14/05/2026
*سورۃ الزخرف، آیت 15*
*آیت:*
*وَ جَعَلُوۡا لَہٗ مِنۡ عِبَادِہٖ جُزۡءًا ؕ اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ*
*ترجمہ:* "اور انہوں نے اللہ کے بندوں میں سے اس کا ایک حصہ بنا دیا۔ بے شک انسان کھلا ناشکرا ہے۔"
یہ آیت مشرکینِ عرب کے عقیدے پر رد ہے۔ وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں کہتے تھے اور کہتے تھے کہ اللہ اور جنات کے درمیان رشتہ داری ہے - نعوذباللہ۔
یعنی اللہ کو اپنی مخلوق کا "جز" بنانا، اسے بیٹے، بیٹیاں، رشتے دار دینا، یہی "جزءًا" بنانا ہے۔
اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ان لوگوں نے اپنی جہالت میں اللہ کے بندوں یعنی فرشتوں، عیسیٰ علیہ السلام اور دوسری مخلوق کو اللہ کا حصہ، بیٹا، بیٹی بنا دیا۔
حالانکہ اللہ *احد، صمد* ہے۔ نہ وہ کسی کا باپ ہے، نہ کسی کا بیٹا، نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔
"اِنَّ الۡاِنۡسَانَ لَکَفُوۡرٌ مُّبِیۡنٌ"*
اللہ فرماتے ہیں کہ انسان کھلا ناشکرا ہے۔
یعنی اللہ نے اسے پیدا کیا، رزق دیا، عقل دی، لیکن وہی انسان اللہ کی نعمتوں کا انکار کرکے اس کے ساتھ شرک کرتا ہے۔ یہ کھلی ناشکری ہے۔
یہ آیت *شرک اور اللہ پر اولاد منسوب کرنے* کی تردید کرتی ہے اور انسان کو اس کی *ناشکری* یاد دلاتی ہے۔
توحید کا سبق دیتی ہے کہ اللہ بے نیاز ہے، اس کا کوئی شریک، بیٹا، بیٹی نہیں۔