روشنی

روشنی Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from روشنی, Religious Bookstore, Toba Tek Singh.

06/08/2025
کٹارا مسجدقطر کٹارا ثقافتی گاؤں کے قلب میں واقع، کٹارا مسجد چمکدار فیروزی اور جامنی موزیک ٹائلوں کے ساتھ ایک شاندار بصری...
25/12/2024

کٹارا مسجدقطر
کٹارا ثقافتی گاؤں کے قلب میں واقع، کٹارا مسجد چمکدار فیروزی اور جامنی موزیک ٹائلوں کے ساتھ ایک شاندار بصری تجربہ پیش کرتی ہے جو اس کی بیرونی دیواروں کو آراستہ کرتی ہے۔ معروف ڈیزائنر، زینب فادل اوگلو کی طرف سے زندہ کیا گیا، مسجد اندر سے بھی اتنی ہی جمالیاتی طور پر خوش کن ہے۔ اندرونی حصہ رنگین نمونوں اور ایک بڑا مرکزی فانوس کے ساتھ ایک گرم لیکن ہلکا ماحول پیش کرتا ہے جو مسجد کے اگلے حصے کی تکمیل کرتا ہے۔ کٹارا کلچرل ولیج خاندانوں کے لیے ایک بہترین منزل ہے، جس میں کتارا پہاڑیوں کے قریبی سرسبز مناظر میں متعدد کھانے پینے کی جگہیں، کنسرٹ ہال اور نمائشی گیلریاں اور دوڑ اور سائیکلنگ ٹریکس ہیں۔

25/12/2024

نصایح نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
ایک دن صحابہ کرام کے اجتماع میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرمائے فجر کی نمازہ ہو چکی تھی۔ وعظ و نصیحت کا سلسلہ جاری تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یاتم میں سے کون ایسا شخص ہے جو مجھ سے چند باتیں اچھی طرح سیکھ لے پھر ان پر عمل بھی کرے اور دوسروں کو ان کی تعلیم بھی دے ؟ حضرت ابوہریرہ تو فوراً کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیک میں حاضر ہوں مجھے آپ ان باتوں کی تعلیم دیں میں ان پر عمل کروں گا اور لوگوں کو ان کی تعلیم بھی دوں گا ۔ حضرت ابو ہریرہ کا بیان ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ کلمات ارشاد فرمائے۔ فرمایا۔
1 حرام سے بچنا تم سب سے بڑے عابد بن جاؤ گے ۔
2 اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بھی تمہیں مل جائے اس پر راضی ہو جانا تم سب سے زیادہ غنی ہو جاؤ گے۔
3 اپنے پڑوسی سے حسن سلوک کرنا تم حقیقی معنوں میں مومن بن جاؤ گے ۔
4 جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لیے بھی پسند کرنا تم بیٹے مسلمان بن جاؤ گے ۔ زیادہ نہ ہنسنا ور نہ تمہارا دل مردہ ہو جائے گا۔
ترمذی شریف کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہ مرضی اللہ عنہ نے ان باتوں کو پھر لوگوں تک پہنچایا۔ عبادات کے دو پہلو ہیں۔ ایک مثبت اور دوسرا منفی، مثبت پہلو تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے احکام پر پورے خلوص سے عمل کیا جائے اور اس کی جزا صرف اور صرف اللہ تعالیٰ سے طلب کی جائے اور منفی پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں سے منع فرمایا ہے ان سے کامل پر ہیز کیا جائے۔عبادت نور ہے اور حرام تاریکی - نور اور تاریکی ایک دل میں جمع نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالی کی رضا پر راضی ہونا بھی کمال کی دلیل ہے۔ ساتھ ہی طمانیت قلب کا سامان۔ اس لیے کہ دنیا کی کوئی طاقت اللہ تعالیٰ کے فیصلے اور اس کی قضا کے نفاذ کو روک سکتی ہے نہ ٹال سکتی ہے۔ اس لیے اس کا حل صرف اس میں ہے کہ تقدیر الہی سے موافقت اختیار کی جائے اور اس کی تقسیم پر راضی رہا جائے۔ یہ رضا بالقضاء انسان کو تو کل اور قناعت کا سبق دیتی ہے اور پھر اسے دنیا وما فیہا سے بے نیا ذ بنا دیتی ہے۔ پڑوسی کے حقوق کی اہمیت کا اندازہ تو اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام نے پڑوسی نیک سلوک کرنے کی مجھے اتنی مرتبہ تاکید کی کہ مجھے تو خیال ہونے لگا تھا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں حصہ مل جائے گا اور یہ جومسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے بھی پسند کیا کرو اس میں بھی وہی اخوت و محبت اور باہمی ہمدردی و مواسات کے پاکیزہ جذبات کو پروان چڑھانے اور اسے مسلم معاشرے میں عام کرنے کی حکمت و مصلحت پوشیده ہے جو اسلام کا مقصود اولیں ہے۔ اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں سب سے بڑی عبادت دلوں کو جوڑنا ۔ پیارا اور محبت کی تبلیغ کرنا اور امت مسلمہ کے افراد کے درمیان اخوت و محبت پیدا کرنا ہے اور سب سے بڑا گناہ ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان سے جدا کرنا ۔ دلوں میں تفریق پیدا کرنا ۔ فرقہ بندی اور دھڑے بازی کو فروغ دینا ہے۔ اسی لیے تفرقہ بازی کو قرآن کریم میں مشرکوں کا عمل کہا گیا ہے ۔ اگر واقعہ ایک مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کے لیے وہی پسند کرنے لگے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے تو مسلم معاشرہ صحیح معنوں میں امن کا گہوارہ بن جائے۔ حضرت ابوہر میر کی اس روایت میں آخر کی بات یہ بتلائی گئی ہے کہ زیادہ ہنسا نہ کر ورنہ تمہارا دل مردہ ہو جائے گا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے اہم مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیئے۔ آفاق وانفس اور اقوام و ملل کے حالات و تعمیرات پر اگر غور کیا جائے تو انسان کو پہننے اور لہو و لعب میں مبتلا ہونے کا موقع ہی کہاں ملتا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ خوشدلی اور خوش باشی ترک کی جائے البتہ کسی بھی صورت میں وقار کا دامن ہاتھوں سے چھوڑنانہ چاہیے۔

قطر میں امام عبدالوہاب مسجد کو ریاستی مسجد کے طور پر کام کرنے کے لیے 2011 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں 30,000 نمازیو...
24/12/2024

قطر میں امام عبدالوہاب مسجد کو ریاستی مسجد کے طور پر کام کرنے کے لیے 2011 میں تعمیر کیا گیا تھا اور اس میں 30,000 نمازیوں کی متاثر کن گنجائش ہے۔ اس میں خوبصورت اور مستند اسلامی فن تعمیر ہے اور اس کے مختلف ہاتھ سے بنے ہوئے، نمونہ دار قالینوں اور 28 فانوسوں کے ساتھ ایک دلکش ماحول ہے جو اپنی کھڑکیوں سے ہونے والی قدرتی روشنی کے خلاف خود بخود مدھم ہو جاتے ہیں۔ یہ مسجد مہمان نوازی کے متعدد پرکشش مقامات اور خریداری کے مقامات جیسے کہ دی گیٹ مال اور سٹی سینٹر مال کے قریب واقع ہے۔

24/12/2024

طفیل دوسی اور تلاوت نبوی(صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)

اجنبی شہر مکہ میں داخل ہوا تو رات ہو چکی تھی اس لیے کسی سے ملاقات نہ کر سکا اور ایک دوست کے مکان میں رات بسر کرنے کے لیے ٹھہر گیا۔ اجنبی معمولی آدمی تو نہیں تھا کہ شہر مکہ میں آکر چپ چپاتے واپس چلا جاتا۔ شاعر تھا۔ ادیب تھا۔ قبیلہ دوس کا نامی گرامی سردار تھا۔ اس کے سینکڑوں جاننے والے شہر میں موجود تھے۔ صبح ہوتے ہوئے ملاقات کرنے والوں کا تانتا بندھ گیا لیکن جو آتا۔ نصیحت کرتا اور اپنا دکھڑا روتا۔ قبیلہ قریش کے بعض سردار آئے اور انہوں نے بتلایا کہ طفیل ذرا سنبھل کر مکہ میں رہنا آج کل شہر کی فضا ٹھیک نہیں ہے۔ طفیل نے دریافت کیا تو انہوں نے بتلایا کہ ہماری قوم میں ایک شخص پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث ساری قوم میں تفرقہ پڑ گیا ہے نہ جانے اس کے کلام میں کیا سحر ہے کہ باپ بیٹے سے بھائی بھائی سے اور شوہر بیوی سے جدا ہو جاتے ہیں مگر جو ایک مرتبہ اس کا کلمہ پڑھ لیتا ہے اس کے دامن کو نہیں چھوڑتا۔ لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ تم اس کا کلام نہ سننا ور نہ باپ دادا کے دین سے بھی محروم ہو جاؤ گے۔ طفیل نے روئی لی اور کانوں میں ٹھونس لی کہ کہیں قرآن کی آواذنہ اس کے کانوں میں داخل نہ ہو جائے اور اس طرح شہر میں دن گزارنے لگا۔ اتفاقاً ایک دن حرم کعبہ داخل ہوا تو خاتم المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں مشغول پایا طفیل نے کانوں کی روٹی کو ذرا اور ٹھونس لیا کہ کہیں آپ کا کلام نہ کان میں پڑ جائے جس وقت طفیل مضبوطی سے روئی کو کانوں میں ٹھونس رہے تھے تقدیر پیچھے کھڑی مسکرا رہی تھی ۔ اب مشیت ایزدی نے اپنا عمل شروع کیا اور قرآن کی آواز روئی کی دیوار کو پھلانگتے ہوئے کانوں میں رس گھولنے لگی۔ کلام اللہ آوازہ رسول اللہ کی ۔ مقام کعبتہ اللہ اللہ کے کلام
نے کانوں کی دہلیز پر قدم رکھا اور دل کے نہاں خانے میں اترنے لگا۔ اس کلام میں ایسا کیف و سرو بہ اور ایسی لذت ایسا انبساط تھا کہ اترتا ہی چلا گیا۔ طبیعت کو عرصہ دراز کے بعد جو نشاط میسر آیا تو طفیل نے روی کو ذرا اور ڈھیلا کیا اور عرب کا نائبغہ روزگار شاعر سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے ذرا اور قریب آگیا۔ روی کانوں سے نکال کر پھینک دی کہ وہ معرفت حق کے درمیان حائل تھی۔ اب طفیل پر عالم محویت طاری ہے تلاوت ہو رہی ہے اور طفیل مبہوت کھڑا ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی اور دولت کدے کی طرف چل پڑے۔ آگے آگے نبی تھے اور پیچھے پیچھے طفیل دروازے پر پہنچ کر طفیل نے آپ کو روک لیا۔ اور قدموں میں بیٹھ گئے۔ آقا آپ کی قوم نے مجھے آپ کا کلام سننے سے اس قدر ڈرایا تھا کہ میں نے کانوں میں روئی ٹھونس لی تھی ۔ مگر مشیت ایزدی مجھے آپ کے دروازے پر لے آئی ۔ دست مبارک درانہ کیجیے اور اس غلام کی بیعت کو قبول فرما کہ عمر بھرکی بے قراری کو قرار بخشے ۔ خدا کی قسم میں نے قرآن سے بہتر کبھی کوئی کلام نہ سنا۔ یہ انسان کا کلام نہیں ہے ۔ طفیل نے اسلام قبول کر لیا ۔ قبیلے کی طرف لوٹنے لگے۔ توطفیل بن عمرو دوسی نے عرض کیا ۔ حضور! ۔ میں نے قرآن سننے کے ڈر سے کانوں میں روئی ٹھونسی تھی اب اس کا کفارہ اسی طرح ادا ہو سکتا ہے کہ اپنے علاقے میں جا کر گلی گلی کوچے کوچے بستی بستی نگری نگری قرآن کا پیغام سناتا پھر وں اگر اس فرض کو میں نے ادا کر لیا تو سمجھئے کہ میری زندگی کسی کام آئی۔

09/12/2024

ادب الہی کا صلہ
آج رات اس نے کچھ زیادہ ہی پی لی تھی۔ قدموں میں لرزش تھی۔ ہوش و حواس درست نہ تھے، لڑکھڑاتا چلا جار ہا تھا۔ جو دیکھتا ایک نفرت انگیز نگاہ ڈالتا اور اپنی راہ لیتا۔ اس لئے کہ ملت اسلامیہ کا ضمیر ہمیشہ سے شراب اور شرابیوں سے نفرت کرتا آیا ہے لوگ اسے حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے ، مگر اس کو کیا کیجئے کہ اس کے سر پر ستار اقبال مندی چمک رہا تھا اور ان حقارت آمیز نگاہوں کے پیچھے تقدیر کھڑی مسکرا رہی تھی، چلتے چلتے بشر حافی کی نگاہ اسی نشے کی حالت میں زمین پر پڑے ہوئے ایک کاغذ پر پڑی جس پر بسمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرّحِیمِ لکھا تھا۔ بشر حافی اگر چہ نشے میں تھا لیکن رحمن و رحیم رب کے نام کی عزت کا جذبہ اس کے دل میں موجود تھا۔ ٹھٹھک کر کھڑا ہو گیا۔ کیپکپاتے ہاتھوں سے اس کا غذ کے ٹکڑے کو اُٹھایا، اسے بوسہ دیا اور موڑ کر جیب میں رکھ لیا کہ میرے مالک کا نام ہے اس کی تو ہین ہو رہی ہے اور پھر مے خانے میں داخل ہو گیا ۔ رات بھر دور جام چلتا رہا اور عین اسی وقت بغداد کے ایک ولی کو خواب میں یہ پیغام دیا جارہا تھا کہ بشر حافی سے جاکر کہہ دوکہ تم نے میرے نام کو بلند کیا ہے۔ ہم نے تمہیں بلند کر دیا تم نے میرے نام کی تعظیم کی ہمیں نے تمہیں ہمیشہ کے لئے عزت بخش دی ہے۔ تم نے ہمارے نام کو پاک کیا، ہم نے تمہیں گناہ کی آلائشوں سے پاک کر دیا۔ اللہ تعالے کے ولی نے صبح کی نماز مسجد میں ادا کی اور سیدھے مے خانے کے دروازے پر پہنچے گئے۔ ننگے سر ننگے پیر بشر مے کدے سے نکل رہے تھے کہ دروازے پر ولی نے بشر کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔ بشر کو ہوش آگیا۔ ولی کامل حضرت فتح موصلی کا ہاتھ تھا اور توبہ کر کے طریق زہد اختیار کیا۔ اس دن سے بشر نے جوتا پہنتا چھوڑ دیا۔تنگے پیر رہتے۔ اسی لئے انہیں حافی یعنی تنگے پیر رہنے والا کہا جاتا تھا۔ کسی نے پوچھا کہ آپ جوتے کیوں نہیں پہنتے، جواب دیا کہ میں تو بہ کے وقت ننگے پیر تھا۔ اب مجھے شرم آتی ہے کہ جوتے پہنوں۔ اس طرح مجھے ہر وقت اپنی تو بہ یا در رہتی ہے۔

23/11/2024

For Online Quran Class

19/11/2024

ابو خثیمیہ اور محبت نبوتی
معرکہ تبوک کے لئے شکر حضور . کی قیادت میں روانہ ہو گیا گرمی سخت تھی اور فصل تیار منافقین نے گذر معذرت کر کے جان چھڑالی اور گھر میں بیٹھے رہے ۔ علامہ ابن کثیر نے البدایہ والنہایہ میں لکھا ہے کہ نا دانستہ طور پر حضرت بھی پیچھے رہ گئے اور شکر کے ساتھ شامل نہ ہو سکے ۔ جب سورج ڈھلنے لگا ۔ جب سورج ڈھلنے لگاتو ابو خثیمیہ گھر لوٹے دیکھا کہ ان کے باغ میں سایہ دار سائیبان ہے۔ پانی کا چھڑکاؤ ہو چکا ہے۔ کھانا تیار ہے اور اہل خانہ اُن کا انتظار کر رہے ہیں۔ درختوں کے جھنڈ میں واقع مکان، ٹھنڈا پانی گرم کھانا، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا بھی چل رہی ہے۔ اہل خانہ نے بڑھ کر استقبال کیا۔ مگر ابو خثیمیہ دروازے کے باہر ہی ٹھٹک کو کھڑے ہو گئے اہلیہ نے کہا، آجائیے، باہر کیوں کھڑے ہوگئے ہے ابو خثیمیہ اس نے کہا رسول الله دھوپ میں سفر کر رہے ہیں میں یہاں تم لوگوں کے ساتھ سائبان اور نخلستان میں بیٹھ کر عیش کروں ۔ الوان نعمت کھاؤں اور ٹھنڈا پانی پینا ناممکن ، فورا مڑے اور توشہ دان میں کھجوریں بھر نے لگے۔ بیوی نے کہا، اتنی جلدی بھی کیا ہے، کھانا تو کھا لو۔ کہا نہیں ایک دانہ بھی نہیں کھاؤں گا ، ایک لقمہ بھی نہیں توڑوں گا۔ عیش و آرام میرے اوپر اس وقت تک حرام ہے جب تک اپنے آقا کے قدموں میں نہ پہنچ جاؤں ۔ کیسی کی ایک نہ سنتی سب کو ٹھکرا کر یہ بجا اور رہ جا۔ لوگوں نے شمع کی طرف پروانے کو چاند کی طرف چکور کو بھاگتے دیکھا ہو گا ۔ لیکن یہ پر دانہ شمع محمدی سب سے تیز رفتار، سب سے بیگانہ دیوانہ وار اپنے محبوب کی سواری کا نقش قدم ڈھونڈتا ہوا بڑھتا رہا۔ اسے کچھ خبر نہ تھی کہ کب دن آیا اور کب رات گئی صحرائے عرب کی پنہائیاں تھیں اور وہ تھا۔ تا آنکہ اس قافلے کا سوارنظر آنے لگا جس میں اس کا سرمایہ حیات تھا، سواری کو اور تیز کر دیا۔ قافلے والوں نے جو دور سے گرد اڑاتے ہوئے ایک ناقہ سوار کو دیکھا تو کہنے لگے نہ جانے کون ہے کہ صبا
رفتار چلا آرہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نبی ان پر لاکھوں صلوۃ و سلام نے فرمایا۔ خدا کرے ابو خثیمیہ ہو، اور جب گرد چھٹی تو نبی کا قول پورا ہوا۔ نبی کے قدموں میں بیٹھ کر ابو خثیمیہ نے داستان سفر سنائی اور نبی امارت کا دست مبارک اور ترین کے حق میں دعا کےلئے دراز ہوگیا۔

19/11/2024

محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی محبت جز و ایمان بلکہ عین ایمان ہے۔ اسی لئے آپے ارشاد فرمایا ہے کہ تمہارا ایمان اُس وقت تک درجہ کمال کو نہیں پہنچ سکتا جب تک ہمیں تمہارے نزدیک تمہاری اولاد والدین اور سارے جہان سے زیادہ عزیز نہ بن جاؤں ۔ آپ سے محبت رکھنے کا یہ جوحکم دیا گیا ہے اس کی مصلحت یہ ہے کہ محبت ہی سے اتباع اور پیروی کا جذبہ ابھرتا ہے جو اصل مقصود ہے میں طرح مضرور
ہے کہ ہر دعوے کا کوئی ثبوت ہو اور کوئی دعوی بلا دلیل و ثبوت کے قبول نہیں کیا جاتا اسی طرح حضور کی محبت کے دعوے کا ثبوت آپ کی پیری آپ کے احکام کی تعمیل اور آپ کی مکمل اتباع ہے۔ چلنے میں پھرنے میں ، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، ملنے جلتے ہیں، اخلاقیات میں، معاملات میں ، سیاسیات میں، معاشیات میں ، خلوت میں ، جلوت میں ، بیرونی زندگی میں اور گھر یلوزندگی میں غرضیکہ زندگی کے ہر ہر عل میں ہر مرحرکت اور سکون میں ہر ہر لحظے اور لمحے میں سرکار دو عالم کے اسوہ حسنہ اور آپ کے معمولات و تعلیمات کو پیش نظر رکھا جائے
اگریہ نہ ہو تو محض زبانی و کلامی محبت بارگاہ نبوت میں لائق اعتبار نہیں- صحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین میں دونوں چیزیں موجود تھیں محبت بھی اور اتباع . اور محبت ایسی کہ اس کی مثال پیش کرنے سے تاریخ عالم قاصر ہے اور اتباع ایسی کہ ان میں کا ہر فرد پوری طرح سیرت نبوی علی صاحبہا الصلوات کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب وادی بطحا سے عشق والوں کا یہ قافلہ جادہ پیما ہوا سہیل جبل اور کوہ و دمن نے ان کا استقبال کیا اور دیدہ و دل فرش راہ کئے۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا اور کسی صلے کی تمنا کی نہ کسی منصب کی آرزو ۔ انسانی رشتے کہاں نہیں ہوتے ، ان کے یہاں بھی تھے ۔ مگر سارے رشتے ناطے نبوت کے مقابلے میں ہیچ تھے۔ ان کے قلوب واذہان نور نبوت سے مستنیر تھے اور آپ کی محبت تمام محبتوں پر غالب معرکہ احدمیں سردار انبیا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زخمی ہو گئے تھے اور کفار نے افواہ اڑا دی کہ آپ شہید ہو گئے ہیں۔ ایک انصاری عورت آپ کی خیریت دریافت کرنے کے لئے اُحد کی طرف چل کھڑی ہوئی۔ اس کا باپ، اس کا شوہر اور اس کا بھائی سب غزہ اُحد میں لڑنے کے لئے گئے ہوئے تھے۔ شام ہو رہی تھی اور مجاہدین اُحد سے واپس آرہے تھے۔ اس نے ایک مجاہد ہے دریافت کیا گیفت رسول الله یہ تو بتاؤ کہ حضور کیسے ہیں مجاہد نے جواب دیا، تیرا باپ شہید ہو گیا۔ اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ حضور کیسے ہیں جو دوسرے
مجاہد نے خبر دی کہ تیرا بھائی شہید ہو گیا تیسرے نے بتلایا کہ تو بیوہ ہوگئی، تیرا شوہر مقام شہادت پر فائز ہو گیا۔ مگر اُس پیکر وفا کا صرف ایک ہی سوال تھا۔ گیفت رسول الله لوگو ! مجھے اتنا تو بتاؤ کہ حضور کیسے ہیں ۔ باپ چھن گیا من موت الو یتیم ہوگئی بھائی چلا گیا قوت بازو سے محروم ہوگئی، شوہر رخصت ہو گیا ہے سایہ و ہ بے آسرا ہوگئی۔ یہ سب منظور، مجھے تو میرے مولا کی خیریت بتلاؤ کسی نے کہا کہ آپ صحیح و سلامت ہیں ۔ مگر اس کے دل کو قرار نہ آیا بڑھتی ہی چلی گئی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نمودار ہوا ۔ آقائے نامدار کو جلوہ افروز دیکھا تو ہر غم کو فراموش کر کے کہا كل مصيبة بعدك جل يا رسول اللہ یا رسول اللہ ! آپ کے ہوتے ہوئے سب مصیبتیں ہیچ ہیں۔
محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایمان کا جز ہے اور اس کا حقیقی ثبوت آپ کی اتباع میں ہے، جیسا کہ صحابہ کرام نے اپنی محبت اور پیروی سے پیش کیا۔ صحابہ کی محبت میں یہ شدت تھی کہ وہ اپنی جانیں تک قربان کر دیتے، اور ان کے دلوں میں حضور کی خیریت سے بڑھ کر کوئی فکر نہ تھی۔ اللہ ہمین بھی محبت اورا اتباع کی توفیق عطا کرے ۔

Address

Toba Tek Singh
36050

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when روشنی posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share