Novel world

Call Directions Website

Novel world poetry lovers

23/06/2023
10/06/2023

Ishq_ki_pehli_manzil
Episode 12
Farwa_Mushtaq
عشق_کی_پہلی_منزل
صبح جب اسکی آنکھ کھلی تو عدن موجود نہ تھی۔کسی احساس کے تحت اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو وہ رب کے حضور سر جھکائے کھڑی تھی۔ابھی آسمان سے ستارے مکمل طور پہ غائب نہیں ہوئے تھے۔پو پھٹنے میں کچھ وقت باقی تھا۔
ہر شے سے غافل اور مکمل توجہ کے ساتھ وہ اس وقت رکوع میں تھی۔بے چینی سے بلینکٹ ہٹاتا وہ اٹھ بیٹھا۔سجدے میں جاتے ہوئے کتنا سکون تھا اسکے چہرے پہ۔وہ خاموشی سے اسے دیکھے جا رہا تھا۔شہادت کی انگلی کچھ سیکنڈز کے لیے اٹھ کر دوبارہ جھک گئی۔سلام پھیرنے کے بعد بند آنکھوں کے ساتھ دعا کے لیے اٹھتے ہاتھ دیکھ کر دائم کے اندر گھٹن مزید بڑھ گئی۔وہ سست قدموں سے چلتا اس کے پاس آکر بیٹھ گیا۔اس نے جیسے ہی دعائیہ انداز میں ہاتھ منہ پہ پھیرے دائم نے بغیر کچھ کہے اسکے ہاتھ پکڑ کر واپس دعا کے انداز میں پھیلا دئیے۔
"ابھی نہ اٹھیں۔ابھی میرے لیے کچھ مانگیں اللہ سے۔"
"کیا؟"
"سکون۔۔۔۔۔۔سکون نہیں ہے میرے پاس۔اسے کہیں مجھے سکون دے دے۔دنیا کی ہر آسائش ہوتے ہوئے بھی میں اس نعمت سے محروم ہوں۔مجھے صرف دل کا سکون چاہیے۔"
"آپ نماز نہیں پڑھتے؟"
"پڑھتا ہوں۔"
"پھر مانگا بھی کریں اللہ سے۔ب"
"نہیں اتنی ہمت نہیں میرے اندر کہ میں اب اس سے مانگ سکوں۔۔۔۔۔۔۔۔مجھے شرم آتی ہے اسکے سامنے جاتے ہوئے بھی۔مانگنے کی جرأت نہیں ہے میرے میں۔کیسے مانگوں اس سے اتنے گناہ کیے ہیں میں نے اور گناہ بھی وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ جن کی شاید معافی ہی نہ ہو۔زندگی کے پچیس سال غفلت میں گزارنے کے بعد کیسے ایک دم سے کہہ دوں کہ مجھے معاف کر دے۔میرے بارے میں تو آپ صرف اس چیز سے اندازہ لگا سکتی ہیں کہ میں اس رات اس کوٹھے پہ موجود تھا۔۔۔۔۔۔۔میں تو اس معجزے پہ حیران ہوں آپ میری زندگی میں کیسے آ گئی۔میں نے تو کبھی کوئی نیکی نہیں کی پھر کیوں اللہ نے آپکو مجھے سونپ دیا"۔
وہ دنیا کی خوش قسمت لڑکی تھی جسے اسکا شوہر یہ کہہ کر معتبر کر رہا تھا کہ وہ اسکی زندگی میں کسی نیکی۔کے عوض آئی ہے۔رات کے اس پہر ان دونوں کی آنکھوں میں نمی تھی۔فرق صرف اتنا تھا ایک کی آنکھوں میں تشکر کی جبکہ دوسرے کی آنکھوں میں ندامت کی۔وہ اب بھی سر جھکائے اس کے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہا تھا۔اندر کی توڑ پھوڑ کا اندازہ اس کے چہرے سے ہو رہا تھا۔عدن کے آنسو گالوں پہ پھسل آئے مگر وہ مرد تھا اپنی آنکھوں کی نمی کو واپس اندر اتارنا جانتا تھا۔
قرآن کریم میں اللہ کا ارشاد ہے۔
"اے ابن آدم ایسا کوئی گناہ نہیں جو میں معاف نہ کر سکوں۔"
دائم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔اس کی ساری باتوں کے جواب میں عدن کے صرف ایک جملے نے دل کی دنیا تہہ و بالا کر دی تھی۔
"صراط مستقیم کا مطلب سیدھا راستہ ہے مگر اس پہ چلنا آسان نہیں ہوتا۔قدم قدم پہ مشکلات آتی ہیں۔ہمارا نفس قابو میں نہیں رہتا لیکن ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے۔ گناہوں کو چھوڑ دینے کا تہیہ تو سب ہی کر لیتے ہیں مگر یہ بڑی بات نہیں ہے بڑی بات تو یہ ہے کہ تہیہ کرنے کے بعد اسے پورا بھی کیا جائے۔جو گرہ لگی ہوئی ہے اسے آپ نے خود کھولنا ہے۔اللہ اور بندے کا تعلق ایسا ہے کہ اس میں کوئی تیسرا خلل ڈالنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتا۔
اذان ہو چکی ہے ۔"
وہ ساکت بیٹھا اس کو دیکھ رہا تھا جس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل بہہ رہے تھے۔
وہ وضو کر کے واپس اس جگہ پہ آ کھڑا ہوا۔عدن اسے نیت باندھتے دیکھ کر کمرے سے باہر چلی گئی۔
رات کی اس تاریکی میں وہ سجدے میں جھکا رب کی بڑائی بیان کر رہا تھا۔
نماز کے بعد اس نے دونوں ہاتھ جوڑ کے دعا کے انداز میں پھیلا کر آنکھیں بند کر لیں اس رب کے سامنے جو خود بندے کو پکارتا ہے کہ ہے کوئی مانگنے والا تو میں اسے عطا کروں۔
آنکھیں بند کرتے ہی معافی کا لفظ زبان پہ آنے سے پہلے ہی پچھلی زندگی کسی فلم کی طرح ذہن کی اسکرین پہ چلنے لگی۔
کلبز،بارز،غلط دوستیاں،شیراب کی ٹوٹی ہوئی خالی بوتلیں،نیو ایئر نائٹ پارٹیز،ڈانس فلور پہ تھرکتے کپلز،کلبز کی اوپری منزل کے بند کمرے اور بند دروازوں کے پیچھے ہوتے گناہ۔
اس نے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں۔
کلب میں شاید ہی کوئی ایسا انسان ہو ھو جو دائم طلال کو جانتا نہ ہو۔بارز میں اسے ہمیشہ چیف گیسٹ کی سی حیثیت ملتی۔کتنی ہی لڑکیوں سے اسکی وہاں پہ دوستی تھی۔کتنی بار حرام مشروب اس کے حلق سے نیچے اترا تھا۔
ہاتھ واپس پہلو میں گر گئے۔نہیں اس میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ ان گناہوں کی معافی مانگ سکتا جنہیں سوچتے ہوئے بھی شرم آرہی تھی۔وہ وہاں سے اٹھنا چاہتا تھا مگر کوئی انجانی قوت اسے وہاں سے ہلنے بھی نہیں دے رہی تھی۔
"اے ابن آدم ایسا کوئی گناہ نہیں جو میں معاف نہ کر سکوں"۔
اس آیت نے پھر سے حوصلہ پیدا کیا۔اس،نے ہر خیال ذہن سے جھٹک کر دوبارہ ہاتھ اٹھا لیے۔
"صرف ایک بار۔۔۔۔۔۔صرف ایک بار مجھے معاف کر دے اللہ۔پچیس سال میں نے غفلت میں گزارے ہیں مگر اپنی آئندہ زندگی کو میں اس کی نذر نہیں کر سکتا۔میرے میں سر اٹھانے کی بھی ہمت نہیں ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔ پھر بھی میں گناہوں میں لتھڑے وجود کے ساتھ تجھ سے ہر گناہ کی معافی مانگتا ہوں۔۔۔۔۔میرے دل کے ہر کھوٹ کو ختم کر دے۔۔۔۔میرے آنسوؤں کو اپنے لیے خالص کر لے۔۔۔۔۔تیری رحمت ہمیشہ تیرے غضب پہ حاوی رہی ہے۔۔۔۔۔ہمیشہ کیطرح ایک بار پھر دائم طلال پہ نظر کرم کر۔۔۔۔۔۔میں وعدہ کرتا ہوں میں کبھی اس غلط راہ کیطرف نہیں پلٹوں گا بس مجھے راہ راست سے ہٹنے نہ دینا۔"
گرہ کھل رہی تھی۔دل کی گھٹن نے آنسوؤں کے ذریعے باہر کا راستہ دیکھ لیا تھا۔
رات کی اس پر نور تاریکی میں ایک وعدہ تھا جو اس نے چہار سو پھیلی خاموشی کو گواہ بنا کے اللہ سے کیا تھا۔اب ساری زندگی اسے اس وعدے کو نبھانا تھا۔جس دن سے وہ اس روش سے ہٹا تھا دل کی بے چینی بڑھ گئی تھی۔گناہوں کی لذت بار بار خود تک آنے پہ مجبور کرتی۔مگر اب اس وقت اس کے چہرے پہ پھیلا اطمینان اس بات کا گواہ تھا کہ دل کا زنگ اترنا شروع ہو چکا ہے۔
_________________________________
کچھ دیر بعد عدن اسے ناشتے کے لیے بلانے آئی تو وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بالکل تیار کھڑا خود پہ پرفیوم سپرے کر رہا تھا۔اسے ناشتے کا کہہ کر وہ ٹیبل پہ برتن سیٹ کرنے لگی۔
"میں خود لے لوں گا آپ بیٹھ کر ناشتہ کریں۔اس سب کی عادت نہیں ہے مجھے اگر میں بگڑ گیا تو مسئلہ آپ ہی کو ہو گا آگے جا کے۔"
عدن جو ناشتے کی ایک ایک چیز،اس کے سامنے رکھ رہی تھی اس کے برجستہ کہنے پر جھینپ سی گئی۔
"آپ آج پتہ کروائیں گے نا میرے گھر والوں کے بارے میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں نے ابھی ٹرائی کیا ہے نمبر پھر بند ہی جا رہا ہے۔"
"آپ پریشان مت ہوں۔میں جیسے ہی تھوڑا سا فری ہوا فوراً پتہ کروالوں گا۔۔۔۔۔ہو سکتا ہے انہوں نے نمبر چینج کر لیا ہو۔"
"نہیں تو نمبر کیوں چینج کرنا ہے انہوں نے۔اگر ہوا بھی ہو چینج تو کوئی ایک تو فون اٹھائے۔بابا اور عبداللہ بھائی دونوں ہی کا نہیں مل رہا۔"
اس کے لہجے میں اداسی اتر آئی۔وہ اس،چیز کو ماننے کو تیار ہی نہیں تھی مگر دائم جانتا تھا اس کی گمشدگی کی خبر ملتے ہی نجانے کتنی اور کیسی کیسی فون کالز آئی ہوں گی جو انہیں مجبور ہو کر نمبر ہی بند کرنا پڑا۔مگر یہ بات کہہ کر وہ اسے پریشان نہیں کر سکتا تھا۔
"پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔دو چار دنوں میں ہی پتہ چل جائے گا۔"
"اوکے اب میں چلتا ہوں ٹائم ہونے والا ہے آفس کا۔ٹیک کئیر۔"
وہ رسٹ واچ باندھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
"آپ آج آئیں گے نا؟"
موبائل چیک کرتے ہوئے دائم کے ہاتھ لمحہ بھر کو رکے۔وہ خوشگوار حیرت سے پیازی رنگ کے دوپٹے میں مقید چہرے کو دیکھتے ہوئے بالکل سامنے آ کھڑا ہوا۔
"آپ کریں گی میرا انتظار؟"
اس کے سوال پہ فوراً سٹپٹا گئی
"نن۔۔۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔مم۔۔۔میں نے تو ویسے ہی پوچھ لیا تھا۔"
"یعنی کہ آپ کہنا چاہتی ہیں میں نہ آؤں؟"
"نہیں تو میں نے یہ تو نہیں کہا۔"
"اٹس مین یو ول ویٹ فار می۔"
لہجے میں خودبخود شوخی اتر آئی۔
عدن کو فوراً جلد بازی میں کہے گئے اپنے غلط جملے کا احساس ہوا۔
"اب۔۔۔۔آپکو۔۔۔۔دیر ۔۔۔نہیں ہو رہی آفس سے۔"
وہ اسکی طرف دیکھنے سے بھی گریز کر رہی تھی۔
"آؤں گا میں۔میرے آنے تک تیار رہیئے گا آج ڈنر بار
کریں گے۔"
وہ اسکا چہرہ تھپتھپا کر خدا حافظ کہتا ہوا چلا گیا۔
_____________________________________
ڈیڈی کو پہلے سے ہی اپنے آفس میں بیٹھا دیکھ کر وہ چونکا۔
"لے بھی دائم بیٹا اب حساب کتاب کے لیے تیار ہو جا۔"
وہ گلا کھنکھارتا ہوا اندر داخل ہوا۔
"السلام علیکم ڈیڈی۔خیریت اتنی صبح صبح آگئے آپ۔"
"یہ ٹائم ہے تمہارے آفس آنے کا۔"
طلال اسے دیکھتے ہی غصے میں آ گئے۔
"سوری۔۔ٹریفک میں پھنس گیا تھا۔"
"چلو اب تو ٹریفک میں پھنسے ہوئے تھے مگر رات کہاں پھنس گئے تھے جو گھر آنا بھی یاد نہیں رہا۔"
"ڈیڈی جب آپکو پتہ ہے تو کیوں پوچھ رہے ہیں۔"
"اگر تمہاری یہی روٹین رہی نا تو اس بزنس کا کباڑہ ہو جائے گا۔اگر تم اسے نہیں مینج کر سکتے تو صاف صاف کہہ دو تا کہ میں کسی اور کا بندوبست کر لوں۔کم از کم تمہارے ہاتھوں تباہ تو نہ ہو یہ۔"
"ایک منٹ۔۔۔۔کس نے کہا ہے کہ مجھ سے مینج نہیں ہو رہا۔نیو پراجیکٹس مجھے بلا وجہ نہیں مل گئے۔اپنا آفس ورک کرتا ہوں تو ساتھ ساتھ آپکا بھی کرتا ہوں۔"
"تو کونسا احسان کر رہے ہو تم میرے پہ"۔
"ڈیڈی پرابلم پتہ کیا یے آپ کو اب مجھ پہ پقین نہیں ہے سو اٹس بیٹر کہ آپ کوئی اور بندوبست کر لیں۔میں نے تو صارم کو آفر کی تھی بٹ آپ نے خود منع کیا ہے اسے"۔
"دیکھو یہ سب تم ہی لوگوں کا ہے۔اسے پوری ذمہ داری سے نبھاؤ۔یہ مت سمجھنا میں کبھی تم سے لا علم تھا۔سارہ کی مخالفت کے باوجود میں نے ہر معاملے میں صرف تمہیں پریفر کیا۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے تم میری نرمی سے نا جائز فائدہ اٹھاؤ۔ یہ جو آجکل تم نے نئی مصیبت پال لی ہے نا اس سے جتنی جلدی ہو سکتا ہے جان چھڑوا لو ورنہ مجھے بہت سے طریقے آتے ہیں تمہیں لائن پہ لانے کے۔میں تمہارا باپ ہوں تم میرے باپ بننے کی کوشش مت کرو۔"
طلال ہاتھ میں پکڑی فائل زور سے ٹیبل پہ مارتے ہوئے باہر چلے گئے۔
________________________________
شام کو اس نے آنے سے پہلے عدن کو فون کر کے تیار ہونے کا کہا۔مگر اسکے گھر آنے تک بھی وہ تیار نہیں ہوئی۔
"مجھے باہر نہیں جانا۔ضروری تھوڑی ہے کہ باہر جا کر ہی ڈنر کرنا ہے"۔
اسکے اندر اب بھی خوف موجود تھا کہ جیسے ہی وہ باہر نکلے گی سب کچھ پھر سے دہرایا جائے گا۔
"ضروری ہے بہت ضروری ہے خاص طور پر آپ کے اس ڈر کو ختم کرنے کے لیے"۔
"اور اگر پھر کوئی ہوا تو؟"
"تو میں کس لئے ہوں۔۔صرف پانچ منٹ ہی جلدی سے تیار ہو کر آئیں۔پہلے شاپنگ کریں گے پھر ڈنر۔"
کچھ دیر بعد وہ اچھے سے چادر اوڑھ کر باہر آئی۔پریشانی اب بھی چہرے سے عیاں تھی۔
دائم اس سے جو بھی بات کرتا وہ آگے سے صرف ہوں ہاں میں جواب دے پاتی۔
شاپنگ مال کے باہر اترنے سے پہلے اس نے اچھی طرح ارد گرد دیکھا پھر مضبوطی سے چادر تھامے باہر نکل آئی۔
"اور کب تک کرنا ہے ایسا؟"
وہ سینے پہ ہاتھ باندھے اس کے مقابل آ کھڑا ہوا۔
"کیا ؟" عدن نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔
"آپ تو ایسے ری ایکٹ کر رہی ہیں جیسے میں آپکو اغوا کر کے لایا ہوں۔کم آن یار۔میں آپکے ساتھ ہوں۔بی بریو۔کچھ نہیں ہو گا۔اگر آپ اسی طرح کرتی رہیں تو کیسے موو کریں گی دنیا میں۔یہاں پہ کوئی اتنا فارغ نہیں ہے کہ ہم پہ چیک رکھتا پھرے۔جب میں آپکے ساتھ ہوں تو کسی سے ڈرنے یا گھبرائے کی ضرورت نہیں ہے۔اوکے۔چلیں آئیں پہلے شاپنگ کرتے ہیں پھر ڈنر کریں گے۔"
وہ اسکا ہاتھ تھامتا ہوا اندر کی جانب پڑھا۔شاپنگ کرتے ہوئے بھی وہ جس چیز میں بھی اس کی چوائس پوچھتا عدن صرف سر ہلانے پہ اکتفا کرتی۔
"یہ ساری چیزیں میں نے یوز نہیں کرنی۔نہ ہی یہ ساڑھی میں نے باندھنی ہے۔اس لیے جو لینا ہے وہ خود لیں اب میں بالکل نہیں بولوں گا۔"
دائم کے کہنے پہ ساڑھی کو دیکھتے ہوئے بے ساختہ مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آئی۔بالآخر اس کی بجائے وہ خود چیزیں پسند کرنے لگی۔
اس کو مسکراتے دیکھ کر دائم نے سکون کا سانس لیا۔وہ اسی لیے اسے بھیڑ والی جگہ پہ لایا تھا تا کہ نئے چہرے دیکھ کر اس میں موجود وہ ڈر اور خوف کسی طرح ختم ہو جائے جو کل رات اس کے چہرے پہ تھا۔
جب دو گھنٹے بعد وہ شاپنگ سے فارغ ہوئے تو اپنے پیچھے دائم کے نام کی پکار پڑتے ہی ان دونوں نے بے ساختہ پیچھے مڑ کر دیکھا مگر عدن کو دیکھتے ہی سامنے آتا وجود ٹھٹک کر اپنی جگہ پہ رک گیا۔
"ہائے اسد۔۔۔ہاؤ آر یو۔۔۔"
"آئی ایم فائن۔۔۔۔تم۔کیسے ہو۔"
اسکی نظریں اب بھی عدن پہ تھیں جس نے چادر کا پلو چہرے پر مزید آگے کر لیا۔
"یہ؟؟"
اس،نے جانتے ہوئے بھی عدن کا تعارف ضروری سمجھا مگر دائم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ سن کر وہ ساکت ہو گیا۔
"شی از مائی وائف۔۔اینڈ عدن یہ سیاست میں ڈیڈی کے روایتی حریف کا بیٹا ہے اسد لغاری۔اور میرا فیلو بھی۔"
"کیا ؟ تمہاری ۔۔۔۔۔۔۔تمہاری وائف۔۔۔۔۔۔ تم نے شادی کروالی اور بتایا بھی نہیں۔"
"کیوں تم میرے کیا لگتے تھے جو میں سپیشل تمہیں انوائٹ کرتا اور بتاتا کہ میری شادی ہو رہی ہے۔"
وہ اسد کی فطرت سے اچھی طرح واقف تھا اس لیے لہجے میمیں خود بخود تلخی اتر آئی۔
"چلو دوست نہ سہی دشمن ہی سہی ایک بار منہ میٹھا کروانے کا حق تو بنتا تھا نا۔"
اسکی نظریں اب بھی چادر لپیٹے اس لڑکی یہ تھیں جسے وہ پہلی نظر میں ہی پہچان گیا تھا۔
"اچھا یار تم نے تو نہیں کروایا۔میں خود ہی مٹھائی لے کر انکل کو مبارکباد دینے آجاؤں گا۔"
"میرے خیال میں تم مبارکباد کی بجائے اپنے ڈیڈی کے ساتھ الیکشن پہ توجہ دو تو ذیادہ بہتر ہے۔اوکے بائے۔"
وہ اسے وہیں چھوڑ کر عدن کے ساتھ باتیں کرتا مال سے باہر نکل گیا یہ جانے بغیر کہ کوٹھے پہ اس رات تماشائیوں کی قطار میں اسد لغاری بھی موجود تھا۔
Follow Me

10/06/2023

Ishq_ki_pehli_manzil
Episode 11
By Farwa_Mushtaq
عشق_کی_پہلی_منزل
خوف کی پرچھائیاں اسکے چہرے پہ واضح ہو چکی تھیں۔
"یہ مت سمجھیے گا میں آپ پر شک کر رہا ہوں یا مجھے یقین نہیں ہے۔ہرگز بھی نہیں۔خود سے زیادہ اعتبار ہے مجھے آپ پر۔میں صرف اتنا چاہتا ہوں کہ مجھ سے وہ تکلیف شیئر کریں جو آپ کو اس رشتے کی حقیقت کو مکمل طور پہ تسلیم نہیں کرنے دے رہی"۔
وہ تکلیف یاد آنے پہ اسکی آنکھوں میں آنسو آ گئے کیا بتاتی وہ اسکو۔کیوں پہنچ گئی وہاں پہ۔خود کو ساری زندگی سینت سینت کر رکھنے کے باوجود کیسے اس اندھے کنویں میں پہنچ گئی۔وہ تو اللہ کا فضل تھا جو وہ بخیر و عافیت وہاں سے نکل آئی ورنہ اسوقت وہ کہاں ہوتی۔
"پلیز بتائیں مجھے کیا ہوا تھا"۔
دائم نے اسکے دونوں ہاتھ تھام کر اسکا رخ اپنی طرف موڑا۔اسکے کہنے پہ وہ آہستہ آہستہ اسے خود پہ بیتی داستان سنانے لگی۔
__________________________________
انتقام کی آگ میں جہانگیر اندھا ہو گیا تھا۔نواب عالم کو تو وہ دھمکی دے آیا تھا لیکن اب کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔سارا سارا دن وہ نواب عالم کو منہ کے بل گرانے کے طریقے ہی سوچتا رہتا۔دوسری طرف نواب عالم بھی اسکی دی گئی دھمکیوں سے پریشان ہو گئے تھے لیکن جب ایک دو ماہ تک جہانگیر کی جانب سے کوئی رد عمل نہ آیا تو وہ بھی مطمئن ہو گئے۔
اس رات بھی جہانگیر مہہ جبین بائی کے کوٹھے پہ نشے میں دھت بیٹھا سامنے جھومتی رقاصہ کو دیکھ رہا تھا کہ یکایک اس کو اس رقاصہ میں عدن دکھائی دینے لگی۔وہ تو آجکل ویسے بھی حواسوں پہ سوار تھی۔ہر دوسری لڑکی پہ اسے عدن کا،ہی گمان ہوتا۔نواب عالم سے نفرت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا تھا۔سب کچھ یاد آتے ہی دوبارہ انتقام کی آگ بھڑ بھڑ جلنے لگی کہ ایک خیال کوندے کی طرح ذہن میں لپکا۔اس خیال نے ہی اسکے انگ انگ میں توانائی بھر دی۔سارا نشہ ہرن ہو گیا۔اب اسے بے چینی سے صبح کا انتظار تھا۔
اگلی صبح سے ہی اس نے عدن کی وین کا پیچھا کرنا شروع کیا۔صبح اور شام برابر وہ اس کالج وین کا پیچھا کیا کرتا۔وہ جب بھی اسے صبح کو گھر سے نکلتے دیکھتا ایک شیطانی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ آجاتی۔لیکن دو ماہ کی مسلسل خواری کے بعد بھی کچھ ہاتھ نہ آیا کیونکہ عدن اماں کی ہدایت کے مطابق سیدھا گھر سے کالج اور کالج سے واپس گھر آیا کرتی۔مسلسل پیچھا کرنے سے اسکو تب اپنی غلطی کا احساس ہوا جب اکثر لڑکیاں بار بار مڑ کر پیچھے آنے والی کار کو دیکھتیں۔ایک دو بار وین کے ڈرائیور نے اس سے کچھ پوچھ گچھ کی تو مٹھی میں دبے چند نوٹ دیکھتے ہی اسکی بولتی بند ہو گئی۔
پھر بھی وہ زیادہ دیر تک یہ کھیل نہیں کھیل سکتا تھا۔پھر اچانک عدن نے کچھ روز کالج جانا چھوڑ دیا تب اسکی پریشانی اور بڑھ گئی اگر وہ اب واپس کالج ہی نہ جاتی تو اسکا سارا پلان چوپٹ ہو جاتا۔مہہ جبین سے پہلے ہی وہ اسکے متعلق بات کر چکا تھا اور نیا شکار لانے کی خوشی میں اس نے جہانگیر عالم کی "خدمات" میں اضافہ کر دیا۔
بالآخر ایک ہفتے بعد عدن نے دوبارہ کالج جانا شروع کیا۔اس کا پریشانی سے بار بار پیچھے مڑ کر دیکھنا اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اسکے "اپنے" پیچھے آنے سے واقف ہو چکی ہے۔اسی دن اس نے کالج سے نکل کر اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کی۔جہانگیر گاڑی کی سروس کے لیے پاس ہی موٹر گیراج میں موجود تھا۔جب سامنے سے آتی تیز تیز چلتی لڑکیوں کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔عدن کو تو وہ اب دور سے ہی پہچان لیا کرتا تھا اور اب تو وہ بالکل سامنے سے ہی گزر رہی تھی۔یہی موقع تھا اپنے پلان پہ عمل کرنے کا۔نواب عالم کی ساری اکڑ اور طنطنہ کو پل بھر میں ختم کرنے کا۔اس نے فوراً سے گاڑی نکالی اور کچھ فاصلہ رکھ کر اسکا پیچھا کرنا شروع کیا۔تھوڑی دور جا کر ہی جب ان دونوں لڑکیوں نے باری باری پیچھے مڑ دیکھا تو اس نے فوراً کار ایک سائڈ پہ روک دی۔کوئی پتہ نہیں تھا وہ یہیں پر شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کر لیتیں۔تب اس نے پیدل ہی مارکیٹ تک ان کا پیچھا کیا۔انہیں مارکیٹ میں پہنچ کر گارمنٹس کی دکان می داخل ہوتے دیکھ کر اس نے مہہ جبین کا نمبر ملایا۔وہ فون سنتے ہی اڑتی ہوئی چلی آئی۔مہہ جبین کو ان دونوں کی نگرانی پہ مامور کر کے خود گاڑی لینے چلا گیا۔واپسی پر اس نے عدن کو غصے سے ہاتھ مارتے دوسری لڑکی پر برستے دیکھا۔تب ہی وہ اسکو سڑک پہ چھوڑ کر بھاگتی ہوئی واپس اسی دکان میں چلی گئی۔
صرف یہی پل تھا اسکے پاس اپنے انتقام کی آگ بھجانے کا۔وہ اس گولڈن چانس کو کسی صورت مس نہیں کر سکتا تھا ورنہ اتنے مہینوں کی محنت خاک میں مل جاتی۔اس نے وہیں سے عدن کو گھسیٹ کر کار میں ڈالا۔مہہ جبین نے فوراً اس کی ناک پہ کلوروفام میں بھیگا رومال رکھ دیا۔کچھ سیکنڈز میں ہی وہ ہوش و ہواس سے بیگانہ ہو گئی۔
"کتنی قیمت لو گے"؟
مہہ جبین نے سودا کرنا شروع کیا۔
"تحفے کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔یہ تمہیں تحفہ دیا جہانگیر عالم نے"۔
"مذاق کر رہے ہو میرے ساتھ"۔؟
"ہماری جرأت ایسے گھٹیا مذاق کی۔جب تم نے ہماری خدمت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تو ہمارا بھی فرض بنتا ہے تم جیسوں کا خیال رکھنا"۔
"پھر سے سوچ لو ایک بار۔یہ نہ ہو کل تک تمہارا ارادہ بدل جائے"۔
وہ گھاگ عورت تھی۔بار بار عدن کے چہرے پہ جہانگیر کی بھٹکی ہوئی نظریں اچھےسےمحسوس کر رہی تھی۔
"ارادہ تو میرا ابھی سے بدل رہا ہے مگر جہانگیر عالم زبان دے چکا ہے۔ہاں بس اتنا خیال رکھنا بہت نازک مزاج ہے یہ"۔
اس کی گاڑی اس جگہ کی طرف مڑ گئی تھی جہاں انسانوں کی خرید و فروخت عام تھی۔اسے علم تھا اگر وہ عدن کے بدلے دس لاکھ بھی مانگتا تو مہہ جبین کبھی انکار نہ کرتی لیکن وہ یہاں اسکی قیمت لگانے کے لئے نہیں بلکہ اس کے باپ کی انا اور اکڑ کو ختم کرنے آیا تھا تا کہ وہ نواب عالم کو بتا سکے کہ اسکی بیٹی اتنی ارزاں ہے کہ ایک پائی بھی اسکے بدلے میں جہانگیر نے وصول نہیں کی۔
ریڈ لائٹ ایریا میں گاڑی روکتے وقت اس نے دوبارہ عدن کو دیکھا۔
"چچ۔۔۔۔۔۔۔چچ۔۔۔۔۔۔نواب عالم تم تو جانتے بھی نہیں ہو گے تمہاری نازوں پلی بیٹی اس وقت کہاں موجود ہے"۔
یہ وہ جگہ تھی جہاں پہ صرف پانچ پرسنٹ لڑکیاں اپنی مرضی سے آتی ہیں۔بھوک اور غربت کی وجہ سے مجبوراً انہیں اس جگہ کا انتخاب کرنا پڑتا۔
باقی نوے فیصد لڑکیاں دھوکے،فریب اور محبت کے ہاتھوں رسوا ہو کر ہاتھوں ہاتھ بکتی یہاں تک پہنچ جاتی تھیں۔یہاں پہ نو عمر کی بچیوں سے لیکر پکی عمر تک کی عورتیں موجود تھیں۔ہر کسی کی اپنی کہانی تھی۔
اور ان پچانوے فیصد لڑکیوں میں سارے کا سارا قصور ان کا اپنا ہی ہوتا تھا۔آخر کیوں وہ نا محرموں سے وہ تعلق استوار کر لیتی ہیں جس کی ہمارے مذہب میں سختی سے ممانعت ہے۔مغرب کی اندھا دھند تقلید نے مشرقی روایات کی ساری شرم و حیا اور پاسداری کو ختم کر دیا ہے۔ایک لڑکی رات گئے تک نا محرم مردوں سے بات کرتی ہے۔آہستہ آہستہ وہ مرد اس کو اپنی باتوں سے ٹریپ کرنا شروع کر دیتا ہے۔پھر ایک اندھی محبت ان دونوں میں شروع ہو جاتی ہے۔دن رات ،اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے ایک مسکراہٹ سی چہرے پہ رہتی ہے کہ کیا واقعی وہ کسی کے لیے اتنی اہمیت رکھتی ہے۔پھر آہستہ آہستہ دماغ پر قفل لگنا شروع ہو جاتے ہیں۔اس سارے میں کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ ہمارا ضمیر ہمیں نہ جھنجھوڑے۔وہ تو ہمیشہ غلط اور صحیح کے فرق میں لگا رہتا ہے لیکن کچی عمر کے ذہن اس ضمیر کی آواز کو سننا گوارا نہیں کرتے پھر ایک وقت آتا یے جب دلوں پہ مہر لگ جاتی ہے۔انسان اور حیوان میں اس وقت کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔صحیح اور غلط کا فرق ختم ہو جاتا ہے۔رات
گئے تک ماں باپ کا اعتبار روندتے دو نامحرم ایک دوسرے کے بنا مر جانے کی قسمیں کھا رہے ہوتے ہیں۔آخر کار بیوقوف لڑکیاں کسی نا محرم کی بیس بائیس دن کی محبت کے لیے ماں باپ کا بیس بائیس سالہ پیار بھول کر رات گئے بابل کے گھر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں۔گھر کی چار دیواری کو پار کر کے کسی بند کمرے میں انکی چیپ محبت آخری ہچکی لے لیتی ہے۔اور اس نام نہاد محبت کے تحفوں سے ایدھی سنٹر اور یتیم خانے بھرتے جا رہے ہیں۔
"ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں بیس لاکھ بچوں کے والدین کے خانے میں بلقیس ایدھی اور عبدالستار ایدھی کا نام لکھا ہوا ہے"۔
بہت سے کیسز میں وہ مرد اس عورت کو وہیں پر چھوڑ دیتا ہے اور بعض اوقات کمینگی کی انتہا دکھاتے ہوئے اس کو ان جگہوں پہ بیچ دیتا ہے جہاں مہہ جبین جیسی عورتیں ان لڑکیوں کو معاشرے کے بھیڑیوں کے لیے تر نوالہ بنا دیتی ہیں۔یہی لڑکیاں بالآخر ان کوٹھوں کی زینت بن جاتی ہیں جہاں سے نکلنے کا پھر کوئی راستہ نہیں بچتا۔اگر خوش قسمتی سے وہ اس دلدل سے نکل بھی جائیں تو ہمارا معاشرہ کبھی انہیں وہ عزت اور مرتبہ نہیں دیتا سو مجبوراً انہیں اپنی باقی ماندہ زندگی بد دعاؤں کے زیر اثر اس غلاظت میں ہی گزارنی پڑتی ہے۔پھر ہمیشہ کی طرح یہ سارا کیا دھرا قسمت کے ماتھے پہ مل دیا جاتا ہے لیکن قسمت تو انسان کے اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔بھلا ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنیوالا کیسے کسی کا نصیب برا لکھ سکتا ہے اگر یہ بات وہاں آنے والی پچانوے فیصد لڑکیوں کو سمجھ آجائے تو شاید مہہ جبین جیسی عورتوں کا دانہ پانی اس دنیا سے ہمیشہ کے لیے اٹھ جائے۔
باقی بچنے والی پانچ فیصد لڑکیاں وہ تھیں جو باقاعدہ پلاننگ سے اغوا کر کے اس جگہ پہ لائی جاتیں تھیں۔انہی لڑکیوں کو بولی کے لیے پیش کیا جاتا تھا۔اس دن مہہ جبین ہر بھاری سے بھاری آسامی کو اپنے ہاں آنے کی دعوت دیتی۔ یہ لڑکیاں اس کے لیے سنہری سکوں کی مانند تھیں جو زیادہ قیمت دے دیتا وہ اسکے حوالے کر دی جاتیں۔ان کی خوبصورتیوں کو کیش کروانا وہ اچھے سے جانتی تھی۔
عدن نواب عالم آخری پانچ پرسنٹ لڑکیوں میں سے ایک تھی۔
__________________________________
پچھلے ایک ماہ کی اذیت اس کو سناتے ہوئے عدن کی آنکھوں سے آنسو اک تواتر سے گر رہے تھے۔وہ بغیر پلکیں جھپکائے اس پہ بیتی داستان کا ایک ایک لفظ سن رہا تھا۔
"اگر وہ اس دن وہاں نہ پہنچتا تو کہاں ہوتی یہ لڑکی"۔
یہ سوچتے ہی اسکے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔
"آخر کیوں اس نے مجھے اتنی بڑی سزا دی۔بے قصور ہوتے ہوئے بھی میں ہر کسی کی نظروں میں معتوب ہوں۔کس کس کو گواہی دوں گی میں اپنے کردار کی۔اس نے ایک بار بھی نہیں سوچا کیا ہو گا میرے ماں باپ کا۔اس سب سے تو بہتر تھا کہ مجھے موت آجاتی کم سے کم میں اپنے والدین کے لیے اتنی اذیت کا سبب تو نہ بنتی"۔
اس کی آواز میں گھلا درد دل کو چیر دینے والا تھا۔
دائم نے بے اختیار بازو اسکے گرد پھیلا کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔وہ اسکے کندھے پہ سر رکھے ہچکیوں سے روئے جا رہی تھی۔
سارے زخموں سے کھرنڈ اتر گیا تھا۔
اسکی باتیں سن کر وہ کافی دیر کچھ کہنے کے قابل نہیں رہا۔بعض اوقات دوسرے کا درد سن کر تسلی دینے کے لئے کوئی الفاظ نہیں ہوتے تب صرف ہمارا عمل ہی ہوتا ہے جس سے ہم دوسروں کی اذیت میں کمی کر سکتے ہیں۔
اسکے پاس بھی تسلی کے لیے الفاظ نہیں رہے تھے۔وہ اسے ساتھ لگائے نرمی سے اسکا سر تھپک رہا تھا۔
"آپ کہتے ہیں نا۔۔۔۔میں باہر نکلا کروں۔۔۔۔۔۔نہیں میں کبھی باہر نہیں نکل سکتی۔اصل روپ دیکھ چکی ہوں دنیا کا۔مجھے پتہ ہے۔۔۔۔۔۔۔ اگر میں دوبارہ باہر گئی پھر سے کوئی نہ کوئی شکاری جال پھیلائے بیٹھا ہو گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں ایک بار اس دوزخ سے نکل آئی ہوں۔۔۔۔اب دوبارہ کچھ سہنے کی ہمت نہیں ہے مجھ میں"۔
"میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ اس ازیت کو بھلا دیں یہ کوئی معمولی تکلیف نہیں ہے جسے منٹوں میں بھلایا جا سکے۔پھر بھی میں آپکو یقین دلاتا ہوں میرا ساتھ آپکو ہر دکھ بھولنے پر مجبور کر دیگا۔اب آپ دائم طلال کی بیوی ہیں کسی کی جرأت نہیں ہے کوئی آپکو غلط نگاہ سے دیکھ بھی سکے۔آپکی حفاظت کرنا اب میری ذمہ داری ہے"۔
اسکے مضبوط لہجے پہ عدن کے آنسو پلکوں پہ ہی ٹھٹھر گئے۔
"میں اتنی عنایات کے قابل نہیں ہوں۔۔۔۔میں ایک بکی ہوئی زات ہوں"۔
اسکی بات پہ دائم نے کرب سے آنکھیں بند کر لیں۔
"کیوں دیے آپ نے پچاس لاکھ میرے بدلے میں۔مجھے آج تک سمجھ نہیں آ سکا۔میرے بارے میں جانے بغیر کیوں نکاح کر لیا مجھ سے۔۔۔۔۔۔۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ آپ مجھے اس جگہ سے لائے ہیں جہاں شریف لوگ منہ بھی کرنا پسند نہیں کرتے۔یہ معاشرہ مجھے کبھی وہ مقام اور مرتبہ نہیں دے گا ۔۔۔۔۔۔پھر کیوں کیا آپ نے یہ سب"؟
"پچاس لاکھ مجھے آپ سے زیادہ عزیز نہیں تھے۔میں خود نہیں جانتا کیوں کیا میں نے یہ سب۔کیوں مجھ سے آپکی تکلیف برداشت نہیں ہوئی۔وہ سب ایک بے اختیاری کی کیفیت تھی۔ہمارا ملنا اسی طرح طے تھا۔اور مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ لوگ کیا کہیں گے کیونکہ میں اس حقیقت کو تسلیم کر چکا ہوں کہ آپ عدن دائم ہیں۔۔۔۔۔۔۔دائم طلال کی بیوی۔۔۔۔۔۔آپکا حوالہ اب میں ہوں۔معاشرے میں آپکو ایک مقام دلانا اب میرا کام ہے۔مجھے آپ پر اور آپکی پارسائی پر پورا یقین ہے ۔اس حقیقت کے علاوہ کوئی کچھ بھی کہے وہ سب میرے لیے بے معنی ہے۔
وہ کہہ رہا تھا وہ نہیں جانتا اس نے یہ سب کیوں کیامگر عدن جانتی تھی یہ اسکی دعائیں ہی تھیں جن کی بدولت اللہ نے اسکے دل میں رحم ڈالا تھا۔یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ وہ ساری رات گڑگڑا کر اللہ سے کچھ مانگتی اور وہ اسے بے آسرا چھوڑ دیتا۔
"وعدہ کریں میرے سے آئندہ آپ اپنے لیے ایسا کوئی لفظ استعمال نہیں کریں گی جو آپکے ساتھ ساتھ مجھے بھی تکلیف دے"۔
وہ دھندلائی آنکھوں سے اپنے سامنے پھیلے اسکے ہاتھ کو دیکھ رہی تھی۔وہ کبھی بھی اس شخص کے ہاتھوں کو نہیں جھٹک نہیں سکتی تھی جس نے بھرے مجمعے میں اس کے سر پہ چادر ڈالی تھی۔جو وحشیوں کے چنگل سے اسے با حفاظت نکال کر لایا تھا۔
اس نے آہستگی سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پہ رکھ دیا۔
دائم نے اسکی پلکوں پہ ٹھہرے آنسو صاف کئے۔
"اپنے پیرنٹس کا ایڈریس دینا مجھے۔میں وہاں کی صورتحال پتہ کروا لوں گا"۔
"آپ۔۔۔۔آپ وہاں جائیں گے۔۔۔۔میں۔۔۔۔میں بھی آپکے ساتھ چلوں گی۔۔۔۔مجھے لے کر جائیں گے نا آپ"۔
"پہلے مجھے وہاں کی صورتحال پتہ کروانے دیں۔۔۔۔اسکے بعد اگر پوسیبل ہوا تو ضرور"۔۔۔۔
اسکی بات پہ عدن نے سر ہلایا۔
"چلیں اب آرام سے سو جائیں۔رات بہت ہو گئی ہے۔صبح مجھے آفس بھی جانا ہے ورنہ پھر سے ڈیڈی کی ڈانٹ سننی پڑے گی"۔
"آپ کر لیں اپنا کام۔۔۔۔۔۔۔۔ میں یہیں پر ٹھیک ہوں"۔
اسکی بات وہ ہلکے سے مسکرایا۔
"اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔اپنی جگہ پہ جا کے لیٹیں میں وہاں بیٹھ کر بھی اپنا ورک سکون سے کر سکتا ہوں"۔
وہ اس کے سر پہ ہلکی سی چپت لگاتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
کچھ دیر بعد ہی وہ پر سکون سی ہو کر سو گئی۔اغوا ہونے کے بعد سے لیکر اب تک پہلی بار اسکے چہرے پہ اس قدر اطمینان تھا۔وہ اپنے سارے دکھ درد اس شخص کے ساتھ بانٹنے کے بعد پر سکون ہو گئی تھی جو اب اللہ کے علاوہ اس دنیا میں اسکا واحد سہارا تھا۔دائم نے ایک نظر اسکے مطمئن سے چہرے پہ ڈالی۔ وہ اس شخص کو جان سے مار دینا چاہتا تھا جس کی بدولت وہ معصوم سی لڑکی اتنی اذیتوں سے گزری تھی۔
معاشرے کے ان چند ناسوروں کی وجہ سے کب تک حوا کی بیٹیاں ذلیل ہوتی رہیں گی۔صرف ان لوگوں کی وجہ سے کتنی ہی بیٹیاں باپ کی چوکھٹ پہ ہی ساری عمر گزار دیتی ہیں۔آخر کب تک بنت حوا انسانیت سوز ظلم سہتی رہے گی۔
اس نے شہادت کی انگلی سے اسکے ماتھے پہ آئے بالوں کو پیچھے کیا۔پھر گہری سانس بھر کے بمشکل ہر چیز ذہن سے جھٹک کر ساری توجہ لیپ ٹاپ پہ مبذول کر لی۔
Follow Me

10/06/2023

Ishq_ki_pehli_manzil
Episode 10
By Farwa_Mushtaq
عشق_کی_پہلی_منزل
اگلی صبح وہ معمول کے مطابق آفس کے لیے تیار ہو کر نیچے آیا۔
"گڈ مارننگ ایوری ون"۔
ڈیڈی کے علاوہ سب نے ہی اسے جواب دیا۔وہ سنجیدگی سے اپنے سامنے آج کا پیپر پھیلائے اس پہ کچھ پوائنٹس مارک کر رہے تھے۔
وہ ان کے بالکل سامنے آکر بیٹھ گیا۔
"کیا کر رہے آپ ڈیڈی"؟
"نظر نہیں آ رہا تمہیں"۔
"آئی مین میں ہیلپ کر دیتا ہوں اگر آپ کوئی مارکیٹنگ پوائنٹس چیک کر رہے ہیں تو"۔
"تم جو آج کل کر رہے ہو وہی کرو اتنا ہی بہت ہے۔مجھے نہیں چاہیے تمہاری ہیلپ"۔
ان کے دو ٹوک انداز پہ وہ چپ سا کر گیا۔وہ ہمیشہ سے ہی طلال سے بہت اٹیچڈ تھا۔وہ بھی اس کی ہر غلطی کو ہنس کر ٹال جاتے تھے مگر جو اب اس نے کیا اس چیز نے واقعی انہیں دکھ دیا تھا۔سو اب طلال کی یہ بے رخی اس سے بھی برداشت نہیں ہو رہی تھی۔
"صارم!ڈیڈی تو آج کل بزی ہیں۔بزنس نہیں سنبھال سکتے تم جتنے دن یہاں ہو آفس آ جایا کرو۔میرے سے ہینڈل نہیں ہو پا رہا سب کچھ۔اپنا آفس ورک بھی کرنا ہوتا ہے اور ڈیڈی کا بھی"۔
"ہاں بھئی اب تم سے کہاں ہینڈل ہو گا۔تمہارے سر پہ تو اور بھی بہت سی ذمہ داریاں پڑ چکی ہیں"۔
ڈیڈی کی بات پہ اس نے سامنے پڑا پانی کا گلاس اٹھا کر منہ کو لگا لیا۔
"نو ڈیڈی اٹس اوکے۔ٹھیک کہہ رہا ہے یہ۔میں نے کیا کرنا ہوتا ہے۔ فری ہی ہوتا ہوں سارا دن۔نہیں ہو پا رہا اس سے ہینڈل۔میں آپکا آفس دیکھ لیا کرونگا"۔
"بیٹا تمہارے واپس جانے میں دن ہی کتنے رہتے ہیں۔دوستوں سے ملو انجواۓ کرو اور رہی بات آفس کی تو یہ اگر ادھر اُدھر منہ ماری کرنے کی بجاۓ صرف بزنس پہ توجہ دے تو سب کچھ ہینڈل ہو سکتا ہے"۔
صارم کو کسی گڑبڑ کا احساس ہوا۔
"کوئی بات نہیں ڈیڈی میں بھی تو یہی پڑھ رہا ہوں اچھا ہے نا ابھی سے تجربہ ہو جائے گا"۔
"اسکی ہر بات ماننے کی ضرورت نہیں ہے میں پہلے ہی پچھتا رہا ہوں اسکو سر پہ چڑھا کے"۔
سارہ خاموش بیٹھی ان کی باتیں سن رہی تھیں۔ماحول میں کشیدگی واضح رچی ہوئی تھی۔دائم اور طلال تو جب بھی اکٹھے ہوتے تو کوئی نہ کوئی ٹاپک ڈسکس کرتے رہتے۔یہ خاموشی اور تناؤ تو کبھی انکے درمیان نہیں آیا تھا۔
"خیریت تو ہے آج آپ دونوں ایسے کیوں ری ایکٹ کر رہے ہیں"۔
"اپنے بیٹے سے پوچھ لیں وہ بہتر بتا سکتا ہے آپکو"۔
"کیا بات ہے دائم"۔
"کچھ بھی نہیں ممی ۔بزنس کے مسائل ہی ہیں۔اونچ نیچ تو ہو ہی جاتی ہے۔ڈیڈی بلاوجہ ٹینشن لے رہے ہیں ڈونٹ وری ڈیڈی اب صارم بھی آ جائے گا تو ہم دونوں مل کر سب ہینڈل کر لیں گے"۔
طلال نے زیر لب اسے کسی مہذب لفظ سے نوازا۔
اس سے پہلے کہ ڈیڈی کوئی راز افشا کرتے وہ جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
"صارم میں تمہارا انتظار کروں گا جلدی آنا پلیز"۔
اس کی بات پہ صارم نے سر ہلایا۔
"تم جاؤ میں اور ڈیڈی اکٹھے آ جائیں گے"۔
وہ ایک نظر ڈیڈی پہ ڈالتا ہوا چلا گیا۔
___________________________________
آفس آکر اس نے سب سے پہلے علی کو فون کیا۔
"کیا ہے یار۔سو تو لینے دیا کرو۔صبح صبح کیوں فون کھڑکا دیا۔مجھے تو یہ سمجھ نہیں آتی تمہیں میرے بغیر نیند کیسے آجاتی ہے"۔
"ابھی اٹھو اور جا کے رابی کو عدن کے پاس چھوڑ کر آؤ"۔
"یار میں کیسے چھوڑ آؤں۔امی سے کیا کہوں گا"۔
"کچھ بھی کہہ دینا انہوں نے کونسا تم سے تفتیش کرنی ہے"۔
"یار میرا خیال ہے امی کو بتا دیتا ہوں سب کچھ۔اس طرح میں کتنے بہانے کروں گا آخر۔وہ نہیں بتائیں گی کسی کو"۔
"ہاں ہاں تاکہ شام سے پہلے میرے گھر میں زلزلے آ جائیں"۔
"ویسے تو ایک بار سوچ اگر امی مبارکباد دینے پہنچ جائیں تو تیری ممی کو جو غشیاں پڑنی ہیں وہ تو پڑیں گی ہی نیہا بی بی نے تو بغیر ٹکٹ کے اوپر پہنچ جانا ہے"۔
اپنی بات پہ وہ خود ہی قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔
"بس ہو گئی تیری بیٹری چارج صبح صبح۔اب اٹھ اور رابی کو چھوڑ کر آ جلدی سے"۔
"اچھا یار اٹھ رہا ہوں اور بھابی سے کہنا اچھا سا ناشتہ بنا کے رکھیں میں بس کچھ دیر میں پہنچتا ہوں"۔
"جو ٹھونسنا ہے گھر سے ٹھونس کر جانا۔اسکی پہلے ہی طبیعت ٹھیک نہیں ہے"۔
"اوئے ہوئے رانجھے۔بڑے درد اٹھ رہے ہیں۔ نا رابی کو بھیجنے کی بجائے تو خود کیوں نہیں چلا جاتا"۔
"مشورہ اچھا ہے پر میں عمل نہیں کر سکتا کیونکہ ڈیڈی نے آج آفس آنا ہے"۔
"ہائے ہائے ایک تو یہ ڈیڈی بھی نا کسی کی دال نہیں گلنے دیتے"۔
"بس بس زیادہ بک بک نہیں ۔ابھی میں مصروف ہوں۔بائے"۔
کچھ دیر بعد صارم اور ڈیڈی بھی پہنچ گئے۔طلال تو ناک کی سیدھ میں چلتے ہوئے اپنے آفس میں چلے گئے جبکہ صارم اس کے پاس آ گیا۔
"مسئلہ کیا چل رہا ہے تم دونوں میں۔اتنے دنوں سے بھی تو سب کچھ خود ہی سنبھال رہے تھے اب میری یاد کیسے آ گئی۔وہاں ڈیڈی سیدھے منہ بات نہیں کر رہے اور یہاں تمہارا منہ لٹکا ہوا ہے"۔
"ڈیڈی سے نہیں پوچھا تم نے"؟
"پوچھا تھا انہوں نے کہا ہے اپنے لاڈلے سے پوچھ لینا۔اب ممی کی طرح مجھے بھی یہ مت کہہ دینا کہ بزنس کا مسئلہ ہے"۔
"تم ٹھیک کہہ رہے ہو صامی۔بات واقعی بزنس کی نہیں ہے۔مسئلہ میری پرسنل لائف کا ہے"۔
وہ اتنا کہہ کر ہی خاموش ہو گیا۔
"یو کین ٹرسٹ آن می۔بتاؤ کیا بات ہے"۔
"تم پہ ٹرسٹ ہے اسی لیے تو تمہیں یہاں بلایا ہے۔گھر پہ یہ بات نہیں کر سکتا تھا"۔
"میں نکاح کر چکا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
اس نے الف سے لیکر ے تک ساری بات صارم کو بتا دی۔صارم بغیر چونکے مطمئن انداز میں مکمل توجہ کے ساتھ اس کی بات سنتا رہا۔وہ اس معاشرے میں رہتا تھا جہاں یہ سب نارمل بات تھی۔کوئی کسی کی زندگی میں انٹرفئیر نہیں کرتا تھا نہ ہی کسی کے پاس اتنا ٹائم تھا کہ سارے کام چھوڑ کے اکٹھے بیٹھ کر دوسرے کی زندگی پہ تبصرے کیے جائیں۔سو وہ ببھی بغیر کوئی ذہنی صدمہ لئے اسے سنتا رہا۔
"دیکھو مجھے اس میں ایز اٹ کوئی پرابلم نظر نہیں آ رہی اور ڈیڈی کی بھی فکر مت کرو وہ دو چار دن میں نارمل ہو جائیں گے۔اصل مسئلہ صرف ممی کا ہے وہ چاہے جتنی بھی ماڈ ہوں بٹ کبھی اس چیز کو تسلیم نہیں کریں گی۔تم جانتے ہو انہیں نیہا کتنی عزیز ہے"۔
"یس آئی نو اور ڈیڈی بھی صرف ممی کی وجہ سے ہی ایسا کر رہے ہیں ورنہ انہوں نے پہلے تو کبھی میری کسی بات پہ ایسے ری ایکٹ نہیں کیا اور ممی کو بھی کس نے مشورہ دیا کہ جا کے نیہا سے میری بات پکی کر آئیں۔ایک بار بی انہوں نے میری مرضی نہیں پوچھی خود ہی سارے معاملات طے کر لیے جیسے میں تو کوئی گدھا ہوں نا جس کھونٹے سے باندھو وہیں بندھ جاؤں گا۔نیہا کے ساتھ تو میں ایک سیکنڈ نہیں گزار سکتا کجا کے ساری زندگی۔
پر ممی کو یہ بات کون سمجھائے"۔
"جو سب تم نے مجھے بتایا ہے اس کا ایک اور بھی تو حل تھا۔تم اسے اس کے گھر بھی تو پہنچا سکتے تھے"۔
"نیور۔۔۔۔یہ میں کسی صورت نہیں کر سکتا"۔
"کیوں"؟
"آئی ڈونٹ نو"۔
"بٹ آئی نو۔اٹس مین تم عشق میں گوڈے گوڈے ڈوب چکے ہو"۔
صارم کی آنکھوں میں شرارت واضح تھی۔
"یہ تم میرے ساتھ علی والی لینگوئیج نہ یوز کرو۔ابھی کہیں سے ٹپک پڑے گا وہ"۔
"اسکی فیملی سے کوئی کانٹیکٹ ہوا۔انہیں علم ہے اس نکاح کے بارے میں"۔
اوہ بھائی۔۔۔۔۔کونسی فیملی۔۔۔پتہ کروانے کی ضرورت ہی کب سمجھی اس نے۔۔۔۔نکاح نامے پہ تو ایسے سائن ٹھوکے جیسے وہ نکاح نامہ نہیں بلکہ دنیا میں آکسیجن کا آخری کنٹینر ہو۔۔۔۔۔۔جو اسکو نہ ملا تو یہ سیدھا اوپر پہنچ جائے گا"۔
اس کی آتے ہی بغیر بریک کی چلتی زبان کو دیکھ کر دائم نے سر پکڑ لیا۔
"کیسے ہو صارم۔۔۔۔۔۔ تم تو محرم کا چاند ہو گئے ہو کبھی نظر ہی نہیں آئے۔۔۔۔۔۔۔یہ نمونہ کم تھا کیا جو تم بھی ڈیڈی کا بزنس ڈبونے آ پہنچے"۔
اس نے صارم سے مل کر اپنی پوزیشن سنبھال لی۔
اس کی بات پہ صارم نے قہقہہ لگایا۔
"آج بھی اس نمونے کے کہنے پر ہی آیا ہوں"۔
"رابی کو چھوڑ آئے ہو نا"؟
"ہاں بمشکل امی کو خالہ کی طرف بھیج کے پھر رابی کو چھوڑ کر ہی آ رہا ہوں"۔
"ہاں بھئی صارم پھر تم کونسے نتیجے پر پہنچے اس کی رام کہانی سن کر"۔
"مجھے تو اس میں کوئی مسئلہ نظر نہیں آیا اسکی زندگی ہے یہ جیسے چاہے گزارے۔یہ رائٹ ہے اسکا۔رہے ڈیڈی تو ان سے میں خود بات کروں گا"۔
"واہ بھئی واہ ۔صارم آج مجھے پتہ چل گیا ہے تم میری طرح ہینڈسم ہی نہیں ہو بلکہ تمہاری سوچ بھی بالکل میری طرح سپر ہے۔لیکن اب ایک مسئلہ ہے"۔
"وہ کیا"۔
"نیہا بی بی سوتن کو برداشت تو کر لے گی نا"۔۔
اس کی بات پہ ان دونوں کا چھت پھاڑ قہقہہ آفس میں گونجا۔
دوپہر تک وہ تینوں وہیں بیٹھے باتیں کرتے رہے۔
"اچھا اب میں ذرا ڈیڈی کو بھی دیکھوں۔صبح سے تمہارے پاس بیٹھا ہوں یہ نہ ہو وہ مجھے پیار سے گیٹ آؤٹ کر دیں"۔
صارم کے جانے کے بعد علی کو بھی اٹھنے کا خیال آیا۔
"چل دائم میں بھی چلتا ہوں یہ نہ ہو تیرے ڈیڈی کی طرح میرے ڈیڈی بھی میرے خلاف ہو جائیں اس سے پہلے میں انکے پاس پہنچوں"۔
ان دونوں کے جانے کے بعد دائم نے عدن کا نمبر ملایا۔کچھ دیر بعد اسکی آواز سنائی دی۔
"السلام علیکم"۔
"وعلیکم السلام۔کیا حال ہے"۔
"ٹھیک ہوں"۔
"طبیعت کیسی ہے اب؟میڈیسن لی ہے"؟
"جی لی ہے ۔بہتر ہوں"۔
"رابی کیا کر رہی ہے"؟
"سو رہی ہے"۔
"اور آپ"؟
"میں فری تھی"۔
"آپ بولتی ہی کم ہیں یا صرف میرے سامنے ہی ہوں ہاں کرتی ہیں"؟
"میں بتا تو رہی ہوں۔۔۔۔۔جو آپ نے پوچھا"۔
"مگر مجھ سے تو اب تک کچھ بھی نہیں پوچھا آپ نے"۔
"میں۔۔۔۔کیا پوچھوں"۔
"یہ بھی میں ہی بتاؤں کیا" ؟
"آپ آفس چلے گئے"؟
"آفس سے ہی فون کر رہا ہوں۔آجکل کام کا برڈن ذیادہ ہے میں دو چار دن آ نہیں سکوں گا۔۔۔۔۔"
ابھی وہ بات ہی کر رہا تھا کہ طلال اسکے آفس چلے آئے۔
"ٹھیک ہے میں آپ سے بعد میں بات کروں گا ۔اوکے بائے"۔
طلال کو دیکھ کر اس نے فوراً فون بند کیا۔
"میرا خیال ہے تمہیں اس وقت میٹنگ اٹینڈ کرنے کے لیے ہوٹل میں موجود ہونا چاہیے"۔
"جی ڈیڈی میں بس آ ہی رہا تھا"۔
وہ فوراً فائل اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔
"اس کو بھی اٹھا لو۔۔۔۔دوبارہ بھی کوئی اہم کال آ سکتی ہے" ۔
طلال نے اسکے فون کو دیکھتے ہوئے چبا کر کہا۔اس نے مسکراہٹ دبا کر ٹیبل پہ پڑا فون اٹھایا اور انکے پیچھے ہو لیا۔
آج بورڈ آف ڈائریکٹرز کی میٹنگ تھی۔آج کی میٹنگ میں تمام کمپنیوں کو ڈھیروں پراجیکٹس ملنے والے تھے۔سب کمپنیوں کے مالکان ایک ایک کر کے اپنی پریزینٹیشن دے رہے تھے۔ہر کسی کی نظریں سکرین پر ابھرنے والی سلائیڈز پر تھیں۔باوجود شدید غصے کے دائم کی پریزینٹیشن دیکھ کر طلال مطمئن ہو گئے تھے۔وہ چاہتے تھے ہمیشہ کی طرح سب سے ذیادہ پراجیکٹس انہی کے حصے میں آئیں اور آج کل تو اس سب کی اشد ضرورت تھی۔وہ دائم کو بزنس میں اتنا مصروف کر دینا چاہتے تھے کہ اسے ادھر اُدھر دیکھنے کی فرصت بھی نہ ملے اور اب دائم پریزینٹیشن دیکھ کر انہیں یقین تھا کہ اگلے کچھ گھنٹوں میں وہ بہت سے پراجیکٹس سائن کرنے والے ہیں۔
_________________________________
نیو پراجیکٹس کو مینیج کرنے اور پھر ان پہ کام سٹارٹ کروانے میں وہ واقعی اگلے تین دن بے حد مصروف رہا۔طلال پھر سے اپنی سابقہ روٹین میں مصروف ہو گئے۔آج چوتھے روز اسے فلیٹ پہ جانے کا خیال آیا۔رات کے اس وقت بھی سڑکوں پہ معمول کی ٹریفک رواں تھی۔فلیٹ پہ پہنچ کر عدن کو کال کی۔کچھ دیر بعد اس نے دروازہ کھولا۔
"السلام علیکم۔کیا حال ہے"؟
"وعلیکم السلام! ٹھیک ہوں"۔
پچھلے دنوں کی نسبت آج وہ کافی بہتر لگ رہی تھی شاید یہ رابیل کی کمپنی کا اثر تھا۔
کچھ بعد ہی وہ پانی کا گلاس لے کر اس کے پاس آئی۔دائم نے موبائل سے نظریں ہٹا کر حیرت سے پانی کے گلاس کو دیکھا اور پھر مسکرا کر پکڑ لیا۔اپنی زندگی کے پچیس سالوں میں اس نے کبھی ممی کو ڈیڈی کی آفس سے واپسی پر انہیں پانی دیتے نہیں دیکھا تھا۔ان کے نزدیک یہ سب ٹیپیکل حرکتیں تھیں۔
"چائے پیئیں گے آپ" ؟
عدن میں آنے والے چینج کو وہ واضح محسوس کر رہا تھا۔
"نہیں میرا موڈ نہیں ہے آپ ہی پیئیں"۔
وہ اسے گلاس واپس تھما کر کمرے کی طرف مڑ گیا۔
کافی دیر بعد وہ چائے بنا کر کمرے کی طرف بڑھی۔کمرہ خالی تھا مگر ٹیرس کا دروازہ کھلا ہوا تھا کچھ سوچ کر وہ کمرے میں بیٹھنے کی بجائے آہستہ آہستہ ٹیرس کی طرف آئی۔
"تھینک گاڈ!چائے بن گئی ورنہ میرا تو خیال تھا آج ساری رات آپ نے کچن میں ہی گزارنی ہے"۔
"نن۔۔نہیں۔۔۔وہ میں کچن صاف کرنے لگ گئی تھی"۔
وہ کہہ کر چائے پینے لگی۔
دائم ریلنگ پہ ہاتھ رکھے باہر سڑک کی طرف دیکھ رہا تھا۔سٹریٹ لائٹس کی مدھم روشنی چہرے پہ پڑ رہی تھی۔
"آپ۔۔۔۔نے۔۔۔۔آج یہیں رہنا ہے کیا "؟
"آپ کہتی ہیں تو چلا جاتا ہوں"۔
اس کی بات پر وہ مسکرا کر اس کی طرف مڑا۔
"آپکا گھر ہے ۔میں کون ہوتی ہوں آپکو کہنے والی"۔
"سارے حقوق تو میں نے آپکو سونپ دئیے ہیں اب تک یہ بھی نہیں پتہ چلا آپ کون ہیں"۔
اس کی بات پر دائم نے مسکراتے ہوئے اس کے ہاتھ سے چائے کا کپ پکڑ لیا۔عدن مارے حیرت کے اسے دیکھتی رہ گئی۔
"میں۔۔۔۔میں آپکو اور لا دیتی ہوں"۔
"کیوں اسکو کیا ہے"؟
"یہ میری جوٹھی ہے"۔
"بیوی کا جوٹھا پینا گناہ تو نہیں ہوتا"۔
وہ اس کی بات پہ جز بز سی ہو کر باہر دیکھنے لگی۔
"اب خاموش ہی کھڑے رہنا ہے کیا کوئی بات کریں میرے سے"۔
"آپکی فیملی میں کون کون ہوتا ہے"۔
"فیملی میں ممی اور ڈیڈی ہیں۔باقی ہم چار بہن بھائی ہیں۔ریان اور عنایہ میریڈ ہیں۔صارم انگلینڈ میں پڑھتا ہے۔آج کل پاکستان آیا ہوا ہے اور آخری نمبر آپکے شوہر نامدار کا ہے جو آپکے سامنے کھڑے ہیں"۔
اس کے آخری فقرے پہ پزل سی ہو گئی۔
"اور آپکی فیملی میں"؟
"میری فیملی میں اماں اور بابا ہیں۔بڑے دونوں بھائی میریڈ ہیں اور میں پڑھ رہی تھی"۔
"کونسی کلاس میں"؟
"گریجویشن کا لاسٹ ائیر تھا"۔
اس نے دکھ سے کہا۔
"دیٹس گڈ"۔
"بور نہیں ہوتیں آپ گھر میں رہ رہ کے۔میں آج کل بہت بزی تھا آپ کو پراپر ٹائم نہیں دے سکا۔رابیل کو بلوا لیا کریں اس کے ساتھ باہر چلی جایا کریں جب دل چاہے"۔
باہر نکلنے کا نام سن کر اس کے چہرے پہ خوف سا پھیل گیا۔
"نہیں۔میں یہیں ٹھیک ہوں مجھے نہیں جانا کہیں بھی"۔
"کیوں"؟
"ویسے ہی۔۔۔۔۔۔۔میرا دل نہیں کرتا۔کپ دے دیں میں رکھ آؤں"۔
اس نے اسے دیکھتے ہوئے خاموشی سے خالی کپ آگے بڑھا دیا۔کپ دھو کر وہ کچن میں ہی کھڑی رہی اور تو کچھ بھی کرنے کو نہیں تھا۔فلیٹ میں ٹوٹل تین کمرے تھے۔ایک بیڈ روم ،ڈرائنگ روم اور تیسرا کمرہ لاکڈ تھا۔کوئی اور چارہ نہ ہوتے ہوئے وہ واپس کمرے میں آ گئی۔
دائم بیڈ پہ بیٹھا لیپ ٹاپ سامنے رکھے کچھ ٹائپ کر رہا تھا۔
"آپ ہر کام ہی آہستہ آہستہ کرتی ہیں یا آج میرے آنے پہ اتنی سلو ہو گئیں ہیں اب یہ نہ کہنا میں کچن دوبارہ صاف کر رہی تھی"۔
اسکی بات پہ وہ شرمندہ سی ہو کر بغیر کوئی جواب دینے صوفے پہ بیٹھ گئی۔
کافی پل خاموشی سے گزر گئے۔
"وہ۔۔۔۔میں۔۔۔۔آپ۔۔۔۔۔۔سے کچھ بات کرنا چاہتی تھی"۔
"جی بولیں"۔
اس نے ایک لمحے کے لیے سکرین سے نظریں ہٹا کر کہا۔
"وہ۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔"
وہ جو کہنے جا رہی تھی شاید وہ اسکی بات کو نہ مانتا۔
"بتائیں بھی۔۔۔کیا بات ہے"۔
"وہ۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔"
اس،سے بولا تک نہیں جا رہا تھا ۔وہ بے چینی سے بار بار ہاتھ مسل رہی تھی کہ دائم بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس صوفے پر آ بیٹھا۔صوفے کی بیک پہ بازو رکھے اور ایک ٹانگ اوپر کی جانب موڑے وہ بالکل اس کی طرف متوجہ تھا۔اس نے نرمی سے اسکا ہاتھ پکڑا۔وہ تو اسکے پاس بیٹھنے پر ہی نروس یو گئی تھی اب تو باقاعدہ کانپنا شروع کر دیا۔
"ہمارے درمیان اتنا گہرا اور مضبوط رشتہ موجود ہے کہ آپکو مجھ سے کوئی بھی بات کرنے میں جھجک محسوس نہیں ہونی چاہیے۔آئی نو یو کڈ ناٹ اکسیپٹ اٹ ٹل ناؤ آپ کو جتنا ٹائم چاہیے اتنا لیں۔ٹھیک ہے جن حالات میں ہماری شادی ہوئی ہے اس میں ایک دم سے ہر چینجنگ کو ایکسیپٹ کرنا واقعی مشکل ہے لیکن اس کے علاوہ ہم دوست بھی تو بن سکتے ہیں۔جو بات کرنی ہے فرینکلی کریں اس ڈر اور خوف کو ایک سائڈ پہ رکھ کر۔آپ مجھ سے کچھ نہیں کہیں گی تو اور کس سے کہیں گی۔جب میں بالکل نارملی ری اایکٹ کرتا ہوں تو مجھے آپ سے بھی یہی ریسپونس چاہیے"۔
وہ سر جھکائے ہونٹ کاٹتے ہوئے اس کی بات سن رہی تھی۔
"اب بتائیں کیا کہنا تھا"۔
"میں اپنے گھر والوں سے بات کرنا چاہتی ہوں"۔
"تو کریں کس نے روکا ہے ۔فون تو ہے آپکے پاس"۔
اس نے خود ہی سائڈ ٹیبل پڑا موبائل اٹھا کر اسکو دیا۔
"کر لوں۔۔۔کیا واقعی"؟
"بالکل۔۔۔کریں"۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے بابا کا نمبر ملایا۔کتنے دنوں بعد وہ آج بابا کی آواز سنے گی۔اس احساس نے ہی آنکھوں میں نمی بھر دی۔
"آپکا ملایا ہوا نمبر کسی کے استعمال میں نہیں"۔۔۔
فون سے آتی آواز سن کے اس نے حیران ہو کر دوبار نمبر ڈائل کیا۔پھر سے وہی جملہ دہرایا گیاگیا۔
"یہ۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔یہ بابا کا ہی نمبر ہے"۔
کیا ہوا؟
"یہ کہہ رہے ہیں کسی کے استعمال میں نہیں ہے۔مگر یہ بابا کا نمبر ہے مجھے اچھے سے یاد ہے"۔
"کسی اور کا ڈائل کر لیں"۔
"ہاں عبداللہ بھائی کا کرتی ہوں"۔
"معزز صارف آپکا ملایا ہوا نمبر اس وقت بند ہے"۔
تین بار ملانے پر بھی یہی جواب آیا۔
"کیوں ہو رہا ہے ایسا۔۔۔۔ سب کے نمبر ہی بند ہیں۔مجھے تو اور کسی کا نمبر بھی نہیں پتہ"۔
اس نے پریشانی سے دائم کو دیکھا جو ساری صورتحال کو ایک منٹ میں سمجھ گیا تھا۔
"ہو سکتا ہے سو گئے ہوں۔صبح ٹرائی کر لینا"۔
دائم کی تسلی پر اس نے پریشانی سے سر ہلایا۔
"عدن اف یو ڈونٹ مائنڈ دین کین آئی آسک یو سم تھنگ"؟
"پوچھیں"۔
"آپ اس جگہ پہ کیسے پہنچی تھیں"۔
اس کا سوال سن کر عدن کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا۔
Follow Me
________________________________________

Address

Remote
Toba Tek Singh
36300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Novel world posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category