18/05/2023
پاکستان میں شھد کی مکھیوں کا عالمی دن20 مئی کو منانے کا چھٹا سال آل پاکستان بی کیپرز یکسپوٹر اینڈ ھنی ٹریڈر ایسوسی ایشن ھدایت آباد مین جی ٹی روڈ چمکنی پشاور میں پاک انٹر نیشنل ھنی مارکیٹ میں منانے کا فیصلہ کیا ہے
اس دن کو منانے کا مقصد یہ ہے کہ بی کیپنگ کا شعبہ پاکستان میں انڈسٹری کا درجہ رکھتی ہیں اور ایشیاء کے سطح پر سب سے بڑا مارکیٹ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا پشاور میں واقع ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس کو وہ مقام حاصل نہیں ہے جتنا اس کا حق بنتا ہے
ھنی انڈسٹری کے ساتھ پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ لوگ وابستہ ہیں جو ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور ملکی ایکانمی میں بنیادی کردار ادا کر تھے ہیں
اس انڈسٹری کے تین بنیادی ایکایاں ہیں بی کیپرز ٹریڈرز اور ایکسپورٹرز یہ تینوں ایکایاں اس وقت گوں نا گوں مسائل کا شکار ہیں
1 ملک میں جنگلات کے بے دریغ کٹائی جاری ہے اس کے روکھنی کے لیے اقدامات ھونے چاہئےاور ملکی سطح پر نئے جنگلات میں ایسے درختوں کو شامل کر نا چاہیے جو شھد کے پیداوار کو بڑھا تھے ہیں مثلاً بیرئ پھلائی شیشم کیکر سفیدہ یعنی لاچئ وغیرہ ملک میں ھنی بلین ٹرئ منصوبے کو جاری رکھنے کے لیے اقدامات ھونے چاھئیں ہمارے پاس مرج ڈسٹرکٹ جو اب خیبرپختونخوا کا حصہ ہے اس میں بہت بڑے پہاڑی سلسلے ہیں اس پر ایسے درخت لگانے چاہیے جو شھد دیتے ہیں باجوڑ سے لیکر وزیر ستان تک
2 ھمارے مگس بان اس وقت ملک میں مہنگائ کیوجہ سے انتہائی مشکل حالات سے گزر رہیے ہے اس کے لیے فوری طور پر ریلیف پیکیج ھونا چاھئے ورنہ یہ انڈسٹری ختم ہو کر رھ جاے گی اور پندرہ لاکھ لوگ جو اس انڈسٹری کا حصہ ہیں بے روزگار ھو نے جانے کا خطرہ ہے
3 شھد کے ایکسپورٹ کو بڑھا نے اور ایکسپورٹرز کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے اقدامات ھونے چاھئیں
4۔ نیشنل اور انٹر نیشنل سطح پر پاکستانی شھد کا ایکسپوں کرنا وقت کی اھم ضرورت ھے
منجانب۔ آل پاکستان بی کیپرز یکسپوٹرز اینڈ ھنی ٹریڈرز ایسوسی ایشن ھدایت آباد چمکنی مین جی ٹی روڈ پشاور پاک انٹر نیشنل شھد مارکیٹ
تحریر شیخ گل بادشاہ