہیں.. جب وہ تیرے پاس آئیں تو ان کی مہمان داری کر اور تکبّر چھوڑ دے..

سلام اُس پر جو ہدایت پر چلے.."

ڈاکٹر حمید اللہ کے مطابق اس تعارفی خط کے واقف کارانہ انداز سے گمان ہوتا ہے کہ شاید نبوت سے قبل بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود حبشہ بہ سلسلہ تجارت تشریف لے گئے ہوں (دیگر مکی تاجروں کے ساتھ).. اس لئے پہلی بار مسلمانوں کے حبشہ ہجرت کرتے وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمانا کہ "حبشہ میں ایک ایسے بادشاہ کی حکومت ہے جس کے ملک میں کسی پر ظلم نہیں ہوتا" واقف کارانہ انداز بتلاتا ہے..

حبشہ کا پایہ تخت اس زمانے میں "اکسوم" تھا.. بعد میں "عدیس ابابا" پایہ تخت بنا.. اس وقت کے نجاشی حکمران کا نام اصمحہ تھا.. یہ فرمانروا اپنے عدل و انصاف کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا..

مہاجرینِ حبشہ کے خلاف قریش کی سازش..
______________________________

حبشہ کی ہجرت کرنے والے دوسرے قافلہ میں ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد شامل تھا اس لئے مکہ کے ہر گھر میں کہرام مچ گیا.. مسلمان حبشہ میں چین سے رہنے لگے.. یہ خبر سن کر قریش مکہ بہت مضطرب ہوئے.. یہ مسئلہ دارالندوہ میں پیش ہوا اور بعد غور و خوض طے کیا گیا کہ ایک سفارت نجاشی کے پاس بھیجی جائے.. چنانچہ عمرو بن العاص (بعد میں فاتح مصر) اور عبداللہ بن ابی ربیعہ ( ابو جہل کا ماں جایا بھائی) کو جو گہری سوجھ بوجھ کے مالک تھے اور ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے , بہت سے تحفے دے کر حبشہ روانہ کیا گیا..

انھوں نے حبشہ جا کر سب سے پہلے نجاشی کے امرأ اور مذہبی پیشواؤں (بطریقوں) سے ملاقات کی اور ان سے نجاشی کے دربار میں اپنے معروضہ کی تائید کرنے کی درخواست کی.. جب بطریقوں نے اس بات سے اتفاق کرلیا کہ وہ نجاشی کو مسلمانوں کے نکال دینے کا مشورہ دیں گے تو یہ دونوں نجاشی کے حضور حاضر ہوئے اور تحفے پیش کرکے اپنا مُدّعا عرض کیا..

"اے بادشاہ ! آپ کے ملک میں ہمارے کچھ ناسمجھ نوجوان بھاگ آئے ہیں.. انہوں نے اپنی قوم کا دین چھوڑ دیا ہے لیکن آپ کے دین میں بھی داخل نہیں ہوئے ہیں بلکہ یہ ایک نیا دین ایجاد کیا ہے جسے نہ ہم جانتے ہیں نہ آپ.. ہمیں آپ کی خدمت میں انہی کی بابت ان کے والدین , چچائوں اور کنبے قبیلے کے عمائدین نے بھیجا ہے.. مقصد یہ ہے کہ آپ انہیں ان کے پاس واپس بھیج دیں کیونکہ وہ لوگ ان پر سب سے اونچی نگاہ رکھتے ہیں اور ان کی خامی اور عتاب کے اسباب کو بہتر طور پر سمجھتے ہیں.."

جب یہ دونوں اپنا مدعا عرض کر چکے تو بطریقوں نے کہا.. "بادشاہ سلامت ! یہ دونوں ٹھیک ہی کہہ رہے ہیں.. آپ ان جوانوں کو ان دونوں کے حوالے کردیں.. یہ دونوں انہیں ان کی قوم اور ان کے ملک میں واپس پہنچادیں گے.."

لیکن نجاشی نے سوچا کہ اس قضیے کو گہرائی سے کھنگالنا اور اس کے تمام پہلوئوں کو سننا ضروری ہے چنانچہ اس نے مسلمانوں کو بلا بھیجا..

====>جاری ھے.
سیرت المصطفیٰ: مولانا محمد ادریس کاندہلوی
الرحیق المختوم: مولانا صفی الرحمن مبارکپوری

Address

Rohri
Sukkur
778

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ختم النبوت- posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share