عجايب و غرائب

عجايب و غرائب like my page oli

18/08/2026

*🌹بسْــــــــــــــمِ ﷲِالرَّحْمن الرَّحِيم 🌹*

*🌺اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُه‌💐*

*زندگی میں ہر دن ایک نیا موقع لے کر آتا ہے کل کی فکر اور گزرے ہوئے کل کے غم میں آج کو مت کھوئیے۔اللہ پر بھروسہ رکھیے، نیت نیک رکھیے اور آج کسی کے لیے آسانی بن جائیے۔ کبھی کبھی ایک مسکراہٹ، ایک دعا اور ایک اچھا لفظ بھی کسی کی پوری دنیا بدل دیتا ہے۔*

کبھی کبھار میتوں کو سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے. ذرا محسوس کرنے کی کوشش کیجیے کہ میت کے لیے سرد خانے کے منفی درجہ حرارت...
09/12/2025

کبھی کبھار میتوں کو سرد خانے میں رکھ دیا جاتا ہے.
ذرا محسوس کرنے کی کوشش کیجیے کہ میت کے لیے سرد خانے کے منفی درجہ حرارت میں کئی دنوں کے لیے لیٹنا کیسا عذاب ہوتا ہو گا؟
یہ عذاب ان کے پیارے ہی انہیں دیتے ہیں. ایک دوسرا اذیت ناک اور شرمناک معاملہ میت کو یورپی ممالک سے پاکستان لانا ہے. کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی میتوں کی سب سے پہلے embalment کی جاتی ہے. جسم سے خون اور باقی مادے نکالنے، اور ان کے جگہ انفیکشن وغیرہ کو روکنے والے کیمیکل داخل کرنے کو embalment کہتے ہیں.
اس عمل کے لیے سب سے پہلے میت کو برہنہ کیا جاتا ہے. پھر گلے کی سائیڈ پر کٹ لگا کر وہاں سے گزرتی ایک بڑی شریان کو ہلکا سا باہر کھینچا جاتا ہے (یہ شریان نبض کی طرح محسوس کی جا سکتی ہے).
اس شریان کو ہلکا سا کاٹ کر اس میں کینولا داخل کیا جاتا ہے اور شریان کو باندھ دیا جاتا ہے تاکہ عمل کے دوران کینولا باہر نہ نکلے.
یہ کینولا دوسری جانب سے ایک مشین سے لگا ہوتا ہے. وہ مشین ایک مائع جسم میں دھکیلتی ہے جو سارے جسم کی رگوں میں پھیل جاتا ہے. خون کو جسم سے باہر نکالنے کے لیے ٹانگ کے جوڑ کے قریب ایک اور بڑی شریان کو کٹ لگایا جاتا ہے.
اس کے بعد پیٹ اور سینے میں کٹ لگا کر نرم اعضاء پنکچر کیے جاتے ہیں اور کیمیکل بھر کر پیٹ اور سینے کو سِیل کر دیا جاتا ہے. منہ بند کرنے کے لیے کبھی کوئی گوند نما چیز لگائی جاتی ہے اور کبھی سلائی کر دی جاتی ہے.
اس عمل کو میں نے اس لیے وضاحت سے لکھا ہے تاکہ سب پڑھنے والے اپنی جذباتیت کو ایک طرف رکھ کر میت کی حد سے بڑھی ہوئی بےحرمتی اور تکلیف پر تھوڑی دیر غور کر لیں.
کیا آخری دیدار اور وطن کی مٹی کی یہ قیمت درست ہے؟ کیا یہ بہت مہنگا سودا نہیں؟ آخر ہم اپنے پیاروں کو اتنی تکلیف کیوں دیتے ہیں؟ صرف اس لیے کہ فلاں آخری بار چہرہ دیکھ لے؟
یا اس لیے کہ لوگ واہ واہ کریں کہ بہت بڑا جنازہ تھا؟
یا اس لیے کہ ہماری بےعزتی نہ ہو جائے کہ جنازے میں بہت تھوڑے لوگ تھے؟


بات بہت سادہ اور سیدھی ہے.
جو شخص دنیا سے چلا جائے اس کے جنازے میں صرف اتنی ہی دیر ہونی چاہیے جتنی قبر کھودنے اور کفن دفن کا انتظام کرنے میں ہوتی ہے. اللہ کا یہی حکم ہے.
اگر کوئی پیارا دور ہے تو وہ صبر کرے اور میت کے لیے دعا اور صدقہ کرے. صرف چہرہ دیکھنے کے لیے میت کو تکلیف نہ دے. جس کی موت جہاں لکھی ہے وہیں آنی ہے.
اگر پردیس میں موت آ جائے تو وہیں قبر بنانا بہتر ہے.
اگر کسی کو بڑا مجمع اکٹھا کرنے کا خبط ہے تو یہ ذہن میں رہے کہ بڑے جنازے صرف دنیا ہی میں گردن اکڑانے کا باعث ہو سکتے ہیں، اللہ کے ہاں ترازو مختلف ہیں.

اللہ تعالیٰ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر کرے اور سب کو موت
کے بعد کی بےحرمتی اور اذیت سے محفوظ رکھے..
آمین یا رب العالمین

عشق عمرانیہ میں مبتلا لوگوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے ۔ سوچ رہا ہوں یہ شائد دنیا کا پہلا ذہنی مریض ہے جس سے انتہاء کی...
06/12/2025

عشق عمرانیہ میں مبتلا لوگوں کی تعداد دن بہ دن بڑھ رہی ہے ۔ سوچ رہا ہوں یہ شائد دنیا کا پہلا ذہنی مریض ہے جس سے انتہاء کی حد تک لوگ محبت کرتے ہیں ۔

مچھلی # اور کینسر  #عام طور پر کوئی بھی قدرتی مچھلی خود سے کینسر نہیں لگاتی۔لیکن کچھ مخصوص حالات میں کچھ مچھلیاں کینسر ک...
30/11/2025

مچھلی # اور کینسر #
عام طور پر کوئی بھی قدرتی مچھلی خود سے کینسر نہیں لگاتی۔
لیکن کچھ مخصوص حالات میں کچھ مچھلیاں کینسر کے خطرے کو بڑھا سکتی ہیں — وہ بھی اس لیے کہ ان میں نقصان دہ کیمیکل، پلوشن یا زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں۔

نیچے صاف اور آسان زبان میں سمجھ لیں👇

⸻

⚠️ 1. فارملین والی مچھلی (Formalin Fish)

یہ سب سے زیادہ خطرناک ہے۔

فارملین ایک ڈیڈ باڈی محفوظ کرنے والا کیمیکل ہے۔
کچھ لوگ مچھلی تازہ دکھانے کے لیے اس میں ڈبوتے ہیں۔

👉 اس سے
• کینسر
• جگر کے مسائل
• سانس کی بیماریاں
ہو سکتی ہیں۔

⸻

⚠️ 2. گندے پانی (سیوریج) کی مچھلی

اگر کوئی مچھلی گٹر، انڈسٹریل ویسٹ یا سائیڈ پانی میں پالی جائے، تو اس میں
• ہیوی میٹلز (آرسینک، لیڈ، مرکری)
• کینسر پیدا کرنے والے کیمیکلز
جمع ہو جاتے ہیں۔

👉 ایسی مچھلی کینسر کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔

اس میں اکثر شامل ہیں:
• ٹلاپیا (Tilapia) — اگر سستا اور گندا فارم ہو
• کارپ / روہو — آلودہ جھیلوں والی
• کیٹ فش (سنگھاڑا، پنگاس) — اگر سیوریج میں پالی جائے

مچھلی خود نقصان نہیں، پانی نقصان کرتا ہے۔

⸻

⚠️ 3. بہت زیادہ Mercury والی مچھلی

یہ مچھلیاں قدرتی طور پر بہت زیادہ مرکری رکھتی ہیں۔
زیادہ اور بار بار کھانے سے خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

ایسی مچھلیاں:
• (شارک)
•
• King
•

عام لوگ کبھی کبھار کھائیں تو ٹھیک ہے، مگر زیادہ اور روزانہ کھانا نقصان دہ ہے۔

⸻

⚠️ 4. ہارمون سے پالی جانے والی مچھلی

کچھ غلط فارم والے تیز وزن بڑھانے والے ہارمون استعمال کرتے ہیں۔

👉 ہارمون والی مچھلی سے
• کینسر
• ہارمونل بیماریاں
کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اکثر متاثرہ مچھلیاں:
• سستی Pangasius / Pungus Fish
• گندے فارم کی Tilapia

⸻

✅ کن مچھلیوں سے کینسر کا کوئی خطرہ نہیں؟
• سالمون (بہتر)
• بلیو فش
• راہو (صاف پانی کی)
• سنگھاڑا / Snakehead (صاف فارم کی)
• جھینگا
• ساردین
• ٹراؤٹ

صاف پانی + بغیر کیمیکل فارم = محفوظ

30/11/2025

�
آج کل کی دنیا میں… سب بدل رہا ہے

کبھی کبھی لگتا ہے جیسے لوگ آسانی سے بدل جاتے ہیں… وعدے ٹوٹ جاتے ہیں… اور رشتوں کی اہمیت بس لفظوں میں رہ گئی ہے۔

لیکن ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں👇
جو آپ کے لیے بنا ہے… وہ کبھی کسی اور کا نہیں ہو سکتا۔
اور جو آپ سے دور ہو رہا ہے… شاید آپ کی زندگی سے بوجھ کم کر رہا ہے۔

💭 زندگی میں ہر موڑ پر سب سے اہم چیز ہے: سکون
اور سکون ہمیشہ سچائی، اچھے دل اور صاف نیت والوں کے پاس رہتا ہے۔

❤️ اگر آپ بھی ایسا محسوس کرتے ہیں… ایک ❤️ ضرور چھوڑیں۔

#زندگی #حقیقت #سچائی #ٹرینڈنگ #احساسات

‏سینیٹر مشتاق احمد خان: مُلّا کی اذان اور، مَلّاح کی اذان اور؟‏تحریر: نجم سہروردی‏سفر پر روانہ ہونے سے پہلے سینیٹر مشتاق...
12/09/2025

‏سینیٹر مشتاق احمد خان: مُلّا کی اذان اور، مَلّاح کی اذان اور؟
‏تحریر: نجم سہروردی

‏سفر پر روانہ ہونے سے پہلے سینیٹر مشتاق احمد خان صاحب سے میری بات ہوئی۔
‏انہوں نے مجھ سے کہا:
‏“نجم بھائی دعا کریں… میں واپس ہی نہ آؤں، شہید ہو جاؤں۔”
‏یہ ایک جملہ نہیں تھا؛ یہ ہماری پوری تہذیبی یادداشت کا گونج دار سناٹا تھا۔
‏عیش و آسائش سے آگے، موت کے معنی تک پہنچنے کی آرزو۔
‏یہ کون کہہ سکتا ہے؟ وہی جس نے زندگی کو انجام نہیں، امانت سمجھا ہو۔
‏مجھے احمد جاوید صاحب کا قطعہ یاد آتا ہےیہ سن کر:
‏گم ہیں تمامی گرد و نواح
‏نائو میں دریا لاد رہا ہے
‏تھکا ہوا ملاح
‏یہ تین مصرعے اس پورے سفر کی سوانح ہیں۔
‏چاروں طرف دھند -- خبریں، بیانیے، دعوے -- سب دھند۔
‏اور بیچ سمندر ایک ناؤ جس پر دریا لدا ہوا ہے؛ جیسے پوری انسانیت کا بوجھ ایک کشتی پر رکھا ہو۔
‏ملاح تھکا ہوا ہے، مگر اس کے ہاتھ کانپتے نہیں۔
‏آج یہ ملاح کون ہے؟ وہ پاکستانی مسافر جو غزہ کی طرف بڑھ رہے ہیں؛ وہ جو دنیا کی ساری تھکن اپنے کندھوں پر رکھ کر بھی ہمت کے چراغ جلائے ہوئے ہیں۔
‏ہم اکثر اپنے بومرز پر طنز کے تیر چلاتے ہیں:
‏انہوں نے ملک بگاڑا، سماج کو غلط مثالیں دیں، خودنمائی کی، تاریخ کی ذمہ داری ہم پر چھوڑ دی -- ہم یہ سب کہتے آئے ہیں۔
‏مگر سینیٹر مشتاق احمد خان نے ملینیئلز، جین زی، جین الفا اور آنے والی جین بیٹا -- سب نسلوں کو یہ دکھا دیا کہ ایک “بومر” ہی پورے ملک کا فرضِ کفایہ ادا کر رہا ہے۔
‏ان کے ہاں کردار ہی دلیل ہے۔
‏اور یہ پیغام صرف جوانوں کے نام نہیں۔
‏یہ اہلِ علم کے لیے بھی ہے جو کتب خانوں اور منبر سے آگے نہیں بڑھتے؛
‏اہلِ دانش کے لیے بھی جو عقل پر نازاں ہیں مگر ظلم کے سامنے ان کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے؛
‏اور اہلِ طاقت کے لیے بھی جو اپنی ہی چار دیواری میں فولاد ہیں اور حقیقی دشمن کے سامنے ریشم کی طرح نرم۔
‏“مُلّا کی اذان اور، مَلّاح کی اذان اور” ایک اذان محض شعار، دوسری اذان عمل کی تکبیر--
‏آج یہ کشتی والے ہی حقیقی مؤذن ہیں۔
‏غزہ کو نقشے میں نہ دیکھیں؛ یہ ہماری بے ضمیری کا آئینہ ہے۔
‏ایک ماں ملبے میں سے اپنی بچی کی گڑیا ڈھونڈتی ہےاور تھوڑی دیر پر اس کی اپنی گڑیا ملبے تلے جاں بحق ہوجاتی ہے؛
‏ایک باپ بیٹے کو دفناتے ہوئے جیب میں چھوٹا سا کھلونا رکھ دیتا ہے -- کہ کہیں آخرت میں بیٹا پوچھ ہی نہ لے،
‏“ابا! میرا کھلونا کہاں بھول آئے؟”
‏ہم یہاں جو فقرے بولتے ہیں -- “محاصرہ، محفوظ راہداری، بین الاقوامی قانون” -- یہ سب الفاظ ہیں، شاید بے معنی الفاظ؛
‏وہاں سانسیں ہیں جو لفظوں سے پہلے ختم ہو جاتی ہیں۔
‏اسی لیے یہ فلوٹیلا لکڑی کے تختوں کی نہیں، ضمیر کے تختوں کی کشتی ہے۔
‏یہ سمندر پر کم، ہمارے باطن پر زیادہ چلتی ہے۔
‏ہر موج پوچھتی ہے:
‏ تم کب تک خاموش رہو گے؟
‏آبلے پڑ گئے زبان میں کیا؟
‏پاکستان کا پرچم ان کشتیوں پر صرف کپڑا نہیں ہوگا؛ وہ دعا ہوگا، وعدہ ہوگا، یا شاید کفن۔
‏جب وہ پرچم غزہ کی طرف جھکے ہوئے آسمان کے نیچے لہرائے گا تو شاید کوئی بچہ آہستہ سے کہے:
‏ “سمندر کے اُس پار بھی لوگ جاگ رہے ہیں۔”
‏اور پھر وہی جملہ میرے کان میں گونجتا ہے:
‏“دعا کریں میں واپس نہ آؤں… شہید ہو جاؤں۔”
‏یہ آرزو کسی شخص کی ذاتی تقدیس نہیں، ایک قوم کے اخلاقی معیار کی رفعت ہے۔
‏یہ اعلان ہے کہ امام حسینؑ کے قافلے والے زندہ ہیں؛
‏وہ لوگ ابھی زندہ ہیں جو بے خطر آتشِ نمرود میں کود سکتے ہیں
‏کیونکہ عشق صرف آنسو نہیں، اقدام بھی ہے؛ صرف نعرہ نہیں، راستہ بھی ہے۔
‏اب سوال ہمارے سامنے ہے، اور سوال سیدھا ہے:
‏ہمارے اہلِ اقتدار کب تک ہمیں یہ بتا کر بہلائیں گے کہ “ہم نمبر ون ہیں؟”
‏کون سا نمبر ون -- تعداد میں، دعووں میں، یا عمل میں؟
‏اسلام کے نام پر ملک بنایا تھا؟ -- ٹھیک ہے؛ اچھا، اسلام کے نام پر ملک نہیں بنایا تھا! – یہ بھی ٹھیک ہے؛
‏مگر کیا انسان ہونے کے ناطے بھی ہم غزہ کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟
‏یا ہمارا انسان ہونا بھی اب مسلمان ہونے کے دکھاوے سے زیادہ نہیں؟
‏انسان وہ ہے جو خوف کے بیچ اٹھے اور مفاد کے خلاف جا کر کھڑا ہو۔
‏خاموشی جرم ہے؛ اور جرم کی سزا صرف اداسی نہیں، ضمیر کی موت ہے۔
‏سینیٹر صاحب اور اُن کے رفقا نے یہ دکھا دیا کہ انسان ہونے کا ایک ہی پیمانہ ہے:
‏ظلم کے مقابلے میں کھڑے ہو جاؤ۔
‏انہوں نے ان ناقدین کو بھی جواب دے دیا جو ان سے کہتے نہیں تھکتے تھے: “ڈی چوک کیوں بند کرتے ہو، غزہ جاؤ” -- سو دیکھ لیجیے، وہ چلے گئے۔
‏اور آپ میں سے کچھ کم ظرفوں نے سینیٹر صاحب، ان کی اہلیہ اور بچوں کو فلسطین کے حق میں احتجاج کے “جرم” پر گرفتار کرنے جیسے سفاک عمل کو دانشورانہ موشگافیوں سے جائز ٹھہرانے کی کوشش کی۔
‏اس ڈوبتے منظرنامے میں پھر وہی قطعہ چراغ کی طرح روشن رہتا ہے:
‏گم ہیں تمامی گرد و نواح
‏نائو میں دریا لاد رہا ہے
‏1/2

27/09/2022

شروع میں مردہ شخص کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ مر گیا ہے۔ وہ خود کو موت کا خواب دیکھتا ہوا محسوس کرتا ہے، وہ خود کو روتا، نہاتا، گرہ لگاتا اور قبر پر اترتا ہوا دیکھتا ہے۔ وہ ہمیشہ خواب دیکھنے کا تاثر رکھتا ہے
جب وہ زمین پر ڈھیر ہو جاتا ہے۔ پھر وہ چیختا ہے لیکن کوئی اس کی چیخ نہیں سنتا، جب ہر کوئی منتشر ہو جاتا ہے اور زمین کے اندر تنہا رہ جاتا ہے، اللہ اس کی روح کو بحال کرتا ہے۔ وہ آنکھیں کھولتا ہے اور اپنے "برے خواب" سے جاگتا ہے۔ پہلے تو وہ خوش اور شکر گزار ہوتا ہے کہ، جس سے وہ گزر رہا تھا وہ صرف ایک ڈراؤنا خواب تھا ، اور اب وہ اپنی نیند سے بیدار ہے۔ پھر وہ اپنے جسم کو چھونے لگتا ہے ، جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہے ، خود سے حیرت سے سوال کرتا ہے "میری قمیض کہاں ہے
"میں کہاں ہوں ، یہ جگہ کہاں ہے ، ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا کیوں ہے ، میں یہاں کیا کر رہا ہوں؟" پھر اسے احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ زیر زمین ہے ، اور جو کچھ وہ محسوس کر رہا ہے وہ خواب نہیں ہے، اسے احساس ہوتا ہے کہ وہ واقعی مر گیا ہے۔
وہ ہر ممکن حد تک زور سے چیختا ہے ، پکارتا ہے: اس کے رشتہ دار جو اس کے مطابق اسے بچا سکتے تھے:
اسے کوئی جواب نہیں دیتا۔ وہ پھر یاد کرتا ہے کہ اس وقت اللہ ہی واحد امید ہے۔ وہ اس کے لیے روتا ہے اور اس سے معافی مانگتے ہوئے اس سے التجا کرتا ہے۔
"یا اللہ! یا اللہ! مجھے معاف کر دے یا اللہ ...... !!!
وہ ایک ناقابل یقین خوف سے چیختا ہے جو اس نے اپنی زندگی کے دوران پہلے کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔
اگر وہ ایک اچھا انسان ہے تو مسکراتے ہوئے چہرے والے دو فرشتے اسے تسلی دینے کے لیے بیٹھ جائیں گے ، پھر اس کی بہترین خدمت کریں گے،•
اگر وہ برا شخص ہے تو دو فرشتے اس کے خوف کو بڑھا دیں گے اور اس کے بدصورت کاموں کے مطابق اسے اذیت دیں گے۔ -
اے اللہ مجھے اور میرے ماں ، باپ ، بیوی ، بچوں اور میرے خاندان اور دوستوں و عزیر رشتے داروں کے تمام صغیرہ و کبیرہ گناہ معاف فرما دیں 🙏🏻
اور ہمیں ایمان پر موت نصیب فرمانا..۔۔۔😭😭😭
#آمین #یارَبَّ_الْعٰالَمین

13/10/2021

Address

Al Faisaliah
00966

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عجايب و غرائب posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to عجايب و غرائب:

Shortcuts

Share