عوام کی آواز

عوام کی آواز We have created this page for you to share your thoughts, comments, complaints. We do it for humanity only without any fee.

Share with us so that we can reach your voice to the highest government institutions and get rid of your fraud.

کہانی نمبر: 6ایک دن صبح سویرے وہ نکلا اور سمندر کے کنارے پہنچ کر جال پھیلایا اور اسے پانی میں ڈال دیا۔ پھر جال کے کنارے ...
18/08/2026

کہانی نمبر: 6

ایک دن صبح سویرے وہ نکلا اور سمندر کے کنارے پہنچ کر جال پھیلایا اور اسے پانی میں ڈال دیا۔ پھر جال کے کنارے اکٹھے کر کے کھینچنے لگا تو وہ بہت بھاری تھا۔ مچھیرے کو خوشی ہوئی اور بولا:
"شاید میں نے بہت سی مچھلیاں پکڑ لی ہیں۔"

لیکن جب جال باہر نکالا تو اس میں ایک مرا ہوا گدھا تھا۔ یہ دیکھ کر مچھیرے کو دکھ ہوا اور کہنے لگا:
کیا یہ آج میری روزی کا حصہ ہے؟"

اس نے گدھے کو جال سے نکالا، جال درست کیا اور دوبارہ پھینکا۔ دوسری بار جال کھینچا تو اس میں مٹی اور کنکریوں سے بھرا ہوا ایک بڑا مٹی کا مٹکا نکلا۔ مچھیرے نے افسوس کیا اور کہا:
"اے پروردگار! روزی تیرے ہاتھ میں ہے، اور میرا حال یہ ہے!"

تیسری بار جال ڈالا تو اس میں کانٹے اور شیشہ نکلے۔ مچھیرے کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور کہنے لگا:
"یا رب! تو جانتا ہے کہ میں دن میں صرف چار بار جال ڈالتا ہوں، اور یہ تین بار ضائع ہو گئیں!"

پھر اس نے چوتھی اور آخری بار جال ڈالا۔ اس بار جال اتنا بھاری تھا کہ بڑی مشقت کے بعد ہی اسے باہر نکال سکا۔ جب جال کھولا تو اس میں ایک پیتل کا قمقمہ (بوتل) تھا جس پر حضرت سلیمانؑ کی مہر لگی ہوئی تھی۔

مچھیرے کو یہ دیکھ کر خوشی ہوئی اور کہنے لگا:
"میں اسے بیچ دوں گا اور اس کی قیمت سے فائدہ اٹھاؤں گا۔"

اس نے قمقمہ اٹھایا، محسوس کیا کہ یہ بہت بھاری ہے، تو کہا:
"چلو اسے کھول کر دیکھوں کہ اس کے اندر کیا ہے۔"

اس نے چھری سے مہر توڑی، تو قمقمے سے ایک گھنا دھواں نکلا جو آسمان تک پہنچ گیا۔ پھر وہ دھواں جمع ہو کر ایک دیو (عفریت) کی شکل میں ڈھل گیا، جس کا سر بادلوں میں اور پاؤں زمین پر تھے، اور اس کی آنکھیں انگاروں کی طرح دہک رہی تھیں۔

عفریت نے کہا:
"ہاہاہا میں اس قمقمے میں ایک ہزار آٹھ سو سال تک قید رہا!"

پھر وہ مچھیرے کی طرف دیکھ کر بولا:
"اے مچھیرے! اب اپنی موت کی خوشخبری سن!"

مچھیرے نے کہا:
"تم مجھے کیوں قتل کرنا چاہتے ہو، جبکہ میں نے ہی تمہیں قمقمے سے آزاد کیا ہے؟"

عفریت نے کہا:
"میں نے ارادہ کیا تھا کہ جو مجھے اس قید سے نکالے گا اسے نہایت بری طرح قتل کر دوں گا، کیونکہ میں صدیوں تک ہر آنے والے کو دولت اور بادشاہت دینے کی دعا کرتا رہا، لیکن کسی نے مجھے آزاد نہ کیا۔ غصے میں آکر میں نے قسم کھائی کہ جو بھی مجھے آزاد کرے گا، میں اسے مار ڈالوں گا اور اس کا چہرہ تک نہ دیکھوں گا"
جب مچھیرے نے عفریت کی بات سنی تو اس سے کہا:
"اللہ کے لیے مجھے معاف کر دو اور قتل نہ کرو، تم نے بھلائی کا بدلہ برائی سے دیا ہے۔"

عفریت نے کہا:
"تمہیں ضرور قتل کرنا ہے، اپنی موت کا طریقہ خود چن لو۔"

مچھیرے نے کہا:
"اگر قتل ہونا ہی ہے تو مجھے اتنی مہلت دو کہ میں اپنے اہلِ خانہ کو اپنی حالت کے بارے میں اطلاع دے دوں۔"

عفریت نے کہا:
"تمہیں صرف ایک گھڑی کی مہلت ہے، پھر میں تمہیں مار ڈالوں گا۔"

مچھیرے نے دل میں سوچا:
"میں ایک کمزور آدمی ہوں اور یہ دیو طاقتور ہے، مجھے اس پر کوئی ترکیب چلانی ہو گی۔"

پھر مچھیرے نے عفریت سے کہا:
"اللہ کے واسطے سچ بتاؤ، کیا واقعی تم اس قمقمے میں تھے؟"

عفریت نے کہا: "ہاں، میں اسی میں قید تھا۔"

مچھیرے نے کہا: "میں تب تک یقین نہیں کروں گا جب تک اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لوں۔"

یہ سن کر عفریت غصے میں آیا، زور سے چیخا اور فوراً دھوئیں میں تبدیل ہو کر سارا کا سارا دوبارہ قمقمے میں داخل ہو گیا۔ مچھیرے نے جب یقین کر لیا کہ وہ اندر آ چکا ہے تو فوراً ڈھکن اٹھا کر قمقمے پر لگا دیا اور بلند آواز سے کہا:
"اب تو دوبارہ اپنے قید خانے میں واپس چلا گیا ہے اور میں کبھی تجھے آزاد نہیں کروں گا!"

قمقمے کے اندر سے عفریت گڑگڑانے لگا اور کہنے لگا:
"اے مچھیرے! مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں وعدہ کرتا ہوں کہ تمہیں مالدار بناؤں گا اور تمہارے ساتھ بھلائی کروں گا!"

مچھیرے نے کہا:
"اے اللہ کے دشمن! تم جھوٹ بولتے ہو! ابھی تو تم میری موت کے درپے تھے اور اب میری بھلائی چاہتے ہو؟"

عفریت نے کہا:
"مجھے چھوڑ دو، میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ نہ تو تمہیں نقصان پہنچاؤں گا بلکہ تمہیں فائدہ دوں گا، یہاں تک کہ تم سب سے زیادہ دولت مند بن جاؤ گے۔"

مچھیرے نے سوچا اور کہا:
"مجھے اللہ کا عہد اور پکا وعدہ دو کہ تم اپنی بات پوری کرو گے۔"

عفریت نے سب عہد و پیمان کیے۔ تب مچھیرے نے قمقمے کا ڈھکن ہٹا دیا۔ دھواں نکل کر آسمان کی طرف پھیلا اور پھر جمع ہو کر دیو کی شکل میں آ گیا۔ عفریت نے مچھیرے سے کہا:
"میرے ساتھ آؤ تاکہ میں تمہیں زمین کے خزانے دکھاؤں۔
عفریت مچھیرے کو لے کر چل پڑا، یہاں تک کہ وہ ایک عظیم پہاڑ کے پاس پہنچے، اور اس کے بیچ میں ایک بڑی جھیل تھی۔ عفریت نے کہا:
"اپنا جال اس جھیل میں ڈال اور مچھلیاں پکڑ۔"

مچھیرے نے جال ڈالا اور جب اسے کھینچا تو اس میں چار مچھلیاں نکلیں: ایک سفید، ایک سرخ، ایک نیلی اور ایک زرد۔ مچھیرے کو ان مچھلیوں کے رنگ دیکھ کر سخت تعجب ہوا۔

عفریت نے کہا:
"یہ مچھلیاں بادشاہ کے پاس لے جا، وہ تجھے بڑا انعام دے گا۔ یاد رکھ، میں نے تجھے بچایا ہے، لہٰذا اپنے وعدے پر قائم رہنا اور مجھے کبھی الزام نہ دینا۔"

پھر عفریت نے اسے رخصت کیا اور نگاہوں سے غائب ہو گیا۔

مچھیرے نے مچھلیاں اٹھائیں، جلدی سے اپنے گھر پہنچا، اور ان کے رنگوں پر حیران ہوتا رہا۔ پھر وہ انہیں لے کر بادشاہ کے محل میں گیا۔ بادشاہ نے جب مچھلیاں دیکھیں تو تعجب سے چیخ اٹھا اور فوراً باورچی کو حکم دیا کہ انہیں تل کر تیار کرے۔

باورچن، جو کہ ایک حسین کنیز تھی، مچھلیاں لے کر انہیں دھو کر تیل میں تلنے لگی۔ جیسے ہی مچھلیاں لال ہونے لگیں، باورچی خانے کی دیوار پھٹ گئی اور اس میں سے ایک سفید رنگ کی حسین دوشیزہ باہر نکلی، جو سبز لباس میں ملبوس تھی اور اس کے سر پر جواہرات جڑا ہوا تاج تھا۔

وہ کڑاہی کے قریب آئی اور مچھلیوں کو چمچ سے مار کر بولی:
"اے مچھلیو! کیا تم اپنے وعدے پر قائم ہو؟"

مچھلیوں نے اپنے سر کڑاہی سے اوپر اٹھا کر اور دم ہلا کر صاف زبان میں کہا:
"ہاں، ہاں، اگر تم لوٹو تو ہم لوٹیں، اگر تم وعدہ نبھاؤ تو ہم بھی نبھائیں، اور اگر تم چھوڑ دو تو ہم تمہیں چاہیں۔"

یہ کہہ کر کڑاہی الٹ گئی اور وہ دوشیزہ اسی دیوار میں غائب ہو گئی، جیسے آئی تھی۔ باورچن خوف سے بے ہوش ہو کر گر پڑی۔

بادشاہ نے جب یہ سارا واقعہ سنا تو سخت حیران ہوا اور مچھیرے کو طلب کر کے اس سے مچھلیوں کی حقیقت پوچھی۔ مچھیرے نے عفریت اور جھیل کے بارے میں سارا حال سنا دیا۔

بادشاہ بولا:
"مجھے ضرور اس جھیل کو اپنی آنکھوں سے دیکھنا ہوگا

بادشاہ نے حکم دیا کہ مچھیرے کو اس کے سامنے پیش کیا جائے اور اس سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں ضرور تیرے ساتھ اس جھیل تک جاؤں گا اور اپنی آنکھوں سے حقیقت معلوم کروں گا۔"

پھر اس نے اپنے لیے گھوڑوں کا انتظام کرنے کا حکم دیا اور مچھیرے کے ساتھ روانہ ہوا۔ وہ پہاڑ تک پہنچے اور وہاں سے آگے جھیل تک آئے۔ بادشاہ نے جب جھیل کو دیکھا تو اس کے پانی کی صفائی اور خوبصورتی پر حیران رہ گیا، اور اس بات پر بھی کہ وہ پہاڑ کے وسط میں ہے اور اس میں کسی طرف سے پانی کا کوئی راستہ نہیں۔

بادشاہ نے جھیل کے کناروں کا جائزہ لینے کا حکم دیا، تو وہ اس کے گرد گھومے۔ انہوں نے دیکھا کہ جھیل کے کنارے چار پتھریلے ٹیلے ہیں، ہر ٹیلے کا رنگ ان چار مچھلیوں کے رنگوں میں سے ایک ہے۔ بادشاہ کا تعجب اور بڑھ گیا اور اس نے مچھیرے سے کہا:
"اللہ کی قسم! میں اس جگہ سے ہرگز نہیں جاؤں گا جب تک مجھے اس جھیل اور ان مچھلیوں کی حقیقت معلوم نہ ہو۔"

اس نے حکم دیا کہ اس کے لیے خیمے نصب کیے جائیں، چنانچہ خیمے نصب ہو گئے اور وہ جھیل کے آس پاس مقیم ہو گیا۔

رات کے وقت جب بادشاہ اکیلا بیٹھا تھا، اچانک ایک نوجوان اس کی طرف آیا، جو لمبا اور اداس نظر آتا تھا۔ اس کے جسم کا اوپری حصہ انسان کا اور نچلا حصہ پتھر کا تھا۔

بادشاہ نے جب اسے دیکھا تو اٹھ کر اس سے لپٹ گیا اور کہا:
"اے نوجوان! تم کون ہو، تمہاری یہ عجیب حالت کیسے ہوئی، اور اس جھیل اور ان رنگ برنگی مچھلیوں کی کیا حقیقت ہے؟"

یہ سن کر نوجوان رونے لگا اور کہنے لگا:
"اے بادشاہ! میری ایک عجیب کہانی ہے، اگر اسے سوئیوں سے بینائی کے پردوں پر لکھا جائے تو وہ نصیحت لینے والوں کے لیے عبرت بنے۔

میں ایک عظیم شہر کا بادشاہ تھا۔ میرا ایک چچا زاد بھائی تھا جس نے میرے ساتھ غداری کی، میرا تخت چھین لیا اور میری سلطنت پر قبضہ کر لیا۔ اس نے میرے شہر کے تمام لوگوں پر جادو کر دیا اور انہیں ان مچھلیوں میں بدل دیا جو تم اس جھیل میں دیکھ رہے ہو۔ اور مجھ پر ایسا جادو کیا کہ میرے جسم کا آدھا حصہ پتھر بن گیا…"

پھر نوجوان بادشاہ کو اپنی داستان سنانے لگا اور کہا:
"کل میں تمہیں اپنی پوری کہانی سناوں گا، کیونکہ میرے دل میں ایسا غم بھرا ہے کہ اس وقت بولنے کی ہمت نہیں۔"

جب صبح ہوئی تو بادشاہ اس جادو زدہ نوجوان کے قریب بیٹھا اور اس سے کہا:
"اپنی بات پوری کرو اور مجھے اپنی کہانی سناؤ کہ یہ مصیبت تم پر اور تمہارے شہر والوں پر کیسے آئی۔"

نوجوان نے کہا:
"اے خوش قسمت بادشاہ! جان لو کہ میرے والد اس شہر کے بادشاہ تھے اور چالیس برس تک حکومت کرتے رہے۔ ان کے انتقال کے بعد میں بادشاہ بنا اور اپنی چچا زاد بہن سے شادی کی۔ لیکن وہ میرے ایک اور چچا زاد سے محبت کرتی تھی اور میرے ساتھ خیانت کرتی تھی۔ پھر اس نے مجھ پر جادو کیا اور میرا آدھا جسم پتھر بنا دیا، اور میرے شہر کے سب لوگوں کو ان مچھلیوں میں بدل دیا جنہیں تم جھیل میں دیکھتے ہو۔

اس کی کہانی یہ ہے کہ وہ دن کے وقت تو میرے پاس رہتی تھی لیکن رات کو مجھ سے غائب ہو جاتی۔ آخرکار میں نے جان لیا کہ وہ اپنے عاشق کے پاس جاتی ہے۔ ایک دن میں نے اس کا پیچھا کیا تو وہ ایک عظیم الشان زیرِ زمین محل میں داخل ہوئی۔ میں بھی اس کے پیچھے گیا تو دیکھا کہ اس کا عاشق سونے کے تخت پر سو رہا ہے۔

جب اس نے مجھے دیکھا تو جادو کے زور پر مجھے مارا اور میرا آدھا جسم پتھر کا ہو گیا۔ پھر وہ مجھے اپنے محل لے آئی اور شہر کے لوگوں کو بتا دیا کہ میں بیمار ہوں۔ اس کے بعد اس نے جادو کر کے میرے شہر کے تمام لوگوں کو ان مچھلیوں میں بدل دیا جو تم جھیل میں دیکھ رہے ہو۔"

بادشاہ نے پوچھا:
"وہ اب کہاں ہے؟"

نوجوان نے کہا:
"وہ زیرِ زمین محل میں ہے اور ہر رات وہاں آتی ہے۔"

بادشاہ نے کہا:
"اگر میں تمہیں اس جادو سے نجات دلاؤں تو کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں اسے قتل کر دوں؟"

نوجوان نے کہا:
"وہ تمہاری ہے، اور اس کے عاشق کو بھی قتل کر دینا۔"

بادشاہ نے کہا:
"مجھے اس محل کا راستہ دکھاؤ۔"

نوجوان اسے لے کر ایک عظیم دروازے تک پہنچا۔ بادشاہ اکیلا اندر گیا تو دیکھا کہ ایک شاندار ہال میں ریشمی قالین بچھے ہیں، اور ایک سنہری تخت پر اس عورت کا عاشق پڑا ہے، جو کوڑوں کی مار سے زخمی ہے، اور وہ عورت اس کے سرہانے کھڑی کہہ رہی تھی:
"صبر کرو، میں جلد ہی تمہیں اس جادو سے نجات دوں گی۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

کیا آپ آنے والا قسط پڑھنا پسند کریں گے کمینٹ میں جواب دیں
اگر کہانی پسند آئی تو لازمی دوستوں کے ساتھ شئیر کریں
نوٹ:
اگر اس پوسٹ پر 100شئیر نہیں آتے تو ہم سمجھ لینگے کہ یہ کہانی آپکو پسند نہیں آرہی اور ہم اس سلسلے کو یہی پر ختم کرینگے شکریہ

کیا آپ آنے والا قسط پڑھنا چاہتے ہیں تو ہمیں فالو کریں پچھلی اقساط کو پڑھنے کے لئے پیج چیک کریں اگر کہانی پسند آرہا ہوں تو دوستوں کے ساتھ ضرور شیئر کریں اپنی تجاویز اور آراء کے بارے میں کمینٹ میں بتائیں شکریہ

اس بچے کا نام محمد احمد ہے اور والد کا نام عبدالرحمن ہے۔ قوم راجپوت ہے۔ لاہور سبزہ زار میں انکی رہائش ہے۔احمد 3 اپریل 20...
16/08/2026

اس بچے کا نام محمد احمد ہے اور والد کا نام عبدالرحمن ہے۔
قوم راجپوت ہے۔ لاہور سبزہ زار میں انکی رہائش ہے۔
احمد 3 اپریل 2025 کو شام 5 بجے گھر سے سامان لینے نکلا تھا آج تک واپس نہیں لوٹا۔
احمد کے والدین بہن بھائی سب کی زندگیاں وہیں رک سی گئی ہے۔ ڈیڑھ سال سے وہ ایک ایک گھڑی گن کر گزار رہے ہیں۔
گھر کا لاڈلا بچہ گم ہونے سے گھر میں آج تک سناٹا چھایا ہوا ہے۔ماں راتوں کو اٹھ اٹھ کر روتی ہے۔ معمولی دستک سن کر ماں دروازے کی طرف لپک پڑتی ہے کہ شاید احمد لوٹ آیا ہوگا۔
ماں نے آپ سب سے دست بستہ اپیل کی ہے کہ خدارا میرا لخت جگر ڈھونڈنے میں میری مدد کریں۔
آپکا ایک شئیر احمد کی والدہ کی زندگی لوٹانے کا سبب بن سکتا ہے۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03119200619
16 Aug 2026

"میں اللہ کے حکم سے پوری کوشش کروں گی، لیکن اس کے بعد بھی ایک شرط ہوگی، جسے آپ کو قبول کرنا ہوگا۔"یہ کہہ کر وہ جادو توڑن...
14/08/2026

"میں اللہ کے حکم سے پوری کوشش کروں گی، لیکن اس کے بعد بھی ایک شرط ہوگی، جسے آپ کو قبول کرنا ہوگا۔"
یہ کہہ کر وہ جادو توڑنے کی تیاری کرنے لگی۔
چرواہے کی بیٹی نے ایک برتن میں پاک پانی لیا پانی پر کچھ دعائیں پڑھیں اور پانی پر دم کیا۔
پھر وہ بچھڑے کے قریب گئی اور بولی:
"اگر تم واقعی اللہ کے حکم سے انسان تھے اور کسی ظالم نے تم پر جادو کیا ہے تو اپنے اصلی روپ میں واپس آ جاؤ۔"
یہ کہتے ہوئے اس نے پانی بچھڑے پر چھڑک دیا۔
اچانک ایک عجیب منظر سامنے آیا۔ بچھڑے کا جسم کانپنے لگا، اس کی شکل بدلنے لگی، اور چند لمحوں میں وہاں ایک خوبصورت نوجوان کھڑا تھا۔
وہ نوجوان فوراً اپنے باپ کے قدموں میں گر پڑا۔
بوڑھا تاجر خوشی سے زار و قطار رونے لگا۔ اس نے اپنے بیٹے کو سینے سے لگا لیا اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے برسوں بعد اس کی اولاد اسے واپس عطا کر دی۔
اس کے بعد نوجوان نے اپنے باپ کو بتایا کہ اس کی سوتیلی ماں نے حسد کی وجہ سے جادو کر کے اسے بچھڑا اور اس کی ماں کو گائے بنا دیا تھا۔
تاجر کو اب اپنی بیوی کے ظلم کا یقین ہو گیا۔

تاجر نے چرواہے کی بیٹی سے کہا:
"تم نے مجھ پر بہت بڑا احسان کیا ہے۔ اب مجھے بتاؤ، اس ظالم عورت کے ساتھ کیا کیا جائے؟"
چرواہے کی بیٹی نے جواب دیا:
"ظلم کا بدلہ ضرور ملنا چاہیے، لیکن سزا اتنی ہو کہ وہ اپنی غلطی پر ہمیشہ پچھتائے۔"
اس نے دوبارہ پانی پر دم کیا اور تاجر کی بیوی کو اپنے سامنے بلایا۔
جب وہ آئی تو چرواہے کی بیٹی نے کچھ پڑھ کر اس پر پانی چھڑکا اور کہا:
"جس طرح تم نے بے گناہوں پر ظلم کیا، اسی طرح اب تم ہرنی بن کر اپنی باقی زندگی گزارو۔"
یہ کہتے ہی وہ عورت ایک خوبصورت ہرنی میں تبدیل ہو گئی۔
تاجر نے اپنے بیٹے کی خوشی میں چرواہے کی بیٹی کو بہت سا مال و دولت دیا اور بعد میں اپنے بیٹے کا نکاح بھی اس سے کر دیا۔
جہاں تک اس ہرنی کا تعلق ہے، وہ یہی میری سابقہ بیوی ہے، جسے میں اپنے ساتھ لیے پھرتا ہوں تاکہ وہ اپنے ظلم کو ہمیشہ یاد رکھے۔
پہلے بوڑھے نے اپنی داستان ختم کر کے دیو سے کہا:
"اے دیو! کیا میری کہانی عجیب نہیں تھی؟ اگر تمہیں یہ پسند آئی ہو تو اپنے وعدے کے مطابق اس تاجر کا ایک تہائی قصور معاف کر دو۔"
دیو نے سر ہلایا اور کہا:
"واقعی تمہاری داستان نہایت حیرت انگیز ہے۔ میں اپنے وعدے کے مطابق اس تاجر کا ایک تہائی جرم معاف کرتا ہوں۔"
اب تاجر کی جان کا دو تہائی حصہ باقی رہ گیا تھا،

جب پہلے بزرگ نے اپنی کہانی مکمل کی، تو ایک دوسرا بزرگ آیا۔ اس کے ساتھ دو خوبصورت سیاہ کُتّیاں تھیں۔ اس نے کہا: "اے جن! اگر میں تجھے ایسی کہانی سناؤں جو پہلے سے بھی عجیب ہو، تو کیا تاجر کو ایک تہائی معافی دے گا؟"

جن نے کہا: "اگر کہانی عجیب ہوئی تو معاف کر دوں گا۔"

بزرگ نے کہنا شروع کیا:

"میں تین بھائیوں میں سب سے بڑا ہوں۔ ہم سب نے الگ الگ تجارت شروع کی۔ میں نے اپنے مال سے بہت نفع کمایا اور وطن واپس آ گیا۔ کچھ عرصہ بعد میرے دو بھائی بھی آئے، لیکن انہوں نے اپنا سارا مال برباد کر دیا۔ میں نے اپنے منافع سے ان کی مدد کی۔

پھر ہم تینوں مل کر سمندر پار تجارت کے لیے نکلے۔ ایک جزیرے پر ہماری کشتی ٹوٹ گئی، اور بمشکل ہم بچے۔ ایک شہر میں داخل ہوئے جہاں ایک جادوگرنی عورت نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ اس نے میرے بھائیوں کو خوشنما عورتیں دکھا کر ان سے شادی کرا دی۔

لیکن وہ عورتیں دراصل جن تھیں۔ کچھ عرصے بعد، جادوگرنی ناراض ہوئی اور میرے بھائیوں کو سیاہ کُتّے بنا دیا۔ میں بہت رویا، معافی مانگی۔ تب اس نے کہا کہ اگر تم ایک سال تک اپنے بھائیوں کی خدمت کرو، تو شاید نجات ملے۔"

یہ کُتّے جو تم دیکھ رہے ہو، میرے وہی بھائی ہیں، جنہیں میں سال بھر سے ساتھ لیے پھرتا ہوں تاکہ نجات کی کوئی صورت نکلے۔"

جن نے کہا: "بے شک یہ عجیب داستان ہے۔ تاجر کو ایک تہائی اور معافی دی جاتی ہے۔"

جب دوسرے بزرگ کی کہانی ختم ہوئی، تو تیسرا بزرگ آگے بڑھا۔ اس کے ساتھ ایک خچر تھا۔ اس نے جن سے کہا: "اگر میں تمہیں ایک کہانی سناؤں جو ان دونوں سے بھی عجیب ہو، تو کیا تاجر کو پوری معافی دے گا؟"

جن نے کہا: "اگر تیری کہانی واقعی حیرت انگیز ہوئی، تو میں تاجر کو آزاد کر دوں گا۔"

بزرگ نے کہانی شروع کی:

"میں ایک تاجر تھا، اور میرا نکاح ایک ایسی عورت سے ہوا جو بظاہر نہایت نیک اور فرمانبردار لگتی تھی۔ لیکن وہ خفیہ طور پر جادو سیکھتی تھی۔ ایک دن میں نے اسے کسی غیر مرد کے ساتھ رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ میں نے سزا دینے کا ارادہ کیا، مگر وہ جادو پڑھ کر مجھے خچر میں بدلنے لگی۔

اتفاقاً میرا ایک خادم وہاں موجود تھا، جو خود بھی کچھ جادو جانتا تھا۔ اس نے کچھ پڑھ کر مجھے بچا لیا اور کہا: 'یہ عورت ایک خطرناک جادوگرنی ہے، تمہیں اس سے بچنا ہوگا۔'

میں نے اس جادوگرنی کو سزا دینے کے لیے خود بھی جادو کا علم سیکھا۔ کچھ عرصے بعد میں نے موقع پا کر اسے خچر میں بدل دیا، اور تب سے وہ میری خدمت کرتی ہے۔ یہ خچر جو تم میرے ساتھ دیکھ رہے ہو، دراصل میری وہی بیوی ہے۔"

جن حیران ہوا اور کہنے لگا: "یہ داستان واقعی انوکھی ہے۔ میں اپنے وعدے کے مطابق تاجر کو مکمل معافی دیتا ہوں۔"

یوں جن غائب ہو گیا، جیسے جن غائب ہوا تو تینوں بزرگوں نے تاجر سے پوچھا تم کون ہو
تاجر بولا:
میں قدیم شہر یونان کی ایک گاؤں میں ایک غریب ملاح اپنی محنت مزدوری سے گزر بسر کرتا تھا ۔دن بھر دریا پر کشتی چلا کر تھوڑی سی کمائی کرتا اور شام کو اپنے چھوٹے سے مکان میں آکر آرام کرتا ۔ غربت کی وجہ سے اکثر اُداس رہتا مگر دل کا صاف اور مہمان نواز تھا۔
ایک دن شام کے وقت جب دریا سے واپس آیا تو ساحل پر نہایت حسین عورت میرے انتظار میں کھڑی تھی عورت نے مجھ سے کہا
اے ملاح!میں ایک مصیبت زدہ عورت ہوں، دشمنوں سے جان بچا کر بھاگی ہوں۔ کیا تم مجھے اپنے مکان میں پناہ دو گے؟میں تمہیں اس احسان کا بھر پور صلہ دوں گی."

ملاح نے اسے خوشی خوشی اپنے گھر لے لیا۔ کچھ دنوں بعد اس نے عورت سے شادی کر لی۔ شادی کے بعد وہ عورت اکثر کسی کمرے میں تنہا بند ہو جاتی اور گھنٹوں تک باہر نہ آتی۔

ایک دن ملاح نے تجسس سے دروازے کی درز سے جھانکا تو دیکھا کہ عورت نے ایک بڑے سانپ کو بلایا ہوا ہے اور اس سے گفتگو کر رہی ہے۔ ملاح خوفزدہ ہو گیا، مگر خاموش رہا۔

چند دن بعد اس عورت کی طرح تین خوبصورت لڑکے میرے گھر میں پناہ لینے آئے۔
میں نے اسے اپنے گھر میں مہمان بنایا اور اُن کے لئے کھانے کی بندوبست کرنے کیلئے گھر سے باہر نکل گیا۔میرے جانے کے بعد عورت نے انہیں کمرے میں بلا کر جادو کے زور سے اندھا کر دیا۔ جب میں واپس آیا اور یہ منظر دیکھا تو احتجاج کیا تو عورت نے کہا: "میں ایک جن کی قید سے بھاگی ہوئی ہوں۔ اگر تم نے راز کھولا تو تمہیں بھی اندھا کر دوں گی۔"

میں نے ڈر کر خاموشی اختیار کر لی، مگر دل میں ارادہ کیا کہ اس عورت سے جان چھڑائے۔ ایک دن ساحل پر اداس بیٹھا تھا کہ ایک اجنبی بوڑھا آیا اور اُداس ہونے کی وجہ پوچھ لی میں نے ساری کہانی بتائی بوڑھے نے میری بات سن کر میرے گھر جانے کی خواہش ظاہر کردی جیسے میں اور اجنبی گھر میں داخل ہوئے اور اس عورت نے ہمیں دیکھا ایک زوردار چیخ مارکر اجنبی پر خملہ آور ہوئی اجنبی نے پانی پر کچھ دم کر کے پانی ان کے اوپر ڈال دی ایک دم آگ کی لپیٹ میں عورت اور سانپ آیا عورت اور سانپ دونوں کو جلا کر راکھ کر دیا گیا ، اور تینوں اندھے سیاحوں کی بینائی واپس ہوئی،

بزرگ اجنبی نے سیاحوں کی طرف اشارہ کیا اور بولا
ان کو جانتے ہوں؟
یہ خلیفہ ہارون الرشید کے وزیر جعفر برمکی اور جلاد مسرور ہے

بغداد میں ایک رات خلیفہ ہارون الرشید اپنے وزیر جعفر برمکی اور جلاد مسرور کے ساتھ شہر کا گشت کر رہا تھا تاکہ عوام کی حالت جان سکے۔ اچانک وہ ایک مکان سے ہنسی اور گانے کی آوازیں سن کر رک گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے اجازت ملی۔

اندر داخل ہو کر دیکھا تو تین اندھے سیاح، ایک خوبصورت لڑکی اور اس کی دو بہنیں محفل سجا کر بیٹھی تھیں۔ خلیفہ نے عام آدمی کے لباس میں ان سے کہا:

> "ہم مسافر ہیں، رات بسر کرنے کو جگہ چاہتے ہیں۔"

میزبان لڑکی نے کہا:

> "شرط یہ ہے کہ جو کچھ یہاں دیکھو گے، اس کے بارے میں کوئی سوال نہ کرو گے۔"

خلیفہ نے شرط مان لی۔ محفل میں قہقہے اور کہانیاں چلتی رہیں۔ تینوں اندھے سیاحوں نے اپنی اپنی کہانیاں سنائیں:

پہلا سیاح: ایک سلطنت کا شہزادہ تھا جو شکار کے دوران ایک جادوئی باغ میں پہنچا۔ باغ میں ایک پری نما لڑکی ملی جس سے محبت ہو گئی، لیکن باغ ایک طاقتور دیو کا تھا۔ دیو نے کہا: "تم نے میری محبوبہ کو دیکھا، اس کی سزا اندھاپن ہے" اور اس کی دونوں آنکھیں نکال دیں۔

دوسرا سیاح: ایک تاجر کا بیٹا تھا جو سمندر پار ایک جزیرے پر ایک حسین عورت سے ملا جو دیو کی محبوبہ تھی۔ اس پر فریفتہ ہوا، لیکن دیو واپس آ کر غضبناک ہوا اور اس کی بینائی چھین لی۔

تیسرا سیاح: ایک عالم کا شاگرد تھا جسے ایک قدیم خط ملا جو ایک جادوئی قلعے کا دروازہ کھولتا تھا۔ اندر عجیب الخلقت مخلوقات اور خزانے دیکھے، مگر قلعے کے محافظ دیو نے کہا: "یہ راز انسان کو معلوم نہیں ہونا چاہیے" اور اس کی آنکھیں اندھی کر دیں۔

اچانک دروازے پر دستک ہوئی۔ لڑکیوں نے خلیفہ اور اس کے ساتھیوں کو پردے کے پیچھے چھپا دیا اور دروازہ کھولا تو دو طاقتور دیو اندر آئے۔ انہوں نے لڑکی سے حساب مانگا اور دھمکیاں دیں۔ لڑکی نے کمال ہوشیاری سے انہیں ٹال دیا۔

یہ سب دیکھ کر خلیفہ مزید تجسس میں مبتلا ہوا۔ صبح ہوئی تو اس نے اپنی شناخت ظاہر کی اور کہا:

> "تمہیں میرے حکم سے کوئی گزند نہیں پہنچے گا، لیکن اب تمہیں سچ سچ سب کچھ بتانا ہوگا۔"

لڑکیوں نے اپنے راز کھولے: وہ یمن کے شاہی خاندان کی شہزادیاں تھیں جنہیں ایک ظالم دیو نے جادو کے ذریعے قید کیا تھا۔ دیو نے انہیں جادوئی عہد اور تعویذوں کے ذریعے اپنے قابو میں رکھا، جادوئی صندوقوں اور پوشیدہ محلوں میں قید کیا، اور دھمکی دی تھی کہ اگر وہ کسی کو راز بتائیں تو فوراً قتل کر دی جائیں گی۔

خلیفہ ہارون الرشید نے فوراً اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ ان دیووں کی طاقت ختم کرنے کے انتظامات کریں۔ شاہی عاملوں اور جادو جاننے والے عالموں کو بلایا گیا۔ انہوں نے اپنے علم کے مطابق عملیات کردی جادوگروں نے اپنی جادو پڑھ کر دیووں کے جادو کو توڑا، اور ان کے عہد کو توڑ دیا۔ یوں دیو اپنی طاقت سے محروم ہوگیا"

لیکن یہاں پر ایک غریب مچھیرہ رہتا تھا جو اپنی روزی مچھلی پکڑ کر کماتا تھا۔ وہ دن میں صرف چار بار اپنا جال سمندر میں ڈالتا تھا۔

ایک دن صبح سویرے وہ نکلا اور سمندر کے کنارے پہنچ کر جال پھیلایا اور اسے پانی میں ڈال دیا۔ پھر جال کے کنارے اکٹھے کر کے کھینچنے لگا تو وہ بہت بھاری تھا۔ مچھیرے کو خوشی ہوئی اور بولا:
"شاید میں نے بہت سی مچھلیاں پکڑ لی ہیں۔"

لیکن جب جال باہر نکالا تو اس میں ایک۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے

کیا آپ آئندہ قسط پڑھنا چاہتے ہیں کمینٹ میں ضرور بتائیں اگر تمام اقساط پڑھنا پسند کرتے ہیں تو ہمیں فالو ضرور کریں شکریہ

اگر اگلی قسط پڑھنا چاہتے ہیں تو کمینٹ ضرور کریں آنے والی اقساط کیلیے فالو کریں اور جو کہانی اچھی لگے ضرور شیئر کریں شکریہ۔













#سندباد






12/08/2026

🇵🇰 14 اگست — آزادی صرف جشن نہیں، ایک ذمہ داری ہے
آزادی محض ایک دن جھنڈے لہرانے، چراغاں کرنے اور نعرے لگانے کا نام نہیں؛ آزادی دراصل ایک عہد ہے کہ ہم اپنے وطن کو دیانت، انصاف، علم اور کردار کے ذریعے مضبوط بنائیں گے۔
پاکستان ہمیں قربانیوں کے بعد ملا، اب اسے سنوارنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، مگر وطن کی محبت وہ قدر ہے جو ہمیں ایک قوم بناتی ہے۔
آئیے اس یومِ آزادی پر عہد کریں کہ ہم اپنے حصے کی ذمہ داری ایمانداری سے ادا کریں گے، قانون کا احترام کریں گے اور پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
— شمشاد دُرّانی

:::document 48317تخت بھائی میں کیمیکل سے دودھ؟ یہ صرف ملاوٹ نہیں، عوام کی صحت اور امانت کے ساتھ کھیل ہے!تخت بھائی میں لو...
12/08/2026

:::document 48317

تخت بھائی میں کیمیکل سے دودھ؟ یہ صرف ملاوٹ نہیں، عوام کی صحت اور امانت کے ساتھ کھیل ہے!

تخت بھائی میں لوکل گورنمنٹ کی کارروائی کے دوران مبینہ طور پر ایک ایسی فیکٹری کا انکشاف ہوا ہے جہاں کیمیکل اور دیگر اشیاء استعمال کرکے دودھ تیار کیا جا رہا تھا اور پھر اسے بازار میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

تحقیقات کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہاں یوریا، کپڑے دھونے والا صابن اور ایک مخصوص کیمیکل سمیت مختلف اشیاء استعمال کی جا رہی تھیں، جبکہ مبینہ طور پر ایک کلو کیمیکل سے تقریباً 100 لیٹر مصنوعی دودھ تیار کیا جاتا تھا۔

اگر یہ الزامات اور لیبارٹری ٹیسٹ درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف ملاوٹ نہیں بلکہ عوام کی صحت، اعتماد اور حلال رزق کے ساتھ انتہائی سنگین خیانت ہے۔

اسلام نے تجارت میں دھوکے اور ملاوٹ کو سختی سے منع کیا ہے۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وَيْلٌ لِّلْمُطَفِّفِينَ ۝ الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ ۝ وَإِذَا كَالُوهُمْ أَو وَّزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ

ترجمہ:
"خرابی ہے ناپ تول میں کمی کرنے والوں کے لیے، جو لوگوں سے ناپ کر لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں، اور جب انہیں ناپ یا تول کر دیتے ہیں تو کم دیتے ہیں۔"
(سورۃ المطففین: 1-3)

اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا

"جس نے ہمیں دھوکا دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
(صحیح مسلم، حدیث 101/102)

ذرا سوچیں!

ایک شخص اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدتا ہے کہ یہ صحت بخش غذا ہے، لیکن اگر اس کے نام پر کیمیکل سے تیار کردہ چیز فروخت کی جائے تو خریدار کے ساتھ کتنی بڑی زیادتی ہے؟

یہ معاملہ صرف چند روپے کے منافع کا نہیں۔
یہ بچوں کی صحت کا معاملہ ہے۔ یہ عوام کے اعتماد کا معاملہ ہے۔ یہ حلال و حرام کا معاملہ ہے۔

متعلقہ اداروں سے مطالبہ ہے کہ:

🔴 اس فیکٹری کے خام مال اور تیار شدہ مصنوعات کے نمونے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ کے لیے بھیجے جائیں۔

🔴 اگر ملاوٹ اور انسانی صحت کے لیے نقصان دہ اجزاء ثابت ہوں تو قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے۔

🔴 اس مصنوعی دودھ کی سپلائی کہاں کہاں ہوئی، اس کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔

🔴 عوام کو بتایا جائے کہ یہ دودھ کن دکانداروں یا مقامات پر فروخت کیا جا رہا تھا۔

🔴 صرف فیکٹری سیل کرنا کافی نہیں؛ اگر کوئی دوسرا نیٹ ورک بھی اس کاروبار میں ملوث ہے تو اسے بھی بے نقاب کیا جائے۔

اور سب سے بڑھ کر، ہمیں بحیثیت معاشرہ یہ سوچنا ہوگا کہ چند روپے کا ناجائز منافع کمانے کے لیے کسی کے بچوں کی صحت سے کھیلنا آخر کس دین، کس اخلاق اور کس انسانیت کا تقاضا ہے؟

رزق میں برکت مقدار سے نہیں، حلال ہونے سے آتی ہے۔

تخت بھائی کے عوام کا مطالبہ ہے کہ اس معاملے کو دبانے کے بجائے شفاف تحقیقات کی جائیں اور اگر جرم ثابت ہو تو ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

ملاوٹ کے خلاف آواز اٹھائیں — کیونکہ خاموشی بھی کبھی کبھی جرم کو طاقت دیتی ہے۔ :::

یہ نوجوان اپنوں سے بچھڑا ہوا ہے۔۔!!اپنے متعلق کچھ یاد نہیں ہے۔ سال 2009 میں ملتان کے شیلٹر سے کراچی کے شیلٹر میں منتقل ہ...
04/08/2026

یہ نوجوان اپنوں سے بچھڑا ہوا ہے۔۔!!

اپنے متعلق کچھ یاد نہیں ہے۔ سال 2009 میں ملتان کے شیلٹر سے کراچی کے شیلٹر میں منتقل ہوا۔
فائل کے مطابق نام غلام صادق اور والد کا نام غلام حسین ہے۔
ملتان والے خوب شیئر کریں ہوسکتا ہے اپنے مل جائے

اس وقت جو بیان دیا تھا اسکے مطابق دو بھائی اور ایک بہن تھی۔ نام یاد نہیں ہیں۔
سب سے پہلے ملتان کے شیلٹر میں جمع ہوا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے غلام صادق ملتان یا اسکے آس پاس کسی شہر کا ہوسکتا ہے۔
غلام صادق اس وقت لاوارث اور بے یارو مددگار ہے۔
ایک فیکٹری میں کام کرتا ہے اور وہیں راتیں گزارتا ہے۔ کسی قسم کی سماجی زندگی نہیں ہے۔
یہ بھی امکان ہوسکتا ہے اصل نام غلام صادق نا ہو۔ بچپن کی تصویر دیکھ کر ورثاء پہچان لیں گے۔
برائے مہربانی انسانی فریضہ سمجھ کر اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں۔
ملک بھر کے کونے کونے میں اس پوسٹ کو عام کریں اور ایک دکھی انسان کے چہرے پر خوشیاں لوٹائیں
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+923162529829

4 Aug 2026

اس نوجوان کو اپنوں سے ملائیں۔۔۔!!اس نوجوان کو اپنا نام راشد یاد ہے اور والد کا نام محمد صدیق۔مادری زبان سرائیکی ہے۔ راشد...
03/08/2026

اس نوجوان کو اپنوں سے ملائیں۔۔۔!!

اس نوجوان کو اپنا نام راشد یاد ہے اور والد کا نام محمد صدیق۔
مادری زبان سرائیکی ہے۔
راشد کا کہنا ہے کہ آج سے بیس بائیس سال قبل مجھے میرے والد نے کسی گھر میں کام پر رکھا تھا۔ میں کام سے بھاگ جایا کرتا تھا۔ ایک دن میں بس میں بیٹھ کر کہیں دور نکل گیا۔ شاید کراچی سے سکھر پہنچ گیا۔ ہم کراچی میں ہی رہتے تھے۔
سکھر میں مجھے ایک شیلٹر میں جمع کیا گیا۔ پھر وہاں سے کراچی شیلٹر منتقل ہوا۔ اور یہیں میں بڑا ہوکر جوان ہوا ۔ اور اب لاوارثی کی زندگی بسر کررہا ہوں۔ لاوارثی کی زندگی بہت اذیت ناک ہے ۔ برائے مہربانی مجھے اپنوں سے ملائیں۔
راشد کو صرف اپنا اور والد کا نام یاد ہے ۔ شیلٹر کی فائل سے بچپن کی فوٹو ملی ہے جو ورثاء تک پہنچنے میں مددگار ہوسکتی ہے۔ فائل میں ایک جگہ ایڈریس بھٹو کالونی نیو کراچی لکھا ہے اور دوسری طرف نارتھ کراچی لکھا ہے۔ شاید بچپن میں ان دو جگہوں کے نام راشد کو یاد ہونگے جو فائل میں لکھے گئے ہیں۔
سرائیکی وسیب کے دوست بالخصوص اور ملک بھر کے تمام دوست بالعموم اس پوسٹ کو دل کھول کر شئیر کریں۔
راشد کو اسکے خاندان سے ملانے میں مدد کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
+933409130653
3 اگست 2026

#شمشاددُرّانی

02/08/2026

سوات امن پاسون کے قریب بم بلاسٹ پولیس اور عام عوام شہید اور زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں

سوات Oنیگییٹیو خون کے اشد ضرورت ایمرجنسی سنٹر ہسپتال پہنچ جائے کبل بم بلاسٹ ۔۔

کبل سوات پولیس سٹیشن دھماکہ متعدد پولیس اہلکار و سویلین شہید

نرم دل حضرات یہ پوسٹ نا پڑھیں۔۔۔۔!! ایسے ایسے لوگ بھی ہیں دنیا میں پھر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ن...
02/08/2026

نرم دل حضرات یہ پوسٹ نا پڑھیں۔۔۔۔!!
ایسے ایسے لوگ بھی ہیں دنیا میں پھر کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت سے پہلے لوگ اپنی بیٹیاں دفن کرتے تھے زندہ تو پھر یہ کیا ہے۔۔۔۔

ایک بہن نے رابطہ کرکے بتایا کہ انکی پرورش حقیقی والدین نے نہیں کسی اور نے کی ہے۔ انکو اپنے حقیقی والدین اور بہن بھائیوں کی تلاش ہے۔ اس بہن کا کہنا ہے کہ:
میں سن 1994 کے جنوری میں کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے شاہین کمپلیکس ہسپتال میں پیدا ہوئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ میں اپنے والدین کی پانچویں یا چھٹی بیٹی تھی۔ خاندان میں مسلسل بیٹیاں پیدا ہونے کی وجہ سے حالات انتہائی افسوسناک ہو گئے، اور مبینہ طور پر والد اور انکے گھر والوں نے نومولود بچی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
میری پیدائش سے قبل میری والدہ کا سسرال اسپتال میں اکھٹا تھا۔ جیسے ہی انکو خبر ملی کہ بیٹی کی ولادت ہوئی ہے تو سب نے سامان اکھٹا کرلیا اسپتال سے نکل گئے۔ والد نے والدہ کو بتایا کہ اگر اس بیٹی کو ساتھ گھر لائی تو میں تمہیں طلاق دےدونگا اور وہ گھر چلا گیا۔۔ مجھے بتایا گیا کہ مبینہ طور پر مجھے والدہ نے جان سے مارنے کی کوشش کی اسپتال کے عملے نے دیکھ لیا اور فورا مجھے بچا لیا۔ ماں نے بتایا کہ گھر میں موجود پانچ بیٹیوں کو بےگھر نہیں کرسکتی اگر مجھے طلاق ہوگئی تو ساری بیٹیاں دربدر ہوجائیں گی۔ اسپتال میں موجود اسٹاف میں سے ایک ممبر نے اپنی بےاولاد بہن کو کال کرکے ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔ وہ اولاد کے لئے تڑپ رہی تھی۔ فورا اسپتال آئی اور مجھے گود لے لیا۔ آج تک مجھے انہوں نے محسوس ہونے نہیں دیا کہ میں گود لی ہوئی ہوں۔مجھے نکاح کے وقت ان ساری باتوں کا پتہ چلا ہے اسکے بعد سے میرا دل بےچین رہتا ہے کہ میں اپنے حقیقی والدین کو ایک بار ضرور دیکھ لوں۔ میری بہنیں کیسی ہونگیں۔ اگر بعد میں کوئی بھائی ہوا ہو وہ کیسا ہوگا۔
جس سٹاف نے مجھے لیا تھا جو اب میرے ماموں لگتے ہیں انہوں نے بتایا کہ میری حقیقی والدہ پشتو زبان سمجھی تھی ۔ اور میرے حقیقی ماموں سے اس وقت اسپتال میں بات چیت بھی ہوئی تھی۔
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن کے شاہین کمپلیکس ہسپتال میں اگر کسی کی بہن کی پیدائش جنوری 1994 میں ہوئی ہو،یہ پوسٹ ان تک پہنچے یا کوئی قریبی عزیز یہ پوسٹ پڑھے تو برائے مہربانی ہم سے رابطہ کریں۔
آپ نے جس بیٹی کو پھینک دیا تھا وہ آپ کو دل سے لگانا چاہ رہی ہے۔ وہ سب کچھ معاف کرکے آپ سب کو ایک نظر دیکھنا چاہ رہی ہے۔ خدارا ایک بار ان سے مل لیں۔
آپ تمام قارئین سے دست بستہ اپیل ہے کہ اس پوسٹ کو خوب زیادہ شئیر کریں۔ آپ اس بہن کی داد رسی کرنا چاہتے ہوں تو شئیر کریں۔
کسی بھی اطلاع کے لئے نیچے درج نمبر پر وٹس ایپ کریں
03409130653

2 Aug 2026
#شمشاددُرّانی

یہ لڑکا دوآبہ میں ملا ہے۔ اگر یہ کسی کا بچہ ہے یا آپ اسے پہچانتے ہیں، تو براہِ کرم فوری طور پر اس نمبر پر رابطہ کریں:📞 0...
01/08/2026

یہ لڑکا دوآبہ میں ملا ہے۔ اگر یہ کسی کا بچہ ہے یا آپ اسے پہچانتے ہیں، تو براہِ کرم فوری طور پر اس نمبر پر رابطہ کریں:
📞 0302-8022221
مہربانی کرکے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ یہ اپنے گھر والوں تک جلد پہنچ سکے۔

Address

Riyadh
Riyadh
12211

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when عوام کی آواز posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to عوام کی آواز:

Shortcuts

Share