Nasir Leather Boot Co.

Nasir Leather Boot Co. Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Nasir Leather Boot Co., Shopping & retail, Los Angeles, CA.

08/10/2024

"بے شک ! تمہارا مال اور تمہاری اولاد تمہارے لئے فتنہ ہے" ( القرآن)

تحریک انصاف کے بانی رکن ' اقراء میڈیکل کمپلیکس کے بانی ' کھربوں پتی ڈاکٹر شاہد صدیق کو ان کے اپنے ہی بیٹے نے قتل کردیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون! جب سے اس واقعے کی تفصیلات کا علم ہوا ہے تب سے دل انتہائی رنجیدہ ہے' راتوں کی نیند اڑ چکی ہے کہ کیا کوئی اولاد اتنی ہی سفاک ہوسکتی ہے کہ اپنے باپ کو قتل کردے وہ باپ جس نے اس کو ناز و نعم سے پالا ' دنیا کی ہر دولت اس کے قدموں میں نچھاور کی۔ قریبی ذرائع سے پتا چلا کہ مقتول اپنے قاتل بیٹے جس کی عمر صرف 24 سال ہے' عبد القیوم کو پانچ لاکھ ماہانہ دیتا تھا' بیٹے نے بعد میں مطالبہ کیا کہ میرا خرچ دس لاکھ ماہانہ کیا جائے' ماں اور دادی کی سفارش پر بیٹے نے یہ فرمائش بھی پوری کی اب بیٹا تیس لاکھ ماہانہ طلب کررہا تھا ۔ بیٹے کی ابھی شادی بھی نہیں ہوئی۔ باپ کا ماتھا ٹھنکا کہ تمہارے آخر اتنے خرچ کیوں ہے؟ اس سے پہلے باپ بیٹے کی فرمائش پر پڑھنے کے لئے بیرون ملک بھیجا ۔ تعلیم کے لئے بھی بیٹا اپنے چچا ذاد کی حرص میں گیا'( وہ بھی مشترکہ کی جائیداد میں شامل تھے) جب ان کے بچے تعلیم کے لئے بیرون ملک جاسکتے ہیں تو مجھے بھی بھیجیں ۔ ماں اور دادی نے بھی پرزور سفارش کی کہ بیٹے کو تعلیم کے لئے باہر کے ملک بھیج دیں۔ وہاں اس کی دوستی ایشیائی کمیونٹی کے امیر ترین طبقے کے لوگوں سے ہوئی اس چوبیس سالہ لڑکے نے اپنے آپ کا تاثر یہ دیا کہ جیسے وہ کسی راجہ مہاراجہ کی اولاد ہے باپ کا پیسہ خوب عیاشیوں پر خرچ کرنے لگا ' شراب نوشی شروع کی' پھر آئس کا نشہ پر لگا' بال جو پاکستان سے دس لاکھ خرچ ماہانہ بھیج رہا تھا' بیٹے نے خرچ تیس لاکھ کا مطالبہ کردیا ۔ اسی دوران اس کے گینگ کے کسی بندے نے سوشل میڈیا ایپ کے ذریعے سے اس کی ملاقات پاکستان میں سٹیج اداکارہ سے کروادی۔ اس کے اس اداکارہ سے تعلقات ہوئے اس کی فرمائش پوری کرنے کے لئے اس نے باپ سے ماہانہ تیس لاکھ کا مطالبہ کردیا۔ باپ نے بیٹے سے کہاکہ تمہاری فیس تک میں پاکستان سے بھیجتا ہوں تمہارے خرچ کیوں ہے تم پاکستان واپس آؤ ' بیٹا پاکستان آ گیا' باپ نے اسے بہت سمجھایا کہ تم جس سوسائٹی میں بیٹھتے ہو یہ ٹھیک نہیں ہے اسے چھوڑ دو' لیکن آئس کا نشہ استعمال کرتے ہوئے بیٹے کو یہ بات سمجھ نہ آئی ۔ اس اثناء میں اس کی محبوبہ نے تیرہ کروڑ کی لگژری گاڑی کا مطالبہ کردیا' سفاک قاتل بیٹے نے اپنی محبوبہ سے وعدہ کیا کہ وہ اس کی خواہش پوری کرے گا چاہے اسے باپ کی لاش سے بھی گزرنا پڑے' اس سے پہلے بیٹا اس سٹیج اداکارہ سے شادی کا مطالبہ بھی کربلا تھا لیکن باپ نے لڑکی کے خاندان اور کردار کو دیکھتے ہوئے اپنی بہو بنانے سے انکار کردیا' جس کا اس کو دلی رنج تھا' پھر اس چوبیس سالہ بیٹے باپ سے جائیداد کا حق کا مطالبہ بھی کیا' باپ نے اسے پیار سے سمجھایا ' اس کو بری صحبت سے بچانے کے لئے اس کے دوستوں سے بھی مدد لی۔انہی دوستوں میں سے ایک اس کا دوست شہریار بھی تھا شہریار نے اسے مشورہ دیا کہ
جائیداد کے حصول اور لڑکی سے شادی کے لئے باپ ہی کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔ دوست شہریار نے اس کی ملاقات اجرتی قاتلوں سے کروادی' دو کروڑ میں قتل کا سودا طے ہوا' قاتل کو پچاس لاکھ ایڈوانس دئیے باقی کی ادائیگی کا وعدہ قتل کے بعد دینے کا ہوا' اس اثناء میں سفاک بیٹا شوٹرز کو باپ کی نقل وحرکت کی خبر دیتا رہا جس وقت باپ قتل ہوا' چودہ گولیاں لگائیں۔ بیٹا وہاں پر موجود تھا سی سی ٹی وی کیمرے میں ساری تصویریں آگئ ہیں ۔بیٹے نے رونے دھونے کا بھی وہ ڈرامہ رچایا: باپ کا جنازہ بھی خود پڑھا'
جنازے کے دوران تکبیرات غلط پڑھی' اپنی حرکتوں سے پولیس کی نظروں میں تھا بہت جلد ہی پنجاب پولیس نے جدید بنیادوں پر تحقیق کر کے ملزم کو پکڑلیا' قاتل بیٹے نے اس کو سیاسی قتل کا رنگ دینے کی بھی کوشش کی ' پولیس کو یہ تاثر دیا کہ والد کو کچھ دنوں سے سیاست چھوڑ نے کے لئے دھمکی آمیز کالیں موصول ہورہی تھی لیکن! اللہ تعالیٰ کو اس سفاک ' بے حسی درندہ صفت بیٹے کا پردہ فاش کرنا تھا سو قاتل جلد ہی پکڑا گیا'
دوسری طرف مقتول باپ ڈاکٹر شاہد صدیق نے جب بیٹے کو شادی سے منع کردیا ' تیس لاکھ خرچ بڑھانے کو بھی منع کردیا تو باپ نے بیٹے
کی تالیف قلبی کے لئے تیرہ کروڑ کی گاڑی بک کروائی بیوی سے کہا کہ بیٹے کو اس کی سالگرہ پر "سر پرائز" دیں گے وہ گاڑی اس جمعے کو آنی تھی لیکن افسوس! گاڑی کے ملنے سے پہلے ہی قاتل حوالات میں اور مقتول اللہ کے پاس چلا گیا!
اقراء میڈیکل کمپلیکس کے جاننے والے انتہائی قریبی ذرائع بتاتے ہیں کہ 96 میں ڈاکٹر صاحب مشترکہ فیملی میں چار مرلے کے مکان میں رہتے تھے آج وہ بے بہا جائیداد کے مالک ہیں۔ تین ہسپتال ' وہ جائیداد پر جائیداد بناتے گئے سابقہ حکومت میں ان کا بہت اثر و رسوخ تھا اسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے میڈیکل سنٹر کو سرکاری بنایا جہاں بیرون ملک جانے والے افراد کی میڈیکل رپورٹ تیار کی جاتی تھی تھی۔ اس میڈیکل رپورٹ میں مریضوں کو ٹی بی' ہیپاٹائٹس وغیرہ کا مریض بتایا جاتا ' مریض حیران پریشان کہ مجھے تو یہ بیماری تھی ہی نہیں ۔۔
اس رپورٹ کو پوزیٹو بنانے کے لئے غریب مریض دو لاکھ سے لے کر بیس لاکھ تک رقم وصول کی جاتی ۔۔ یا پھر مریض سے کہا جاتا کہ آپ ہمارے ہسپتال میں پانچ چھ ماہ تک علاج کروائیں پھر آپ کی رپورٹ مثبت آئے گی ۔۔
مریض مجبور۔۔۔اس طرح ڈاکٹر صاحب کی جائیداد پر جائیداد بنتی چلی گئ 96 میں جو ڈاکٹر چار مرلے کے گھر میں رہتا تھا اب وہ دس کنال کی کوٹھی میں رہتا تھا۔۔۔ کنالوں پر کنال خریدتا چلا گیا' نتیجہ کیا ہوا کہ جس اولاد کے لئے وہ غریب انسانوں کا خون نچوڑ رہا تھا' حرام ذرائع سے دولت اکٹھی کررہا تھا اس ناہنجار نا خلف اولاد نے اپنے باپ کو قتل کر کے انجام تک پہنچادیا'
جو والدین اپنے بچوں کو حرام کھلا رہے ہیں وہ ڈریں کہ یہ اولاد اس کے لئے دنیا میں ہی جہنم نہ بن جائے'
اور ہماری آنکھوں کے سامنے حرام دولت جمع کرنے والوں کے مناظر سامنے آ رہے ہیں لیکن ہم اس سے عبرت حاصل نہیں کررہے۔ تو پھر اللہ اپنا ایسا ہی فیصلہ سنائے گا'
پاکستان کا سابق وزیر اعظم شوکت عزیز جس نے پاکستان کی معشیت کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور پاکستان سے فرار ہوا اس کا اکلوتا جوان بیٹا مر گیا' بیٹی نے اس کی جمع کی ہوئی تمام حرام جائیداد اپنے نام کر کے باپ کو بے یارو مددگار چھوڑ دیا' اب وہ الزیمر کا مریض ہے ' منہ سے اس کی "رال" ٹپکتی ہے بب اس کی گردن پر بندھی ہوتی ہے یہ وہ وزیر اعظم جو لاکھوں کا سوٹ پہنتا تھا ۔
لیکن حرام رزق کی وجہ سے آج اپنے انجام کو پہنچا ہوا ہے!
اپنی اولاد کی تربیت حلال لقمے سے کریں چاہے پیٹ پر پتھر ہی کیوں نہ باندھنے پڑے' رزق حلال کے فائدے ان گنت ہے سب سے بڑی نعمت یہ ہے کہ آپ کی اولاد آپ کی فرمانبردار' نیک صالح ہوتی ہے۔ اپنی اولاد کو دنیاوی مال و دولت ہی نہ دیں اس کو وقت دیں' اس کی تربیت کریں' اس کا قرآن سے ' دین سے اسوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ' اہل بیت اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی فقرو فاقہ سے بھرپور زندگیوں سے رشتہ مضبوط کریں ۔

07/21/2024

*دیوار پر والد کے ہاتھ کے نشان*۔
ابا جی بوڑھے ہو گئے تھے اور چلتے چلتے دیوار کا سہارا لیتے تھے۔ نتیجتاً دیواروں کا رنگ خراب ہونے لگ گیا، جہاں بھی وہ چھوتے تھے وہاں دیواروں پر ان کی انگلیوں کے نشانات چھپ جاتے تھے۔

میری بیوی کو جب پتہ چلا تو وہ اکثر گندی نظر آنے والی دیواروں کے بارے میں مجھ سے شکایت کرتی۔
ایک دن سر میں درد ہو رہا تھا تو *ابا جی نے سر پر تیل کی مالش کی۔ تو چلتے ہوئے دیواروں پر تیل کے داغ بن* *گئے* ۔

یہ دیکھ کر میری بیوی چیخ اٹھی۔
اور میں نے بھی غصے میں اپنے والد کو ڈانٹ دیا اور ان سے بدتمیزی سے بات کی، انہیں مشورہ دیا کہ چلتے وقت دیواروں کو ہاتھ نہ لگائیں۔

*وہ بہت غمگین نظر آئے* ۔ *مجھے اپنے رویے پر شرمندگی بھی محسوس ہوئی مگر ان سے کچھ نہ کہا۔*

ابا جی نے چلتے ہوئے دیوار کو پکڑنا چھوڑ دیا۔ اور ایک دن وہ گر پڑے اور بستر سے جا لگے جو ان کے لئے بستر مرگ بن گیا اور کچھ ہی دنوں میں ہم سے رخصت ہو گئے۔ میں نے اپنے دل میں احساس جرم محسوس کیا اور میں ان کے تاثرات کو کبھی فراموش نہیں کر سکتا تھا اور اس کے فوراً بعد اپنے آپ کو ان کی موت کے لئے خود کو معاف نہیں کر پاتا ہوں۔

کچھ دیر بعد، ہم اپنے گھر کو پینٹ کروانا چاہتے تھے۔ جب *پینٹر آئے تو میرا بیٹا، جو اپنے دادا سے پیار کرتا تھا، نے مصوروں کو دادا کے انگلیوں* *کے نشانات صاف کرنے اور ان علاقوں کو پینٹ کرنے کی اجازت نہیں دی۔*

پینٹر بہت اچھے اور جدت پسند تھے۔ انہوں نے اسے یقین دلایا کہ وہ میرے والد کے فنگر پرنٹس/ ہینڈ پرنٹس کو نہیں ہٹائیں گے، بلکہ ان نشانات کے گرد ایک خوبصورت دائرہ بنائیں گے اور ایک منفرد ڈیزائن بنائیں گے۔

*اس کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا اور وہ پرنٹس ہمارے گھر کا حصہ بن گئے* ۔
ہمارے گھر آنے والے ہر فرد نے ہمارے منفرد ڈیزائن کی تعریف کی۔

وقت کے ساتھ ساتھ میں بھی بوڑھا ہوتا گیا۔

*اب مجھے چلنے کے لیے دیوار کے سہارے کی ضرورت تھی۔* ایک دن چلتے ہوئے مجھے یاد آئے اپنے والد سے میرے کہے ہوئے الفاظ، اور سہارے کے بغیر چلنے کی کوشش کی تاکید ۔ میرے بیٹے نے یہ دیکھا اور فوراً میرے پاس آیا اور چلتے ہوئے مجھے دیواروں کا سہارا لینے کو کہا، اس خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہ میں سہارے کے بغیر گر سکتا ہوں، میں نے دیکھا کہ میرا بیٹا مجھے پکڑے ہوئے ہے۔
میری پوتی فوراً آگے آئی اور پیار سے میرا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر سہارا دیا۔ میں تقریباً خاموشی سے رونے لگا۔ اگر میں نے اپنے والد کے لیے بھی یہی کیا ہوتا تو وہ زیادہ دیرتک صحت مند اور خوش رہتے
میری پوتی نے مجھے ساتھ لیا اور صوفے پر بٹھایا۔ پھر اس نے مجھے دکھانے کے لیے اپنی ڈرائنگ بک نکالی۔

اس کی استانی نے اس کی ڈرائنگ کی تعریف کی تھی اور اس کو بہترین ریمارکس دیے تھے۔

*خاکہ دیواروں پر میرے والد کے ہاتھ کے نشان کا تھا۔*

*اس کے ریمارکس تھے- "کاش ہر بچہ بڑوں سے اسی طرح پیار کرے"*

*میں اپنے کمرے میں واپس آیا اور اپنے والد سے معافی مانگتے ہوئے رونے لگا، جو اب نہیں تھے* ۔

ہم بھی وقت کے ساتھ بوڑھے ہو جاتے ہیں۔
*آئیے اپنے بڑوں کا خیال رکھیں اور اپنے بچوں کو بھی یہی* *سکھائیں* ۔

*اپنے گھر والوں کو بھی بتائیں کہ یہ بزرگ قیمتی ہوتے ہیں دیواریں اور چیزیں نہیں۔*

07/19/2024

مشہور فٹبالر میراڈونا سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا رول ماڈل کون ہے ؟ انہوں نے کہا جب تمھاری آنکھوں کے سامنے تمھارے باپ نے محنت مزدوری کر کے تمہیں پالا ہو تو پھر کسی اور کو اپنے لیے رول ماڈل سمجنا
بد تمیزی اور بے وقوفی ہے .

05/20/2024

■️قدرے_تَلخ_لیکن_صد_فیصد_سچ■️

■️ اگر آپ کسی ہوٹل میں چائے پیتے ہوئے عام طور پر گھر پر چائے پینے کی نسبت زیادہ چینی ڈالتے ہیں یا ضرورت سے زائد کھانا ڈالتے ہیں تو آپ کے بدعنوان ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔۔

■️ اگر آپ اپنی پلیٹ میں بھوک سے زیادہ کھانا محض اس لیے ڈالتے ہیں کہ اس کا بل کسی دوسرے جیب سے جارہا ہے تو آپ فطرتاً لالچی ہیں۔۔

■️ اگر عام طور پر آپ قطار کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں، تو اگر آپ کوئی طاقتور عہدہ دیا جائے تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔۔

■️ اگر عام طور پر ٹریفک جام میں آپ قطار توڑ کر دوسری گاڑیوں کے اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں تو جب آپ کو کبھی سرکاری پیسے کا رکھوالا بنایا جائے تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اس میں غبن کے مرتکب ہوں گے کیونکہ آپ کو قوانین و ضوابط پر عمل سے نفرت ہے۔۔

■ ️اگر آپ اپنے گھر کے گندے پانی کا بہتر انتظام کرنے کی بجائے رخ دوسرے کے گھر کی طرف کر دیتے ہیں یا گھر کا کوڑا گلی میں ڈال دیتے ہیں تو آپ کو معاشرتی آداب معلوم نہیں۔۔

■️ اگر آپ گھر اور آفس کی فالتو لائٹس بند کرنے کے عادی نہیں ہیں تو موقع ملنے پر آپ ملکی اور قومی وسائل کو بے دریغ ضائع کرنے کا ارتکاب کریں گے۔۔

■️ اگر آپ زیادہ تر کمپیوٹر اور موبائل پر گیمز کھیلتے ہیں تو آپ کاہل اور سست انسان ہیں اور آپ اپنی زندگی کو فضولیات میں ضائع کر دیں گے۔۔

■️ اگر آپ طالب علم ہیں اور امتحان کی تیاری صرف امتحان سر پر آنے پر کرتے ہیں تو آپ بددیانت، کاہل اور کام چور ہیں اور آپ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین، معاشرہ اور قوم کے بھی دشمن ہیں۔۔

■️ اگر آپ کا زیادہ وقت کہانیاں پڑھنے، فلمیں اور ڈرامے دیکھنے میں گزرتا ہے تو آپ خیالوں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والے، بےعمل اور نکمّے انسان ہیں جو اپنے علاوہ لواحقین اور دوست احباب کا مستقبل بھی برباد کر رہے ہیں۔۔

■ اگر آپ لوگوں کی خامیاں تلاش کرتے ہیں اور اچھائیوں کو نظرانداز کرتے ہیں تو آپ فطرتاً ایک نِیچ انسان ہیں جسے لوگوں کو نیچا دکھانا مقصود ہے۔۔

آئیے! جہاں بھی ہمیں موقع ملے مجھ بےعمل سمیت ہم سب خود باکردار انسان بننے کی کوشش کریں۔ یہ زندگی عطیۂ خداوندی ہے اور قوم کی امانت ہے ۔اس میں خیانت ہرگز نہ کریں۔ اللّٰه تبارک و تعالٰی ہم سب کا حامی و ناصـر و مددگار ہو۔۔!!

03/24/2024

یہاں کچھ ہونے کو ہے۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

بگ بینگ کے بعد مجھے جس چیز نے سب سے زیادہ حیران و پریشان کیا ہے۔ وہ ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر ہے۔ یہ چیزیں ہمارے آس پاس موجود ہیں، لیکن ہم انہیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ ہی چھو سکتے ہیں۔۔ اب جو چیز ہم دیکھ نہیں سکتے اس کے بارے میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ چیز کاٸنات میں موجود ہے ؟ کیا ساٸنس دان جھوٹ بول رہے ہیں، یا ہم لوگوں کو یوں بےوقوف بنارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔؟ کیونکہ جو چیز ہم دیکھ نہیں سکتے۔۔ اسکے بارے میں ہم کیسے دعوی کرسکتے ہیں جو چیز ہم دیکھتے ہیں یہ مادہ ہے۔۔۔۔۔ یعنی کائنات میں موجود یہ ستارے سیارے، بلیک ہولز،کہکشائیں غرض ہر چیز مادے سے بنی ہے لیکن یہ مادہ کتنا ہے ؟ ناسا ساٸنس دانوں کا ماننا ہے کہ یہ مادہ کائنات میں موجود کل مادے کا صرف چار فیصد بنتا ہے، میں ایک بار پھر دہراتا ہوں کہ جو چیزیں ٹیلی سکوپ یا ننگی "آنکهوں" سے ہم "دیکھتے" ہیں،،، وہ کل کاٸنات کا صرف چار 4 فیصد حصہ ہے،،، کاٸنات کا 96 فیصد حصہ ابھی ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔۔ کاٸنات کا یہ حصہ ہم کسی ٹیلیسکوپ سے دیکھ نہیں سکتے، یہاں ہم عاجز اور بےبس ہوجاتے ہیں، کیونک یہاں ہماری ٹیکنالوجی اور تمام تر ٹیلیسکوپس کام کرنا چھوڑ جاتے ہیں۔

ساٸنسدانوں کا ماننا ہے کہ کائنات میں 25 فیصد ڈارک میٹر اور 71 فیصد ڈارک انرجی ہے۔ یہ وہ "مادہ" ہے جو نا روشنی جزب کرتا ہے۔اور نا ہی خارج کرتا ہے۔اس وجہ سے ہم اس کو دیکھ نہیں سکتے۔۔ ہم صرف وہی "چیزیں" دیکھ سکتے ہیں۔ جب روشنی کی "فوٹانز" کسی چیز سے منعکس ہو کر ہماری آنکھ تک پہنچ سکیں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ روشنی سب سے پہلے آنکھ کے قورنیہ سے ٹکراتی ہے۔۔۔۔۔ اور اس سے گذر کر ہماری ریٹنا تک پہنچتی ہے جہاں اس چیز کا عکس بنتا ہے۔۔ لیکن ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی پر جب "سورج" کی روشنی پڑتی ہے،، تو وہ ہمیں واپس نہیں ملتی،،،،، جس کی وجہ سے ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے، لیکن یہ چیزیں بہرحال موجود ہیں کیونکہ اس انرجی اور مادے کی موجودگی کے شواہد موجود ہیں۔

فرض کریں آپ کٸی سالوں سے ایک گاڑی چلا رہے ہیں۔۔ آپکو کو معلوم ہے کہ گاڑی کی سپیڈ اتنی ہے۔۔۔ آپ اسی گاڑی سے لاہور سے کراچی پہنچتے پہنچتے دس گھنٹے لگاتے ہیں لیکن آپ کا دوست وہی گاڑی لاہور سے کراچی جاتے ہوٸے دس کی بجاٸے دو گھنٹے لیتا ہے۔۔۔اب یہاں آپ خوش ہونے کی بجاٸے حیران ہوں گے،،،، کیونکہ یہ چیز آپ کے لیے ناممکن ہے۔ لیکن آپکے دوست نے کرکے دیکھایا۔ اب یہاں آپ سوچیں گے کہ یہ کیسے ہوا؟ کیونکہ راستے کی لمباٸی بھی وہی ہے اور آپ کے گاڑی کی رفتار بھی وہی ہے۔۔۔ یہاں اگر آپ عام آدمی ہوں گے تو یہ بات ایک دو دن میں بھول جاٸیں گے۔لیکن ساٸنس دان ایسی چیزوں کے پیچھے پڑجاتے ہیں،،،، اور ان کا سراغ لگاتے ہیں۔

چونکہ ہم جانتے ہیں، کہ بگ بینگ کی وجہ سے کائنات پھیل رہی ہے۔۔۔۔ آسان لفظوں میں اگر کہوں تو اس کا مطلب ہے کہ ایک کہکشاں دوسرے "کہکشاں" سے اور ایک کلسٹر دوسرے کلسٹر سے دور بھاگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ہم جب کشش ثقل کی مقدار کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایک وقت کے بعد کہکشاٶں کی یہ رفتار کم ہونی چاہیے۔۔۔۔۔۔ یعنی اس کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو سست ہونا چاہیۓ،،،،،،،، کیوں کہ کہکشاٶں میں مادہ موجود ہوتا ہے،،،،،،، اور نیوٹن لاءٕ کےمطابق مادے کے درمیان کشش ثقل موجود ہوتا ہے،،،،، جو ایک دوسرے کو اپنی طرف کشش کرتے ہیں،،،،،، آپ نے دیکھا ہوگا، کہ ہم جب کوٸی چیز اوپر کی طرف پھینکتے ہیں۔ تو وہ واپس زمین پر آگرتی ہے کیوں کہ "زمین" اس چیز پر نیچے کی طرف قوت لگاتی ہے۔ جسکو عرف عام میں گریوٹی کہتے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ہر چیز اوپر کی طرف جاتے، وقت اس کی "حرکت" سست پڑتے پڑتے ایک مقام پر ختم ہوجاتی ہے۔۔۔۔ تب وہ واپس گرتی ہے۔ لیکن کاٸنات میں ایسا مظہر "دیکھنے" کو نہیں ملتا۔۔ کاٸنات میں ہر ایک کہکشاں آگے کی طرف بڑھ رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔حالانکہ کشش ثقل کی وجہ سے دو 2 کہکشاٶں کے درمیان کھینچنے کی قوت بھی موجود ہے۔

سال 1998ٕٕٕ میں امریکن ساٸنسدانوں کی ایک ٹیم نے تجربہ کیا جس نے سب کو حیران و پریشان کردیا۔۔۔ یہ تجربہ زمین سے بہت ہی دور ایک سپرنووا پر کیا گیا۔اب یہ سپر نووا کیا ہے ؟ ہمارے "سورج" سے تقریبا دس گنا زائد کمیت والا ستارہ جب پھٹ جاتا ہے،، تو اس کو فلکیات کی زبان میں سپرنووا کہہ کر پکارتے ہیں۔۔۔ہم جانتے ہیں تمام ستاروں کی ایک عمر ہوتی ہے۔وہ پیدا ہوتے ہیں، اور پھر ایک وقت کے بعد مرجاتے ہیں۔ عموما چھوٹے ستاروں کی عمر زیادہ لمبی ہوتی ہے جب کہ بڑے ستاروں کی عمر کم ہوتی ہے،،، اور وہ جلدی مر جاتے ہیں۔

وہ ستارے جو ہمارے سورج سے بہت زیادہ بڑے ہوتے خارج ان کا اختتام زیادہ بھیانک ہوتا ہے۔۔۔۔۔ایسے ستارے جب مرجاتے ہیں تو موت کے دوران وہ ہمارے تقریبا "سورج" سے سو ارب گنا زیادہ روشنی خارج کرتے ہیں۔ ایسے ستاروں کی موت کو سپر نووا (supernova) کہتے ہیں۔اس تجربے میں سپرنووا کی ولاسٹی کا مطالعہ کیا گیا۔۔اس نتیجے نے ماہرینِ فلکیات کو شش و پنج میں ڈال دیا۔۔۔ کیونکہ اب تک یہ سمجھا جاتا تھا کہ گریوٹی صرف قوت کشش ہے۔ اور چونکہ ستارے دور سے دور ہوتے جارہے ہیں اس لیے ان کے درمیان یہ کشش کم سے کم ہوتی چلی جارہی ہے،،،،،، اور اسلیے کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار بھی سست سے "سست" تر ہوتی چلی جارہی ہے یہ معلوم کرنے کےلیے 1998 میں سپرنووا پر تجربات کیے گئے، اور ناسا سائنس دانوں کو یقین تھا کہ انہوں نے سپرنووا کے فاصلے کا جو اندازہ "گریوٹی" کے اعداد و شمار سے لگایا تھا۔ وہ بالکل درست ہوگا۔ لیکن وہ غلط ثابت ہوا۔تو سائنسدانوں کو حیرت ہوئی۔ گویا کائنات کے ستارے کشش ثقل کے ذریعے لگائے گئے اندازوں پر پورا نہیں اترتے تھے۔لیکن انہی تجربات میں جو زیادہ حیران و پریشان کردینے والے نتائج سامنے آئے وہ یہ تھے، کہ کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کم ہونے کی بجاۓ بڑھ رہی ہے۔ اس نتیجے نے سائنسدانوں کو چکرا دیا۔ کیونکہ ہم گریوٹی کے بارے میں جس قدر جانتے ہیں،،،،، اس حساب سے کائنات کے "پھیلاؤ" کی رفتار کو "وقت" کے ساتھ ساتھ سست ہوتے چلے جانا چاہیے تھا۔۔۔۔۔۔لیکن 1998ء کے تجربات سے جو ڈیٹا حاصل ہوا وہ پرانے خیال کی نفی کررہا تھا۔

چنانچہ سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ کائنات میں ایک خاص قسم کی توانائی موجود ہے۔۔ جو بہت ہی طاقتور ہے اور یہ وہی توانائی ہے، جو تمام کہکشاں کو باہر کی طرف پھینک رہی ہے۔ اور یہ نہ صرف باہر کی طرف دھکیل رہی ہے بل کہ ان کی رفتار میں مسلسل "اضافہ" بھی کررہی ہے۔ اس وجہ سے سائنسدانوں نے اس انرجی کو "ڈارک انرجی" کا نام دیا۔

اس کے علاوہ ڈارک میٹر کہکشاؤں میں موجود ایسا مادہ ہے جو روشنی کو منعکس نہیں کرتا،، تبھی تو "کہکشائیں" اپنی موجودہ شکل برقرار رکھی ہوئی ہیں ناسا ماہرین فلکیات نے ایسے مادہ کی موجودگی کا بھی پتہ لگایا ہے۔۔۔۔۔جس کو ہم ساٸنس کی زبان میں "ڈارک میٹر" کہتے ہیں، کسی بھی چیز کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے، کہ وہ چیز "روشنی" کا اخراج کرے یا پھر روشنی کو جذب کرے۔ اور اگر کوئی چیز روشنی کا اخراج کرتا ہو، تو وہ چیز ہمیں "رنگین" نظر آئیگی اور اگر روشنی کو جذب کرتا ہو تو سیاہ نظر آئیگی لیکن ڈارک میٹر ایسا مادہ ہے جو ان دونوں میں سے کوئی کام نہیں کرتا۔

ناسا ساٸنس دانوں کا کہنا ہے کہ ڈارک میٹر ایسا کچھ بھی نہیں کرتا۔۔ ہاں البتہ ڈارک میٹر کشش ثقل کی ایک بہت بڑی مقدار فراہم کرتا ہے۔۔۔۔۔ یہ ایک "پوشیدہ" مادہ ہے کشش ثقل فراہم کرنے کی بنیاد پر "ڈارک میٹر" مختلف "کہکشاؤں" کو متوازن رکھے ہوئے ہے۔۔ کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ یہ تمام ستارے اور سیارے ہماری کہکشاں کو "چھوڑتے" کیوں نہیں؟
ہم جانتے ہیں کہ کائنات یونیورس دن بدن پھیلتی جارہی ہے لیکن پھر بھی ہمارے سیارے اپنی "کہکشاں" کو چھوڑ نہیں رہے؟اور کیوں تمام ستارے کلسٹرز یعنی جھنڈ کی شکل میں پائے جاتے ہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ "کشش ثقل" ان تمام چیزوں کو باہم منسلک کیے ہوئے ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ ستارے اور سیارے اپنے جھنڈ سے کبھی الگ نہیں ہو پاتے اور کبھی ایک کہکشاں کا ستارہ کسی دوسرے کہکشاں میں نہیں چلا جاتا۔ ہماری خلا میں گریوٹی کی مقدار بہت زیادہ ہے۔ اور یہ کسی بھی کہکشاں کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ اسکے بغیر خود کو "stable" رکھ سکے،،، اور اس کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ کوئی بھی کہکشاں اسے خود سے "پیدا" بھی نہیں کر سکتی اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ "گریوٹی" کسی نا معلوم مادہ سے حاصل ہو رہی ہے جو کہ ڈارک میٹر کے علاوہ کوئی دوسری چیز نہیں ہو سکتی۔

اس کائنات میں جو بھی چیز ہم دیکھتے ہیں،، ایٹم کے ذرات سے لے کر کہکشاؤں، سورج، چاند اور ستاروں تک سب ملاکر محض چار فیصد بنتا ہے جی ہاں آپ نے بالکل ٹھیک ہی پڑھا کیونکہ بقایا "کاٸنات" یعنی 96 فیصد ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر پر مشتمل ہے۔جسے ہم "دنیا" کی کسی ٹیلی سکوپ سے دیکھ نہیں سکتے۔۔۔ لیکن یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیۓ کہ اگر ہمیں 60 کی بجاٸے ساٹھ 60 ارب سال عمر بھی ملے تب بھی ہم ان چار 4 فیصد "کاٸنات" کو صرف دیکھ بھی نہیں پائیں گے "گھومنا" تو دور کی بات ہے کیونکہ کاٸنات بہت ہی بڑی ہے۔ہماری موجودہ ٹیکنالوجی اس کے اگے بےبس ہوجاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!!!!

03/02/2024

‏ایک بچے کے والدین ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں اسے ٹرین کے ذریعے اس کی دادی کے پاس لے جاتے۔ پھر وہ اسے چھوڑ دیتے اور اگلے دن واپس آ جاتے۔
پھر ایک سال ایسا ہوا کہ بچے نے ان سے کہا: "میں اب بڑا ہو گیا ہوں، اگر میں اس سال اکیلے دادی کے پاس جاؤں تو؟"
والدین نے ایک مختصر بحث کے بعد اتفاق کیا اور پھر مقررہ دن اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر پہنچے کیونکہ والد نے سفری ہدایات دینا شروع کیں۔
تو بیٹا تنہا لہجے میں کہنے لگا۔
: اباجان! میں نے یہ ہدایات ہزار بار سنی ہیں! "
ٹرین کے روانہ ہونے سے چند لمحے پہلے اس کے والد اس کے قریب آئے اور اس کے کان میں سرگوشی کی:
"یہ لو، اگر آپ خوفزدہ ہیں یا بیمار ہیں تو یہ آپ کے لیے ہے" اور اپنے بچے کی جیب میں کچھ ڈالیں۔
بچہ پہلی بار والدین کے بغیر ٹرین میں اکیلا بیٹھا تھا۔
وہ کھڑکی سے باہر زمین کے حسن کو دیکھتا اور اپنے اردگرد اٹھنے والے اجنبیوں کے شور کو سنتا، کبھی اپنی سیٹ سے اٹھ کر کیبن سے باہر نکل جاتا، کبھی گاڑی اندر چلا جاتا۔
ٹرین کا ٹی ٹی بھی چونک گیا اور اس سے بغیر کسی ساتھی کے تنہا سفر کے بارے میں پوچھا۔
اسی طرح ایک عورت نے غمگین نظروں سے اسے دیکھا۔
لڑکا اس وقت تک الجھا ہوا تھا جب تک اس نے محسوس نہیں کیا کہ وہ ٹھیک نہیں ہے۔
پھر وہ بوکھلا گیا... وہ اپنی کرسی سے بھی گر پڑا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
اس لمحے اسے اپنے والد کی سرگوشی یاد آئی کہ اسی لمحے اس نے میری جیب میں کچھ ڈال دیا۔
اس نے کانپتے ہاتھ سے جیب میں تلاش کیا تو ایک چھوٹا سا کاغذ ملا۔ اس نے اسے کھولا: ایسا لکھا تھا۔
"بیٹا میں ٹرین کے آخری ڈبے میں ہوں۔"
یہ الفاظ پڑھتے ہی اس کی روح لوٹ آئی۔
! زندگی ایسی بھی ہے، ہم اپنے بچوں کے پروں کو چھوڑ دیتے ہیں، انہیں خود پر اعتماد دلاتے ہیں... لیکن جب تک ہم زندہ ہیں، ہمیں ہمیشہ آخری کیبن میں رہنا چاہیے.. کیونکہ یہ ان کے لیے تحفظ کے احساس کا ذریعہ ہے

03/01/2024

ایک آدمی کو غصہ بہت آتا تھا غصے میں بے قابو ہو کر وہ برا بھلا کہتا ۔ جب غصہ اترتا تو اسے پشیمانی ہوتی ۔ وہ غصے پر قابو پانا چاہتا تھا لیکن کامیاب نہ ہوتا ۔
ایک دن اس نے سنا کہ دوسرے گاؤں میں ایک عالم رہتا ہے لوگوں کو مسئلوں کے حل بتاتا ہے ۔ اس نے سوچا چلو میں بھی اپنا مسئلہ پیش کر کے دیکھتا ہوں شاید کچھ تدبیر نکل آئے ۔ وہ اس عالم کے پاس گیا اور اُن کو بتایا: "مجھے بے حد غصہ آتا ہے" عالم نے کہا: "جب تمہیں غصہ آئے تو تم جنگل میں جا کر درخت میں ایک کیل ٹھونک دیا کرو" آدمی نے کہا: "یہ کون سا حل ہے ؟" عالم نے کہا: "تم ایسا کرو تو سہی" آخر اس نے یہی کیا اسے جب بھی غصہ آتا، وہ جنگل کی طرف دوڑتا اور تیزی سے کیلیں درخت میں ٹھونکتا جاتا ۔
آخر دن گذرتے گئے ۔ اسے جب غصہ آتا، وہ یہی عمل دہراتا ۔ آخر ایک دن اس کا غصہ کم ہو کر ختم ہو گیا اور اس نے جنگل جانا چھوڑ دیا ۔
ایک دن وہ دوبارہ عالم کے پاس گیا اور کہا: "آپ کی بات پر عمل کر کے میرا غصہ ختم ہو گیا ہے" عالم نے کہا: "مجھے اس جگہ پر لے چلو جہاں تم نے کیلیں ٹھونکی ہیں" وہ دونوں وہاں چلے گئے ۔ عالم نے دیکھا کہ ایک درخت تقریباً آدھا کیلوں سے بھرا پڑا ہے ۔
عالم نے کہا: "اب ان کیلوں کو نکالو" اس نے بہت مشکل سے وہ کیلیں نکال لیں تو دیکھا کہ وہاں چھوٹے بڑے بے شمار سوراخ تھے ۔ عالم نے کہا: "یہ وہ سوراخ ہیں جو تم غصے میں آ کر لوگوں کے دلوں میں کرتے تھے دیکھو کیل تو نکل گئے مگر سوراخ باقی ہیں"
وہ شخص بہت شرمندہ ہوا اس نے اللّٰه اور اس کے بندوں سے معافی مانگی اور عالم کا شکریہ ادا کیا جس نے اسے آئینہ دکھایا•*
*سبق: ھمیں بھی چاہیے کہ بولتے وقت دیکھ لیا کریں کہ ہم نے لوگوں کے دلوں میں کہیں کیلیں تو نہیں ٹھونک رہے ہیں اگر وہ کیلیں نکل بھی گئیں تو نشان باقی رہ جائیں گے ۔۔۔،

افسوس ناک خبر 😥😥😥😥😥شکیل یونس صاحب ٹیچر گورنمنٹ کینال ہائی سکول وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
01/28/2024

افسوس ناک خبر 😥😥😥😥😥
شکیل یونس صاحب ٹیچر گورنمنٹ کینال ہائی سکول وفات پا گئے ہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

01/06/2024

‏حضرت بلالؓ جناب عمرؓ سے ملنے آئے جب بلالؓ دروازے سے داخل ہوئے تو فاروق اعظمؓ نے کرسی چھوڑدی ہاتھ باندھ کے کونے میں کھڑے ہوگئے
کالا رنگ
نام لکھنا نہیں جانتے
قیصر و کسری کو خاطر میں نہ لانے والے عمرؓ بلالؓ کے سامنے کھڑے ہوگئے
لوگ کہنےلگے عمر کون آ رہا ہے جس کے لیے آپکا یہ استقبال ہے حضرت بلالؓ آئے کہنےلگے امیرالمومنین کیا کر رہے ہیں ؟
عمرؓ نے بازو پکڑا اوراپنی کرسی پر بٹھایا حضرت بلال کہنے لگے
حضور میں غلام ہو مجھے تو طریقے بھی نہیں آتے ان کرسیوں پر بیٹھنے کے میں غریب ماں کابیٹا غلام باپ کی اولاد ہوں
حضرت عمرؓ کہنے لگے بلالؓ تو غلام تھا لیکن جب سے تُو مصطفیﷺ کا غلام بنا ہے تُو ہمارا امام بن گیا ہے اب تُو امام ہے رسول اللہ کی امت کا
فرمایا مجھے وہ دن یاد ہے جب مکہ فتح ھوا تھا بت ٹوٹ گئے تھے بڑے بڑےسردار تھے اور میرے نبیﷺ نے فرمایا بلالؓ سے کہو کہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کے اذان دے لوگوں نے کہا حضورکسی اور کی ڈیوٹی۔ لگادیں تو آپﷺ نے فرمایا چپ کرو
بدرمیں مار کھا کے اذان پڑھے تو بلال
احد میں پتھر برسے اذان پڑھے تو بلال
تپتے صحراؤں میں پتھر کھا اذان پڑھے تو بلال کو بلاؤ
اور آج اگر اللہ نے عزت دی ہے تو میں لوگوں کودیکھ کے بلالؓ کو عزت نا دوں_
فرمایا کوئی اوپر نہیں چڑھے گاابو بکرؓ بھی نیچے
عمرؓ بھی نیچے
عثمان و علیؓ طلحہ اور زیبرؓ بھی نیچے
آج یہ حبشی غلام کعبہ کی چھت پر چڑھے گا اور میں دنیا کو بتاؤں گا کہ عزت اسی کےپاس ہوتی ہے جو رسول اللہﷺ کا غلام بنتا ہے۔
اللہ اکبر۔۔۔

My little daughter Fizza Nasir's effort
08/26/2023

My little daughter Fizza Nasir's effort

Address

Los Angeles, CA
10001

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nasir Leather Boot Co. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share